<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 19:18:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 19:18:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرٹیمس ٹو: چاند کے تاریخی سفر کے بعد خلا نوردوں کی زمین پر واپسی کی تیاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503297/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی خلائی ادارے کے آرٹیمس ٹو مشن پر مامور چار خلا نورد چاند کے تاریخی سفر کے بعد زمین واپسی کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں انہوں نے خلا سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اس غیر معمولی تجربے اور واپسی کے خطرناک مرحلے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلا نوردوں کا کہنا تھا کہ زمین کے ماحول میں داخلے کے دوران ان کا خلائی کیپسول شدید رفتار اور فضائی رگڑ کے باعث آگ کے گولے کی مانند بن جائے گا، جو مشن کا سب سے حساس مرحلہ ہے، کیونکہ اس دوران رفتار تقریباً 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتی ہے اور ہیٹ شیلڈ کو انتہائی درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس ٹو مشن کے خلا نوردوں نے چاند کے اُس حصے کا سفر کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا اور اس دوران انہوں نے زمین سے تقریباً 252 ہزار میل دور جا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ فاصلے تک جانے والے افراد بن گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل یہ اعزاز اپالو 13 کے خلا نوردوں کے پاس تھا، جو 56 سال تک برقرار رہا۔ خلا نوردوں نے بتایا کہ اس سفر کے دوران انہیں ابھی تک اپنے تجربات کو مکمل طور پر سمجھنے کا موقع نہیں ملا اور واپسی کا مرحلہ بھی ایک منفرد اور گہرا تجربہ ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشن کے دوران خلا نوردوں نے اپنے اہل خانہ سے مختصر رابطہ بھی کیا، جسے انہوں نے انتہائی جذباتی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق خلا میں رہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اپنے گھروں والوں سے بات کرتے، ہنستے اور بعض اوقات آبدیدہ ہوتے دیکھنا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے انہیں رشتوں کی اہمیت کا شدت سے احساس دلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایک نہایت جذباتی واقعہ بھی پیش آیا جب ایک خلا نورد نے اپنے ساتھی کے مرحوم شریکِ حیات کے نام پر چاند کے ایک نئے گڑھے کا نام رکھنے کی تجویز دی، جسے سن کر مشن کنٹرول سمیت کئی افراد آبدیدہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسی اعتبار سے بھی اس مشن کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ خلا نوردوں نے چاند کے قریب سے براہ راست مشاہدات کیے اور زمین پر موجود سائنس دانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر معلومات کا تبادلہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سل&lt;strong&gt;سلے کا اگلا مشن آرٹیمس 3&lt;/strong&gt; ہوگا، جس میں زمین کے نچلے مدار میں اورائن کیپسول اور خلابازوں کے چاند پر اتارنے کے درمیان باہمی رابطے اور جڑنے کا ایک اہم تجربہ شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد آرٹیمس 4 مشن متوقع ہے، جس کا ہدف 2028 مقرر کیا گیا ہے، اور اس کے تحت عملے کے ساتھ چاند پر پہلی لینڈنگ کی جائے گی، جو 1972 میں اپالو 17 کے بعد انسانی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب زمین پر ہیوسٹن میں قائم ناسا کے مشن کنٹرول سینٹر سے متصل کمروں میں درجنوں قمری سائنسدان اس ہفتے مسلسل مصروف رہے۔ یہ ماہرین آرٹیمس ٹو کے خلا نوردوں کی جانب سے خلائی جہاز سے موصول ہونے والے براہِ راست اور ریکارڈ شدہ صوتی پیغامات کو سنتے، ان پر غور و فکر کرتے اور اہم نکات قلمبند کرتے رہے، تاکہ اس مشن سے حاصل ہونے والی معلومات کو سائنسی تحقیق میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق انسانی آنکھ سے حاصل ہونے والا یہ مشاہداتی ڈیٹا چاند اور نظامِ شمسی کی تشکیل سے متعلق کئی نئے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے مستقبل کی تحقیق کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس پروگرام کے تحت یہ مشن ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا ہے بلکہ وہاں طویل مدتی قیام کے لیے بنیاد رکھنا بھی ہے۔ آنے والے مشنز میں خلائی جہازوں کے باہمی رابطے، چاند پر لینڈنگ اور مستقبل میں مریخ تک رسائی کے منصوبوں پر مزید کام کیا جائے گا۔ اس طرح یہ مشن ایک بڑے سلسلے کی پہلی کڑی ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس ٹو کے خلا نورد جمعہ کی شام زمین پر واپس پہنچیں گے اور کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سمندر میں لینڈنگ کریں گے، یوں تقریباً دس دن پر مشتمل یہ تاریخی مشن اپنے اختتام کو پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ کامیاب مشن انسانی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں مزید بڑے خلائی اہداف کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی خلائی ادارے کے آرٹیمس ٹو مشن پر مامور چار خلا نورد چاند کے تاریخی سفر کے بعد زمین واپسی کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں انہوں نے خلا سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اس غیر معمولی تجربے اور واپسی کے خطرناک مرحلے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا ہے۔</strong></p>
<p>خلا نوردوں کا کہنا تھا کہ زمین کے ماحول میں داخلے کے دوران ان کا خلائی کیپسول شدید رفتار اور فضائی رگڑ کے باعث آگ کے گولے کی مانند بن جائے گا، جو مشن کا سب سے حساس مرحلہ ہے، کیونکہ اس دوران رفتار تقریباً 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتی ہے اور ہیٹ شیلڈ کو انتہائی درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>آرٹیمس ٹو مشن کے خلا نوردوں نے چاند کے اُس حصے کا سفر کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا اور اس دوران انہوں نے زمین سے تقریباً 252 ہزار میل دور جا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ فاصلے تک جانے والے افراد بن گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل یہ اعزاز اپالو 13 کے خلا نوردوں کے پاس تھا، جو 56 سال تک برقرار رہا۔ خلا نوردوں نے بتایا کہ اس سفر کے دوران انہیں ابھی تک اپنے تجربات کو مکمل طور پر سمجھنے کا موقع نہیں ملا اور واپسی کا مرحلہ بھی ایک منفرد اور گہرا تجربہ ثابت ہوگا۔</p>
<p>مشن کے دوران خلا نوردوں نے اپنے اہل خانہ سے مختصر رابطہ بھی کیا، جسے انہوں نے انتہائی جذباتی قرار دیا۔</p>
<p>ان کے مطابق خلا میں رہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اپنے گھروں والوں سے بات کرتے، ہنستے اور بعض اوقات آبدیدہ ہوتے دیکھنا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے انہیں رشتوں کی اہمیت کا شدت سے احساس دلایا۔</p>
<p>اسی دوران ایک نہایت جذباتی واقعہ بھی پیش آیا جب ایک خلا نورد نے اپنے ساتھی کے مرحوم شریکِ حیات کے نام پر چاند کے ایک نئے گڑھے کا نام رکھنے کی تجویز دی، جسے سن کر مشن کنٹرول سمیت کئی افراد آبدیدہ ہو گئے۔</p>
<p>سائنسی اعتبار سے بھی اس مشن کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ خلا نوردوں نے چاند کے قریب سے براہ راست مشاہدات کیے اور زمین پر موجود سائنس دانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر معلومات کا تبادلہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سل<strong>سلے کا اگلا مشن آرٹیمس 3</strong> ہوگا، جس میں زمین کے نچلے مدار میں اورائن کیپسول اور خلابازوں کے چاند پر اتارنے کے درمیان باہمی رابطے اور جڑنے کا ایک اہم تجربہ شامل ہوگا۔</p>
<p>اس کے بعد آرٹیمس 4 مشن متوقع ہے، جس کا ہدف 2028 مقرر کیا گیا ہے، اور اس کے تحت عملے کے ساتھ چاند پر پہلی لینڈنگ کی جائے گی، جو 1972 میں اپالو 17 کے بعد انسانی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔</p>
<p>دوسری جانب زمین پر ہیوسٹن میں قائم ناسا کے مشن کنٹرول سینٹر سے متصل کمروں میں درجنوں قمری سائنسدان اس ہفتے مسلسل مصروف رہے۔ یہ ماہرین آرٹیمس ٹو کے خلا نوردوں کی جانب سے خلائی جہاز سے موصول ہونے والے براہِ راست اور ریکارڈ شدہ صوتی پیغامات کو سنتے، ان پر غور و فکر کرتے اور اہم نکات قلمبند کرتے رہے، تاکہ اس مشن سے حاصل ہونے والی معلومات کو سائنسی تحقیق میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق انسانی آنکھ سے حاصل ہونے والا یہ مشاہداتی ڈیٹا چاند اور نظامِ شمسی کی تشکیل سے متعلق کئی نئے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے مستقبل کی تحقیق کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آرٹیمس پروگرام کے تحت یہ مشن ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا ہے بلکہ وہاں طویل مدتی قیام کے لیے بنیاد رکھنا بھی ہے۔ آنے والے مشنز میں خلائی جہازوں کے باہمی رابطے، چاند پر لینڈنگ اور مستقبل میں مریخ تک رسائی کے منصوبوں پر مزید کام کیا جائے گا۔ اس طرح یہ مشن ایک بڑے سلسلے کی پہلی کڑی ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p>آرٹیمس ٹو کے خلا نورد جمعہ کی شام زمین پر واپس پہنچیں گے اور کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سمندر میں لینڈنگ کریں گے، یوں تقریباً دس دن پر مشتمل یہ تاریخی مشن اپنے اختتام کو پہنچے گا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ کامیاب مشن انسانی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں مزید بڑے خلائی اہداف کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503297</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 15:45:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09153724292ffcc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09153724292ffcc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
