<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 12:37:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Apr 2026 12:37:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں بھیانک آگ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503473/byd-electric-car-fire-china</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے شہر شینزین کے ایک صنعتی پارک میں لگی آگ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے پارکنگ گیراج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کمپنی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس حصے میں لگی جہاں ٹیسٹ کی جانے والی اور ناکارہ قرار دی گئی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز، جن کی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بھی تصدیق کی ہے، ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پارکنگ لاٹ کے بڑے حصے سے آگ کے بلند شعلے نکل رہے ہیں اور سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Byron_Wan/status/2043901112777093314?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Byron_Wan/status/2043901112777093314?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی کا عالمی ہیڈ کوارٹر بھی شینزین کے اسی پنگشن نامی ضلع میں واقع ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یعنی الیکٹرک گاڑیوں میں لگنے والی آگ عام پیٹرول یا ڈیزل انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503446/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503446"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی آگ نہ صرف زیادہ دیر تک لگی رہتی ہے بلکہ اسے بجھانا بھی ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں موجود بیٹریوں کی وجہ سے آگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حادثے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں بی وائی ڈی کے حصص کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کے شیئرز صفر اعشاریہ چھ فیصد تک گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور فی الحال آگ لگنے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے شہر شینزین کے ایک صنعتی پارک میں لگی آگ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے پارکنگ گیراج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</strong></p>
<p>منگل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کمپنی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس حصے میں لگی جہاں ٹیسٹ کی جانے والی اور ناکارہ قرار دی گئی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز، جن کی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے بھی تصدیق کی ہے، ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پارکنگ لاٹ کے بڑے حصے سے آگ کے بلند شعلے نکل رہے ہیں اور سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Byron_Wan/status/2043901112777093314?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Byron_Wan/status/2043901112777093314?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔</p>
<p>بی وائی ڈی کا عالمی ہیڈ کوارٹر بھی شینزین کے اسی پنگشن نامی ضلع میں واقع ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یعنی الیکٹرک گاڑیوں میں لگنے والی آگ عام پیٹرول یا ڈیزل انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503446/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503446"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی آگ نہ صرف زیادہ دیر تک لگی رہتی ہے بلکہ اسے بجھانا بھی ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں موجود بیٹریوں کی وجہ سے آگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>اس حادثے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں بی وائی ڈی کے حصص کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کے شیئرز صفر اعشاریہ چھ فیصد تک گر گئے۔</p>
<p>مقامی فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور فی الحال آگ لگنے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503473</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 09:19:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/140915566ef78ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/140915566ef78ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
