<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Blog</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 18:58:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 14 Apr 2026 18:58:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کا تنازع، پاکستان پر اثرات مرتب ہونا شروع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503489/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہر ماہ کے آخری دن باقاعدگی سے جاری کی جانے والی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آؤٹ لک کا ڈیٹا عموماً گزشتہ ماہ تک محدود ہوتا ہے، اسی بنا پر توقع کے مطابق مارچ 2026 کی رپورٹ میں 28 فروری 2026 سے چھڑنے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے کم ہی اعداد و شمار سامنے آ سکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موڑ پر ایک انتباہ ضروری ہے کہ اعداد و شمار کی شفافیت کو نہ صرف آزاد ماہرینِ معاشیات بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں نوٹ کیا تھا کہ پاکستان کے ان شعبوں کے ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیلات اور قابل اطمینان ہونے میں بھی مسائل ہیں۔پی بی ایس کے ایک ذریعے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر کام کی تکمیل جون کے بجائے اکتوبر تک موخر ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے آؤٹ لک میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈیاں تذبذب کا شکار ہیں، سپلائی میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جیو پولیٹیکل تناؤ میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔گزشتہ ہفتے جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی کیونکہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی شرائط پر فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ایک مضمون میں نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات مختلف خطوں پر مختلف ہیں اور جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی ذخائر کم ہیں، ایندھن، کھاد اور خوراک کے درآمدی بلوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھا رہا ہے اور کرنسیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ مشاہدہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ 19 مارچ 2026 تک ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے، جو فروری 2023 کے 3 ارب ڈالر سے تو بہت بہتر ہیں، لیکن ان میں تین دوست ممالک کے 12 ارب ڈالر کے سالانہ رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) شامل ہیں۔ اسی ماہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور گزشتہ ہفتے میچور ہونے والے یورو بانڈز کی مد میں مزید 1.4 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی غیر ملکی تجارتی منڈیوں تک رسائی پچھلے تین چار برس سے کمزور معیشت کی وجہ سے متاثر ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسے نان انویسٹمنٹ گریڈ میں رکھا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انتہائی پرخطر زمرے میں ہے، جہاں مالی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کاروباری اور معاشی ماحول میں بگاڑ کے باعث کمزور ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے یقینی طور پر پاکستان کے کاروباری ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے مارچ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی شروع ہونے سے پہلے ہی برآمدات میں 1,987 ملین ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی، جبکہ درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3,148 ملین ڈالر بڑھ گئیں، جو بگڑتے ہوئے تجارتی توازن کی علامت ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ میں ترسیلاتِ زر میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کے 4 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 3.8 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد لگایا گیا تھا لیکن پی بی ایس نے اسے 7.3 فیصد بتایا۔ تاہم ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 2.44 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنیادی افراطِ زر میں اضافے نے 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں جولائی تا مارچ کے دوران 610 ارب روپے کی کمی رہی۔ پیٹرولیم لیوی، جو آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اسے عوامی ردِعمل کے بعد 160 روپے سے کم کر کے 80 روپے فی لیٹر کیا گیا۔ وسائل کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی صرف غریب طبقے تک محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت اس کے لیے موٹر سائیکل مالکان کو فیول کارڈز جاری کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن یہ کارڈز ابھی تک پرنٹ بھی نہیں ہوئے تقسیم تو دور کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کی تیاری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم ترقیاتی اخراجات کے بجائے کرنٹ اخراجات میں کم از کم 2 ٹریلین روپے کی بڑی کٹوتی پر غور کرے گی اور صرف شرحِ سود میں کمی پر انحصار نہیں کرے گی۔ تمام غیر آپریشنل اخراجات کو دو سال کے لیے منجمد کر کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پیداوار بڑھے گی اور حکومت کو قرض لینے کی ضرورت کم پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ غیر یقینی دنیا میں ممالک کو ہماری مدد کی زیادہ ضرورت ہے اور ہم ان کے لیے موجود ہیں۔اب صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ فنڈ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا لیکن اس کے لیے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ہماری معاشی ٹیم کی مہارت کا بھی امتحان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 13 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہر ماہ کے آخری دن باقاعدگی سے جاری کی جانے والی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آؤٹ لک کا ڈیٹا عموماً گزشتہ ماہ تک محدود ہوتا ہے، اسی بنا پر توقع کے مطابق مارچ 2026 کی رپورٹ میں 28 فروری 2026 سے چھڑنے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے کم ہی اعداد و شمار سامنے آ سکے ہیں۔</strong></p>
<p>اس موڑ پر ایک انتباہ ضروری ہے کہ اعداد و شمار کی شفافیت کو نہ صرف آزاد ماہرینِ معاشیات بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں نوٹ کیا تھا کہ پاکستان کے ان شعبوں کے ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیلات اور قابل اطمینان ہونے میں بھی مسائل ہیں۔پی بی ایس کے ایک ذریعے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر کام کی تکمیل جون کے بجائے اکتوبر تک موخر ہو گئی ہے۔</p>
<p>مارچ کے آؤٹ لک میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈیاں تذبذب کا شکار ہیں، سپلائی میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جیو پولیٹیکل تناؤ میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔گزشتہ ہفتے جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی کیونکہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی شرائط پر فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ایک مضمون میں نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات مختلف خطوں پر مختلف ہیں اور جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی ذخائر کم ہیں، ایندھن، کھاد اور خوراک کے درآمدی بلوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھا رہا ہے اور کرنسیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ مشاہدہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ 19 مارچ 2026 تک ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے، جو فروری 2023 کے 3 ارب ڈالر سے تو بہت بہتر ہیں، لیکن ان میں تین دوست ممالک کے 12 ارب ڈالر کے سالانہ رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) شامل ہیں۔ اسی ماہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور گزشتہ ہفتے میچور ہونے والے یورو بانڈز کی مد میں مزید 1.4 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔</p>
<p>پاکستان کی غیر ملکی تجارتی منڈیوں تک رسائی پچھلے تین چار برس سے کمزور معیشت کی وجہ سے متاثر ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسے نان انویسٹمنٹ گریڈ میں رکھا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انتہائی پرخطر زمرے میں ہے، جہاں مالی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کاروباری اور معاشی ماحول میں بگاڑ کے باعث کمزور ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے یقینی طور پر پاکستان کے کاروباری ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔</p>
<p>پی بی ایس کے مارچ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی شروع ہونے سے پہلے ہی برآمدات میں 1,987 ملین ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی، جبکہ درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3,148 ملین ڈالر بڑھ گئیں، جو بگڑتے ہوئے تجارتی توازن کی علامت ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ میں ترسیلاتِ زر میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کے 4 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 3.8 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔</p>
<p>مارچ کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد لگایا گیا تھا لیکن پی بی ایس نے اسے 7.3 فیصد بتایا۔ تاہم ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 2.44 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنیادی افراطِ زر میں اضافے نے 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں جولائی تا مارچ کے دوران 610 ارب روپے کی کمی رہی۔ پیٹرولیم لیوی، جو آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اسے عوامی ردِعمل کے بعد 160 روپے سے کم کر کے 80 روپے فی لیٹر کیا گیا۔ وسائل کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی صرف غریب طبقے تک محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت اس کے لیے موٹر سائیکل مالکان کو فیول کارڈز جاری کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن یہ کارڈز ابھی تک پرنٹ بھی نہیں ہوئے تقسیم تو دور کی بات ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کی تیاری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم ترقیاتی اخراجات کے بجائے کرنٹ اخراجات میں کم از کم 2 ٹریلین روپے کی بڑی کٹوتی پر غور کرے گی اور صرف شرحِ سود میں کمی پر انحصار نہیں کرے گی۔ تمام غیر آپریشنل اخراجات کو دو سال کے لیے منجمد کر کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پیداوار بڑھے گی اور حکومت کو قرض لینے کی ضرورت کم پڑے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ غیر یقینی دنیا میں ممالک کو ہماری مدد کی زیادہ ضرورت ہے اور ہم ان کے لیے موجود ہیں۔اب صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ فنڈ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا لیکن اس کے لیے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ہماری معاشی ٹیم کی مہارت کا بھی امتحان ہوگا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 13 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503489</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 11:31:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1411300415e0161.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1411300415e0161.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
