<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 14:32:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 14:32:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا مذاکرات: پاکستان کا غیر ملکی وفود کو آن ارائیول ویزا دینے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503323/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آنے والے وفود کو ویزہ آن ارائیول مہیا کیا جائے گا اور مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو یہ سہولت میسر ہوگی۔ امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام آج اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں، جہاں پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک ایک ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت کی کوشش کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلام آباد ٹاکس میں کے لیے دیگر ممالک کے صحافیوں سمیت تمام وفود کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستان میں امیگریشن حکام انہیں آمد پر ویزا جاری کریں گے۔ تمام ایئرلائنز مذاکرات کے شرکاء کوبورڈنگ کی اجازت دینے کی ہدایت کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2042445190649221313'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2042445190649221313"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی انتظامیہ کے مطابق مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ان کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد شریک ہوگا۔ تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کسی سینئر نمائندے کی شرکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کے مطابق آخری وقت تک وفود کی آمد اور حتمی فہرست میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مذاکرات اسلام آباد کے معروف سرینا ہوٹل میں ہوں گے، جو ریڈ زون کے قریب واقع ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ہوٹل کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے اور علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستے بھی بند ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دو روز کی تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503314/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503314"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے اور مستقل امن کی طرف پیش رفت ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، امریکی افواج کے انخلا اور خطے میں فوجی کارروائیوں میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکا نے ان تمام نکات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو “قابلِ عمل” قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم کا ذخیرہ محدود یا ختم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/10130222c09465a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/10130222c09465a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید اختلاف لبنان کے معاملے پر بھی سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیل کی بمباری کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے وزیراعظم شبہازشریف نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار ثالثی کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ وفود کے درمیان پیغامات کی ترسیل بھی پاکستان کے ذریعے ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے کیونکہ اس کے ایران اور امریکا دونوں سے سفارتی تعلقات موجود ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کی طویل زمینی سرحد بھی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503319/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مذاکرات سے قبل ہی اعتماد کی شدید کمی موجود ہے۔ امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں اسرائیل کی عسکری کارروائیاں مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان کا مسئلہ اس عمل کا سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے، کیونکہ ایران فوری طور پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکا اس معاملے کو مذاکراتی دائرہ کار سے باہر قرار دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق فوری اور مکمل معاہدہ ممکن نظر نہیں آتا، تاہم اگر فریقین بات چیت جاری رکھتے ہیں تو یہ ایک بڑے سیاسی پیش رفت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اعتماد سازی سب سے اہم مرحلہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آنے والے وفود کو ویزہ آن ارائیول مہیا کیا جائے گا اور مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو یہ سہولت میسر ہوگی۔ امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام آج اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں، جہاں پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک ایک ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت کی کوشش کریں گے۔</strong></p>
<p>نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلام آباد ٹاکس میں کے لیے دیگر ممالک کے صحافیوں سمیت تمام وفود کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستان میں امیگریشن حکام انہیں آمد پر ویزا جاری کریں گے۔ تمام ایئرلائنز مذاکرات کے شرکاء کوبورڈنگ کی اجازت دینے کی ہدایت کردی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2042445190649221313'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2042445190649221313"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی انتظامیہ کے مطابق مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ان کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد شریک ہوگا۔ تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کسی سینئر نمائندے کی شرکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>پاکستانی حکام کے مطابق آخری وقت تک وفود کی آمد اور حتمی فہرست میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔</p>
<p>یہ مذاکرات اسلام آباد کے معروف سرینا ہوٹل میں ہوں گے، جو ریڈ زون کے قریب واقع ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ہوٹل کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے اور علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستے بھی بند ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دو روز کی تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503314/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503314"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے اور مستقل امن کی طرف پیش رفت ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، امریکی افواج کے انخلا اور خطے میں فوجی کارروائیوں میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب امریکا نے ان تمام نکات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو “قابلِ عمل” قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم کا ذخیرہ محدود یا ختم کرنا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/10130222c09465a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/10130222c09465a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مزید اختلاف لبنان کے معاملے پر بھی سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیل کی بمباری کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے وزیراعظم شبہازشریف نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار ثالثی کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ وفود کے درمیان پیغامات کی ترسیل بھی پاکستان کے ذریعے ہوگی۔</p>
<p>پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے کیونکہ اس کے ایران اور امریکا دونوں سے سفارتی تعلقات موجود ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کی طویل زمینی سرحد بھی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503319/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق مذاکرات سے قبل ہی اعتماد کی شدید کمی موجود ہے۔ امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں اسرائیل کی عسکری کارروائیاں مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان کا مسئلہ اس عمل کا سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے، کیونکہ ایران فوری طور پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکا اس معاملے کو مذاکراتی دائرہ کار سے باہر قرار دے رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق فوری اور مکمل معاہدہ ممکن نظر نہیں آتا، تاہم اگر فریقین بات چیت جاری رکھتے ہیں تو یہ ایک بڑے سیاسی پیش رفت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اعتماد سازی سب سے اہم مرحلہ ہوگا۔</p>
<p>مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503323</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 13:26:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/101334325669411.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/101334325669411.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/101334241f3a468.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/101334241f3a468.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/101335128c50b21.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/101335128c50b21.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/101335466ee22e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/101335466ee22e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
