<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 13:02:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Apr 2026 13:02:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیواروں کے پار وائی فائی کی پہنچ اور اس کے پیچھے چھپی ہالی ووڈ اداکارہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503427/wifi-range-walls-hollywood-actress</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والا وائی فائی آخر دیواروں کے پار کیسے کام کرتا ہے؟ اس سادہ مگر دلچسپ سوال کے پیچھے ایک ہالی ووڈ اداکارہ کی غیر معمولی سائنسی کاوش کی کہانی چھپی ہے، جس نے جدید وائرلیس دنیا کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا ٹوڈے سائنس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائی فائی سگنلز دراصل ریڈیو ویوز یعنی برقی مقناطیسی لہروں کی صورت میں منتقل ہوتے ہیں، جو روشنی، ایکس رے اور مائیکرو ویوز کی ہی فیملی کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 1940 کی دہائی میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ہیڈی لامار نے ایک انقلابی خیال پیش کیا جسے “فریکوئنسی ہوپنگ اسپریڈ اسپیکٹرم” کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں سگنل ایک ہی فریکوئنسی پر رہنے کے بجائے تیزی سے مختلف فریکوئنسیز پر منتقل ہوتا رہتا ہے، جس سے اسے روکنا یا ہیک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈی لامار نے یہ ایجاد موسیقار جارج انتھیل کے ساتھ مل کر دوسری جنگ عظیم کے دوران کی اور 1942 میں اس کا پیٹنٹ بھی حاصل کیا، تاہم اس وقت امریکی بحریہ نے اسے استعمال نہیں کیا۔ بعد ازاں یہی اصول جدید وائرلیس کمیونیکیشن، بشمول وائی فائی، کی بنیاد بنا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق وائی فائی عام طور پر 2.4 گیگا ہرٹز اور 5 گیگا ہرٹز فریکوئنسی پر کام کرتا ہے۔ چونکہ ان لہروں کی طول موج (ویولینتھ) زیادہ ہوتی ہے، اس لیے یہ دیواروں جیسے ٹھوس اجسام سے آسانی سے گزر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیواریں نظر آنے والی روشنی کو تو روک لیتی ہیں کیونکہ اس کی فریکوئنسی بہت زیادہ اور طول موج بہت کم ہوتی ہے، تاہم وائی فائی سگنلز کی لہریں نسبتاً بڑی ہوتی ہیں، اس لیے وہ دیوار کے ذرات سے ٹکرانے کے باوجود مکمل طور پر جذب نہیں ہوتیں بلکہ جزوی طور پر گزر جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب وائی فائی سگنل دیوار سے ٹکراتا ہے تو اس کا کچھ حصہ واپس پلٹ جاتا ہے، کچھ جذب ہو جاتا ہے جبکہ باقی حصہ دیوار کے پار پہنچ جاتا ہے، جس سے انٹرنیٹ کنکشن برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;البتہ دھات، کنکریٹ اور پانی جیسی چیزیں وائی فائی سگنلز کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ خاص طور پر دھات سگنلز کو تقریباً مکمل طور پر واپس منعکس کر دیتی ہے، جس سے سگنل کمزور ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ 2.4 گیگا ہرٹز سگنل زیادہ دور تک جاتا ہے اور دیواروں سے بہتر گزرتا ہے، جبکہ 5 گیگا ہرٹز تیز رفتار دیتا ہے مگر کم فاصلے تک مؤثر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق آج کا جدید وائی فائی اگرچہ مزید ترقی کر چکا ہے، تاہم ہیڈی لامار کی ایجاد نے اس میدان میں بنیادی کردار ادا کیا، جس کا اعتراف بعد ازاں کیا گیا اور انہیں بعد از مرگ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والا وائی فائی آخر دیواروں کے پار کیسے کام کرتا ہے؟ اس سادہ مگر دلچسپ سوال کے پیچھے ایک ہالی ووڈ اداکارہ کی غیر معمولی سائنسی کاوش کی کہانی چھپی ہے، جس نے جدید وائرلیس دنیا کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔</strong></p>
<p>انڈیا ٹوڈے سائنس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائی فائی سگنلز دراصل ریڈیو ویوز یعنی برقی مقناطیسی لہروں کی صورت میں منتقل ہوتے ہیں، جو روشنی، ایکس رے اور مائیکرو ویوز کی ہی فیملی کا حصہ ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 1940 کی دہائی میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ہیڈی لامار نے ایک انقلابی خیال پیش کیا جسے “فریکوئنسی ہوپنگ اسپریڈ اسپیکٹرم” کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں سگنل ایک ہی فریکوئنسی پر رہنے کے بجائے تیزی سے مختلف فریکوئنسیز پر منتقل ہوتا رہتا ہے، جس سے اسے روکنا یا ہیک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ہیڈی لامار نے یہ ایجاد موسیقار جارج انتھیل کے ساتھ مل کر دوسری جنگ عظیم کے دوران کی اور 1942 میں اس کا پیٹنٹ بھی حاصل کیا، تاہم اس وقت امریکی بحریہ نے اسے استعمال نہیں کیا۔ بعد ازاں یہی اصول جدید وائرلیس کمیونیکیشن، بشمول وائی فائی، کی بنیاد بنا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق وائی فائی عام طور پر 2.4 گیگا ہرٹز اور 5 گیگا ہرٹز فریکوئنسی پر کام کرتا ہے۔ چونکہ ان لہروں کی طول موج (ویولینتھ) زیادہ ہوتی ہے، اس لیے یہ دیواروں جیسے ٹھوس اجسام سے آسانی سے گزر سکتی ہیں۔</p>
<p>دیواریں نظر آنے والی روشنی کو تو روک لیتی ہیں کیونکہ اس کی فریکوئنسی بہت زیادہ اور طول موج بہت کم ہوتی ہے، تاہم وائی فائی سگنلز کی لہریں نسبتاً بڑی ہوتی ہیں، اس لیے وہ دیوار کے ذرات سے ٹکرانے کے باوجود مکمل طور پر جذب نہیں ہوتیں بلکہ جزوی طور پر گزر جاتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب وائی فائی سگنل دیوار سے ٹکراتا ہے تو اس کا کچھ حصہ واپس پلٹ جاتا ہے، کچھ جذب ہو جاتا ہے جبکہ باقی حصہ دیوار کے پار پہنچ جاتا ہے، جس سے انٹرنیٹ کنکشن برقرار رہتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>البتہ دھات، کنکریٹ اور پانی جیسی چیزیں وائی فائی سگنلز کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ خاص طور پر دھات سگنلز کو تقریباً مکمل طور پر واپس منعکس کر دیتی ہے، جس سے سگنل کمزور ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ 2.4 گیگا ہرٹز سگنل زیادہ دور تک جاتا ہے اور دیواروں سے بہتر گزرتا ہے، جبکہ 5 گیگا ہرٹز تیز رفتار دیتا ہے مگر کم فاصلے تک مؤثر رہتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق آج کا جدید وائی فائی اگرچہ مزید ترقی کر چکا ہے، تاہم ہیڈی لامار کی ایجاد نے اس میدان میں بنیادی کردار ادا کیا، جس کا اعتراف بعد ازاں کیا گیا اور انہیں بعد از مرگ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503427</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 10:16:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/13100548a481e3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/13100548a481e3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
