<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 15:49:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 15:49:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اینٹی بایوٹکس کے استعمال کے دوران ڈائریا: کیا دوا درمیان میں چھوڑدینی چاہیے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503325/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریل انفیکشن کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار ہیں، لیکن ان کا استعمال جہاں نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے، وہاں انسانی جسم (بالخصوص نظامِ ہضم) میں موجود مفید بیکٹیریا کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ اکثر اسہال یا ڈائریا کی صورت میں نکلتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/diarrhea-due-to-antibiotics-should-you-stop-the-course-midway-doctor-answers-11333629?pfrom=home-ndtv_health"&gt;این ڈی ٹی وی کےمطابق&lt;/a&gt; نوئیڈا کے میکس سپر اسپیشلٹی ہسپتال کی ڈاکٹر شوانا ویشنوی کہتی ہیں کہ اینٹی بایوٹکس کا استعمال بعض اوقات نظامِ ہاضمہ پر اثر ڈال سکتا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو ڈائریا (دست)، متلی، قے یا دیگر ہاضمے کی شکایات ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دوائیں جسم میں موجود مفید بیکٹیریا  پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے نظامِ ہاضمہ میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے اور ڈائریا جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30358191'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358191"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اکثر مریض  ڈائریا کی صورت میں گھبرا کر اینٹی بائیوٹک کا استعمال بند کر دیتے ہیں، جو کہ ماہرین کے نزدیک ایک خطرناک عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اگر  اینٹی بایوٹک کورس کے درمیان ڈائریا یا دیگر سائیڈ ایفیکٹس ظاہر ہوں تو زیادہ تر صورتوں میں دوا خود سے بند کرنا مناسب نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادویات کو ادھورا چھوڑنے سے انفیکشن دوبارہ بڑھ سکتا ہے اور بچ جانے والے طاقتور جراثیم اس دوا کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتے ہیں، جس کے بعد وہ دوا آئندہ آپ پر اثر نہیں کرے گی۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کے مطابق اگر علاج مکمل نہ کیا جائے تو بیماری پوری طرح ختم نہیں ہوتی اور کچھ ہی دنوں میں دوبارہ حملہ آور ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر ویشنوی کا کہنا ہے کہ اگر ڈائریا معمولی ہو تو زیادہ پانی پی کر، صحت بخش غذا اور (ڈاکٹر کے مشورے سے) دہی یا پروبائیوٹکس کے ذریعے ہاضمہ درست رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، تاہم اگر حالت شدید ہو، بخار، پیٹ میں درد یا پاخانے میں خون جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ بغیر مشورہ کے اینٹی ڈائریا ادویات کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض اوقات یہ دوائیں انفیکشن کو مزید بگاڑ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30309067'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30309067"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احتیاطی تدابیر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینٹی بایوٹکس کے استعمال کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ یہ ادویات صرف ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کرے اور علامات بہتر ہونے کے باوجود علاج کا مکمل کورس لازمی طور پر پورا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی شخص کو کسی دوا سے الرجی ہو یا ماضی میں کوئی سائیڈ افیکٹ سامنے آیا ہو تو اس بارے میں ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاج کے دوران اگر کوئی سائیڈ ایفیکٹس ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی مشورہ لینا بہتر ہے تاکہ کسی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض اینٹی بائیوٹکس جلد کو حساس بنا دیتی ہیں، اس لیے براہِ راست تیز دھوپ سے بچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنتوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے پروبائیوٹکس یا دہی کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بیماری کی علامات میں کسی بھی تبدیلی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ وقت پر توجہ دینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینٹی بائیوٹکس کے مضر اثرات سے نمٹنے کا بہترین طریقہ دوا چھوڑنا نہیں بلکہ اپنے معالج سے مشورہ کرنا ہے تاکہ وہ خوراک میں تبدیلی یا علامات کو کنٹرول کرنے کا متبادل راستہ بتا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریل انفیکشن کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار ہیں، لیکن ان کا استعمال جہاں نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کرتا ہے، وہاں انسانی جسم (بالخصوص نظامِ ہضم) میں موجود مفید بیکٹیریا کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ اکثر اسہال یا ڈائریا کی صورت میں نکلتا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/health/diarrhea-due-to-antibiotics-should-you-stop-the-course-midway-doctor-answers-11333629?pfrom=home-ndtv_health">این ڈی ٹی وی کےمطابق</a> نوئیڈا کے میکس سپر اسپیشلٹی ہسپتال کی ڈاکٹر شوانا ویشنوی کہتی ہیں کہ اینٹی بایوٹکس کا استعمال بعض اوقات نظامِ ہاضمہ پر اثر ڈال سکتا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو ڈائریا (دست)، متلی، قے یا دیگر ہاضمے کی شکایات ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دوائیں جسم میں موجود مفید بیکٹیریا  پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے نظامِ ہاضمہ میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے اور ڈائریا جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30358191'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358191"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اکثر مریض  ڈائریا کی صورت میں گھبرا کر اینٹی بائیوٹک کا استعمال بند کر دیتے ہیں، جو کہ ماہرین کے نزدیک ایک خطرناک عمل ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق اگر  اینٹی بایوٹک کورس کے درمیان ڈائریا یا دیگر سائیڈ ایفیکٹس ظاہر ہوں تو زیادہ تر صورتوں میں دوا خود سے بند کرنا مناسب نہیں ہوتا۔</p>
<p>ادویات کو ادھورا چھوڑنے سے انفیکشن دوبارہ بڑھ سکتا ہے اور بچ جانے والے طاقتور جراثیم اس دوا کے خلاف مدافعت پیدا کر لیتے ہیں، جس کے بعد وہ دوا آئندہ آپ پر اثر نہیں کرے گی۔<br></p>
<p>ڈاکٹرز کے مطابق اگر علاج مکمل نہ کیا جائے تو بیماری پوری طرح ختم نہیں ہوتی اور کچھ ہی دنوں میں دوبارہ حملہ آور ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر ویشنوی کا کہنا ہے کہ اگر ڈائریا معمولی ہو تو زیادہ پانی پی کر، صحت بخش غذا اور (ڈاکٹر کے مشورے سے) دہی یا پروبائیوٹکس کے ذریعے ہاضمہ درست رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، تاہم اگر حالت شدید ہو، بخار، پیٹ میں درد یا پاخانے میں خون جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ بغیر مشورہ کے اینٹی ڈائریا ادویات کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض اوقات یہ دوائیں انفیکشن کو مزید بگاڑ سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30309067'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30309067"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>احتیاطی تدابیر</strong></p>
<p>اینٹی بایوٹکس کے استعمال کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ یہ ادویات صرف ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کرے اور علامات بہتر ہونے کے باوجود علاج کا مکمل کورس لازمی طور پر پورا کرے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی شخص کو کسی دوا سے الرجی ہو یا ماضی میں کوئی سائیڈ افیکٹ سامنے آیا ہو تو اس بارے میں ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔</p>
<p>علاج کے دوران اگر کوئی سائیڈ ایفیکٹس ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی مشورہ لینا بہتر ہے تاکہ کسی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔</p>
<p>بعض اینٹی بائیوٹکس جلد کو حساس بنا دیتی ہیں، اس لیے براہِ راست تیز دھوپ سے بچیں۔</p>
<p>آنتوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے پروبائیوٹکس یا دہی کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ بیماری کی علامات میں کسی بھی تبدیلی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ وقت پر توجہ دینا ضروری ہے۔</p>
<p>اینٹی بائیوٹکس کے مضر اثرات سے نمٹنے کا بہترین طریقہ دوا چھوڑنا نہیں بلکہ اپنے معالج سے مشورہ کرنا ہے تاکہ وہ خوراک میں تبدیلی یا علامات کو کنٹرول کرنے کا متبادل راستہ بتا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503325</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 12:05:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1012032983554a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1012032983554a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
