<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 16:24:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Apr 2026 16:24:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹو ٹوٹنے کے قریب: ٹرمپ نے امریکا کو نکال لیا تو اتحاد باقی رہ پائے گا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503447/nato-breakup-trump-us-withdrawal</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق کشیدگی نے مغربی اتحاد نیٹو میں دراڑیں مزید نمایاں کر دی ہیں، اور ماہرین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ  امریکا کو اس اتحاد سے الگ کر دیتے ہیں تو کیا نیٹو اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہ سکے گا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں، تاہم ایران سے متعلق حالیہ تنازع نے ان اختلافات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ نیٹو اتحادیوں کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی مؤقف کی مکمل حمایت نہ کرنے پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا اور اسے اتحاد پر ایک ایسا داغ قرار دیا جو کبھی نہیں مٹے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی اس صورتحال کو ’ٹرانس اٹلانٹک اسٹریس ٹیسٹ‘ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ موجودہ بحران نے نیٹو کی اصل طاقت کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503309/us-nato-withdrawal-suicide'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503309"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی صدر کے لیے فوری طور پر نیٹو سے نکلنا آسان نہیں کیونکہ اس کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، تاہم واشنگٹن دیگر اقدامات کے ذریعے بھی اتحاد کو کمزور کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات میں یورپ میں تعینات تقریباً 84 ہزار امریکی فوجیوں کا انخلا، فوجی اڈوں کی بندش اور اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات نیٹو کی بنیاد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2020 سے 2025 کے دوران نیٹو ارکان کے دفاعی بجٹ میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس کے باوجود یورپ اب بھی انٹیلی جنس، میزائل دفاع، لاجسٹکس اور سیٹلائٹ صلاحیتوں جیسے شعبوں میں امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503439/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503439"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق یورپ کو امریکی فوجی طاقت کا متبادل تیار کرنے کے لیے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد سرمایہ اور ایک دہائی یا اس سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہ سکتا ہے، کیونکہ یورپی ممالک کے پاس باہمی دفاعی تعاون جاری رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر روس کے ممکنہ خطرے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ جرمن فوجی قیادت کے مطابق روس 2027 سے 2029 کے درمیان دوبارہ اتنا مضبوط ہو سکتا ہے کہ نیٹو کے لیے خطرہ بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق نیٹو صرف یورپ کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ امریکا کے مفادات کے لیے بھی اہم رہا ہے۔ 2001 میں امریکہ پر حملوں کے بعد نیٹو نے پہلی بار اجتماعی دفاع کے اصول کے تحت افغانستان میں کارروائی کی تھی، جس میں کئی یورپی ممالک نے امریکی حمایت میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے متعلق کشیدگی نے مغربی اتحاد نیٹو میں دراڑیں مزید نمایاں کر دی ہیں، اور ماہرین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ  امریکا کو اس اتحاد سے الگ کر دیتے ہیں تو کیا نیٹو اپنی موجودہ شکل میں برقرار رہ سکے گا؟</strong></p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں، تاہم ایران سے متعلق حالیہ تنازع نے ان اختلافات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ نیٹو اتحادیوں کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی مؤقف کی مکمل حمایت نہ کرنے پر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیا اور اسے اتحاد پر ایک ایسا داغ قرار دیا جو کبھی نہیں مٹے گا۔</p>
<p>جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی اس صورتحال کو ’ٹرانس اٹلانٹک اسٹریس ٹیسٹ‘ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ موجودہ بحران نے نیٹو کی اصل طاقت کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503309/us-nato-withdrawal-suicide'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503309"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی صدر کے لیے فوری طور پر نیٹو سے نکلنا آسان نہیں کیونکہ اس کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، تاہم واشنگٹن دیگر اقدامات کے ذریعے بھی اتحاد کو کمزور کر سکتا ہے۔</p>
<p>ان اقدامات میں یورپ میں تعینات تقریباً 84 ہزار امریکی فوجیوں کا انخلا، فوجی اڈوں کی بندش اور اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات نیٹو کی بنیاد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2020 سے 2025 کے دوران نیٹو ارکان کے دفاعی بجٹ میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس کے باوجود یورپ اب بھی انٹیلی جنس، میزائل دفاع، لاجسٹکس اور سیٹلائٹ صلاحیتوں جیسے شعبوں میں امریکہ پر انحصار کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503439/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503439"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق یورپ کو امریکی فوجی طاقت کا متبادل تیار کرنے کے لیے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد سرمایہ اور ایک دہائی یا اس سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔</p>
<p>کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہ سکتا ہے، کیونکہ یورپی ممالک کے پاس باہمی دفاعی تعاون جاری رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔</p>
<p>اُدھر روس کے ممکنہ خطرے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ جرمن فوجی قیادت کے مطابق روس 2027 سے 2029 کے درمیان دوبارہ اتنا مضبوط ہو سکتا ہے کہ نیٹو کے لیے خطرہ بن جائے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق نیٹو صرف یورپ کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ امریکا کے مفادات کے لیے بھی اہم رہا ہے۔ 2001 میں امریکہ پر حملوں کے بعد نیٹو نے پہلی بار اجتماعی دفاع کے اصول کے تحت افغانستان میں کارروائی کی تھی، جس میں کئی یورپی ممالک نے امریکی حمایت میں حصہ لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503447</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 13:24:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/131305256550c98.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/131305256550c98.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
