<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 13:11:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 13:11:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اعصابی درد اور پٹھوں کے کھنچاؤ میں کیا فرق ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503349/nerve-pain-muscle-spasm-difference</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روزمرہ زندگی میں بعض ہونے والے درد ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں، لیکن ہوسکتا ہے اس کی اصل وجہ مختلف ہو۔ خاص طور پر اعصابی درد اور پٹھوں کے درد میں فرق سمجھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ دونوں کی نوعیت اور علاج ایک دوسرے سے  الگ ہوتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ پٹھوں کے درد اور اعصابی درد کے درمیان فرق نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے نہ صرف علاج میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ مرض بگڑنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ ماہرین صحت کے نزدیک ان دونوں کے درمیان باریک مگر واضح فرق کو پہچاننا انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478794'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/lifestyle/health/nerve-pain-vs-muscle-pain-differences-symptoms-orthopaedic-surgeon-10623194/"&gt;انڈین ایکسپریس&lt;/a&gt; کے مطابق اندرپرستھ اپولو ہاسپٹل کے سینئر آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر راجو کہتے ہیں کہ اعصابی درد عموماً تیز، جلنے جیسا یا بجلی کے جھٹکے کی طرح محسوس ہوتا ہے جو ایک جگہ ٹہرنے کی بجائے جسم کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک پھیلتا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمر کی تکلیف اگر پاؤں کے انگوٹھے تک محسوس ہو، تو یہ واضح طور پر عرق النساء یا اعصابی درد کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ سن ہونا، سوئیاں چبھنا، جھنجھناہٹ یا کمزوری جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پٹھوں کا درد زیادہ تر ہلکا، بوجھل یا کھنچاؤ جیسا ہوتا ہے اور عام طور پر کسی مخصوص جگہ تک محدود رہتا ہے۔ یہ درد حرکت کرنے یا دبانے سے بڑھ جاتا ہے اور اکثر ورزش، زیادہ کام یا غلط اندازِ بیٹھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440285'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440285"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعصابی درد کی وجوہات میں عموماً نسوں پر دباؤ، سلِپ ڈسک، گردن یا ریڑھ کی ہڈی کے مسائل، کارپل ٹنل سنڈروم یا ذیابیطس شامل ہوتی ہیں، جبکہ پٹھوں کا درد زیادہ تر جسمانی تھکن، ہلکی چوٹ، یا پٹھوں کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درد ایک سے دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے، وقت کے ساتھ بڑھتا جائے یا روزمرہ کے کاموں میں رکاوٹ ڈالے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر اگر درد جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل رہا ہو، سن ہونا یا جھنجھناہٹ محسوس ہو، کمزوری یا چلنے پھرنے میں توازن  برقرار نہ رہے، یا پیشاب اور پاخانے پر کنٹرول متاثر ہو رہا ہو تو یہ خطرناک علامات ہو سکتی ہیں اور فوری طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ رات کے وقت بڑھنے والا درد یا آرام سے ٹھیک نہ ہونے والا درد بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر پٹھوں کا درد 48 سے 72 گھنٹوں میں آرام، برف کی ٹکور، مناسب پانی پینے، ہلکی مالش یا ہلکی ادویات سے بہتر ہو جاتا ہے، لیکن  اعصابی درد آرام کرنے سے ختم نہیں ہوتا اور اکثر رات کے وقت اس کی شدت بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے نیند متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے اگر اعصابی درد کی  تاکہ کسی سنگین پیچیدگی سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ:&lt;/strong&gt; کسی بھی طبی مسئلے کے لیے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روزمرہ زندگی میں بعض ہونے والے درد ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں، لیکن ہوسکتا ہے اس کی اصل وجہ مختلف ہو۔ خاص طور پر اعصابی درد اور پٹھوں کے درد میں فرق سمجھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ دونوں کی نوعیت اور علاج ایک دوسرے سے  الگ ہوتے ہیں۔</strong><br></p>
<p>اکثر لوگ پٹھوں کے درد اور اعصابی درد کے درمیان فرق نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے نہ صرف علاج میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ مرض بگڑنے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔ ماہرین صحت کے نزدیک ان دونوں کے درمیان باریک مگر واضح فرق کو پہچاننا انتہائی ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478794'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/lifestyle/health/nerve-pain-vs-muscle-pain-differences-symptoms-orthopaedic-surgeon-10623194/">انڈین ایکسپریس</a> کے مطابق اندرپرستھ اپولو ہاسپٹل کے سینئر آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر راجو کہتے ہیں کہ اعصابی درد عموماً تیز، جلنے جیسا یا بجلی کے جھٹکے کی طرح محسوس ہوتا ہے جو ایک جگہ ٹہرنے کی بجائے جسم کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک پھیلتا ہے،</p>
<p>کمر کی تکلیف اگر پاؤں کے انگوٹھے تک محسوس ہو، تو یہ واضح طور پر عرق النساء یا اعصابی درد کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ سن ہونا، سوئیاں چبھنا، جھنجھناہٹ یا کمزوری جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس پٹھوں کا درد زیادہ تر ہلکا، بوجھل یا کھنچاؤ جیسا ہوتا ہے اور عام طور پر کسی مخصوص جگہ تک محدود رہتا ہے۔ یہ درد حرکت کرنے یا دبانے سے بڑھ جاتا ہے اور اکثر ورزش، زیادہ کام یا غلط اندازِ بیٹھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔<br></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440285'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440285"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اعصابی درد کی وجوہات میں عموماً نسوں پر دباؤ، سلِپ ڈسک، گردن یا ریڑھ کی ہڈی کے مسائل، کارپل ٹنل سنڈروم یا ذیابیطس شامل ہوتی ہیں، جبکہ پٹھوں کا درد زیادہ تر جسمانی تھکن، ہلکی چوٹ، یا پٹھوں کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درد ایک سے دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے، وقت کے ساتھ بڑھتا جائے یا روزمرہ کے کاموں میں رکاوٹ ڈالے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>خاص طور پر اگر درد جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل رہا ہو، سن ہونا یا جھنجھناہٹ محسوس ہو، کمزوری یا چلنے پھرنے میں توازن  برقرار نہ رہے، یا پیشاب اور پاخانے پر کنٹرول متاثر ہو رہا ہو تو یہ خطرناک علامات ہو سکتی ہیں اور فوری طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ رات کے وقت بڑھنے والا درد یا آرام سے ٹھیک نہ ہونے والا درد بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>عام طور پر پٹھوں کا درد 48 سے 72 گھنٹوں میں آرام، برف کی ٹکور، مناسب پانی پینے، ہلکی مالش یا ہلکی ادویات سے بہتر ہو جاتا ہے، لیکن  اعصابی درد آرام کرنے سے ختم نہیں ہوتا اور اکثر رات کے وقت اس کی شدت بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے نیند متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>اس لیے اگر اعصابی درد کی  تاکہ کسی سنگین پیچیدگی سے بچا جا سکے۔</p>
<p><strong>نوٹ:</strong> کسی بھی طبی مسئلے کے لیے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503349</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 09:58:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/11094914adc7cfb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/11094914adc7cfb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
