<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 12:34:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 12:34:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاند کے گرد سفر کے بعد آرٹیمس ٹو کے خلا باز بحفاظت زمین پر واپس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503348/artemis-2-astronauts-return-earth-safely</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیمس ٹو مشن کے چاروں خلاباز، خلا میں تقریباً دس دن گزارنے کے بعد جمعہ کے روز بحر الکاہل میں خیریت سے اتر گئے ہیں۔ ناسا کے اس گنبد نما کیپسول کو ’انٹیگریٹی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ مشن گزشتہ پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد انسانوں کا چاند کے قریب جانے والا پہلا سفر تھا، جسے سائنسی دنیا میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلائی کیپسول، جسے اورین کہا جاتا ہے، کامیابی کے ساتھ بحرالکاہل میں کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب پانی میں اترا۔ یہ لینڈنگ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 7 منٹ پر ہوئی۔ ناسا کے مطابق خلا باز مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان کی حالت تسلی بخش تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/artemis-ii-astronauts-hurtle-home-moon-toward-splashdown-2026-04-10/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق اس مشن کے دوران خلا باز زمین سے تقریباً 2 لاکھ 52 ہزار میل دور تک گئے، جو کہ اب تک انسان کی جانب سے خلا میں طے کی گئی سب سے زیادہ دوری میں سے ایک ہے۔ مجموعی طور پر اس سفر میں تقریباً 7 لاکھ میل کا فاصلہ طے کیا گیا، جس میں زمین کے گرد دو چکر اور چاند کے قریب سے گزرنا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوا تو اس کی رفتار آواز کی رفتار سے 33 گنا زیادہ تھی۔ اس تیز رفتاری اور رگڑ کی وجہ سے کیپسول کے باہر کا درجہ حرارت 5 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث چند منٹ کے لیے رابطہ منقطع ہو گیا تھا جو کہ منصوبے کا حصہ تھا۔ تاہم کیپسول نے رفتار کم کی، پیراشوٹ کھلے اور وہ آہستہ آہستہ سمندر میں اتر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر میں اترنے کا منظر ناسا کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا گیا جہاں تبصرہ نگاروں نے اسے ایک بہترین لینڈنگ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لینڈنگ کے بعد بحریہ کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیپسول کو محفوظ کیا اور چاروں خلا بازوں کو باہر نکالا۔ انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک بحری جہاز پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام خلا باز صحت مند ہیں اور انہیں مزید معائنے کے لیے جلد ہی ہیوسٹن لے جایا جائے گا، جہاں وہ اپنے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ ان خلابازوں میں کمانڈر وائزمین کے علاوہ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ مشن یکم اپریل کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا تھا۔ خلا بازوں میں تین امریکی اور ایک کینیڈین شامل تھے۔ اس مشن نے تاریخ بھی رقم کی کیونکہ اس میں پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی شہری نے چاند کے مشن میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس پروگرام کا مقصد آئندہ برسوں میں دوبارہ انسان کو چاند پر اتارنا ہے، جس کی منصوبہ بندی 2028 کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد طویل المدتی ہدف مریخ پر انسانی مشن بھیجنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں اس مشن کو بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا اور لاکھوں افراد نے اس کی لینڈنگ براہ راست دیکھی۔ اس کامیابی کو سائنسی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ایک روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا مختلف سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آرٹیمس ٹو مشن کے چاروں خلاباز، خلا میں تقریباً دس دن گزارنے کے بعد جمعہ کے روز بحر الکاہل میں خیریت سے اتر گئے ہیں۔ ناسا کے اس گنبد نما کیپسول کو ’انٹیگریٹی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ مشن گزشتہ پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد انسانوں کا چاند کے قریب جانے والا پہلا سفر تھا، جسے سائنسی دنیا میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>خلائی کیپسول، جسے اورین کہا جاتا ہے، کامیابی کے ساتھ بحرالکاہل میں کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب پانی میں اترا۔ یہ لینڈنگ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 7 منٹ پر ہوئی۔ ناسا کے مطابق خلا باز مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان کی حالت تسلی بخش تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/artemis-ii-astronauts-hurtle-home-moon-toward-splashdown-2026-04-10/">رائٹرز</a> کے مطابق اس مشن کے دوران خلا باز زمین سے تقریباً 2 لاکھ 52 ہزار میل دور تک گئے، جو کہ اب تک انسان کی جانب سے خلا میں طے کی گئی سب سے زیادہ دوری میں سے ایک ہے۔ مجموعی طور پر اس سفر میں تقریباً 7 لاکھ میل کا فاصلہ طے کیا گیا، جس میں زمین کے گرد دو چکر اور چاند کے قریب سے گزرنا شامل تھا۔</p>
<p>جب یہ کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوا تو اس کی رفتار آواز کی رفتار سے 33 گنا زیادہ تھی۔ اس تیز رفتاری اور رگڑ کی وجہ سے کیپسول کے باہر کا درجہ حرارت 5 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث چند منٹ کے لیے رابطہ منقطع ہو گیا تھا جو کہ منصوبے کا حصہ تھا۔ تاہم کیپسول نے رفتار کم کی، پیراشوٹ کھلے اور وہ آہستہ آہستہ سمندر میں اتر گیا۔</p>
<p>سمندر میں اترنے کا منظر ناسا کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا گیا جہاں تبصرہ نگاروں نے اسے ایک بہترین لینڈنگ قرار دیا۔</p>
<p>لینڈنگ کے بعد بحریہ کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیپسول کو محفوظ کیا اور چاروں خلا بازوں کو باہر نکالا۔ انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک بحری جہاز پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام خلا باز صحت مند ہیں اور انہیں مزید معائنے کے لیے جلد ہی ہیوسٹن لے جایا جائے گا، جہاں وہ اپنے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ ان خلابازوں میں کمانڈر وائزمین کے علاوہ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ مشن یکم اپریل کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا تھا۔ خلا بازوں میں تین امریکی اور ایک کینیڈین شامل تھے۔ اس مشن نے تاریخ بھی رقم کی کیونکہ اس میں پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی شہری نے چاند کے مشن میں حصہ لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آرٹیمس پروگرام کا مقصد آئندہ برسوں میں دوبارہ انسان کو چاند پر اتارنا ہے، جس کی منصوبہ بندی 2028 کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد طویل المدتی ہدف مریخ پر انسانی مشن بھیجنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔</p>
<p>دنیا بھر میں اس مشن کو بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا اور لاکھوں افراد نے اس کی لینڈنگ براہ راست دیکھی۔ اس کامیابی کو سائنسی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ایک روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا مختلف سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503348</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 09:56:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/110928421a1a641.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/110928421a1a641.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
