<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 12:32:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Apr 2026 12:32:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’اخلاق سے عاری جمہوریت آمریت بن جاتی ہے‘: پوپ لیو کا ٹرمپ کی تنقید پر جواب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503521/democracy-without-ethics-becomes-dictatorship-pope-leo-president-donald-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسیحی برادری کے عالمی پیشوا پوپ لیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جمہوری نظام اخلاقی اقدار سے محروم ہو جائے تو یہ ’اکثریتی آمریت‘ میں بدل سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویٹیکن کی جانب سے یہ پیغام ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کے پہلے امریکی نژاد پوپ نے جمہوری معاشروں میں طاقت کے استعمال کے موضوع پر ہونے والے ایک اجلاس کے شرکا کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ جمہوریت تب ہی صحت مند رہتی ہے جب اس کی بنیادیں انسانی وقار اور اخلاقی قوانین پر استوار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوپ لیو نے اپنے خط میں واضح کیا کہ اگر اخلاقی بنیادیں موجود نہ ہوں تو جمہوریت کے نام پر یا تو اکثریت کی آمریت قائم ہو جاتی ہے یا پھر یہ معاشی اور تکنیکی اشرافیہ کے غلبے کا نقاب بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503464/trump-ai-image-controversy'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ طاقت بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ’عوامی بھلائی‘ کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی اتھارٹی کا جواز معاشی یا فوجی طاقت جمع کرنے میں نہیں بلکہ اس حکمت اور فضیلت میں ہے جس کے ساتھ اسے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خط ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب پوپ لیو افریقہ کے دس روزہ دورے پر ہیں اور صدر ٹرمپ نے انہیں حال ہی میں ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی ناراضی کی بڑی وجہ پوپ کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ جنگ پر مسلسل تنقید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پوپ خارجہ پالیسی کے معاملے میں ’انتہائی برے‘ ہیں اور انہیں سیاست کے بجائے اپنے مذہبی فرائض پر توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پوپ لیو نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں صاف کہا کہ وہ صدر کی تنقید کے باوجود امن کی کال دیتے رہیں گے اور انہیں ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503448/pope-criticism-trump-opposition-usa'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503448"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پوپ نے جمہوری رہنماؤں کو طاقت کے لالچ سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے ’قناعت اور اعتدال‘ کو ضروری قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ سچا اعتدال انسان کو خود پسندی سے روکتا ہے اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف ایک حفاظتی دیوار کا کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پوپ نے اپنے خط میں براہِ راست امریکا یا صدر ٹرمپ کا نام نہیں لیا، لیکن ماہرین اسے موجودہ عالمی حالات اور خاص طور پر وائٹ ہاؤس کے ساتھ جاری حالیہ تنازع کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اور اخلاقی پیغام قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسیحی برادری کے عالمی پیشوا پوپ لیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر جمہوری نظام اخلاقی اقدار سے محروم ہو جائے تو یہ ’اکثریتی آمریت‘ میں بدل سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ویٹیکن کی جانب سے یہ پیغام ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>تاریخ کے پہلے امریکی نژاد پوپ نے جمہوری معاشروں میں طاقت کے استعمال کے موضوع پر ہونے والے ایک اجلاس کے شرکا کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ جمہوریت تب ہی صحت مند رہتی ہے جب اس کی بنیادیں انسانی وقار اور اخلاقی قوانین پر استوار ہوں۔</p>
<p>پوپ لیو نے اپنے خط میں واضح کیا کہ اگر اخلاقی بنیادیں موجود نہ ہوں تو جمہوریت کے نام پر یا تو اکثریت کی آمریت قائم ہو جاتی ہے یا پھر یہ معاشی اور تکنیکی اشرافیہ کے غلبے کا نقاب بن جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503464/trump-ai-image-controversy'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503464"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ طاقت بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ’عوامی بھلائی‘ کے لیے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی اتھارٹی کا جواز معاشی یا فوجی طاقت جمع کرنے میں نہیں بلکہ اس حکمت اور فضیلت میں ہے جس کے ساتھ اسے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ خط ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب پوپ لیو افریقہ کے دس روزہ دورے پر ہیں اور صدر ٹرمپ نے انہیں حال ہی میں ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کی ناراضی کی بڑی وجہ پوپ کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ جنگ پر مسلسل تنقید ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پوپ خارجہ پالیسی کے معاملے میں ’انتہائی برے‘ ہیں اور انہیں سیاست کے بجائے اپنے مذہبی فرائض پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>تاہم پوپ لیو نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں صاف کہا کہ وہ صدر کی تنقید کے باوجود امن کی کال دیتے رہیں گے اور انہیں ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503448/pope-criticism-trump-opposition-usa'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503448"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پوپ نے جمہوری رہنماؤں کو طاقت کے لالچ سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے ’قناعت اور اعتدال‘ کو ضروری قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ سچا اعتدال انسان کو خود پسندی سے روکتا ہے اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف ایک حفاظتی دیوار کا کام کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ پوپ نے اپنے خط میں براہِ راست امریکا یا صدر ٹرمپ کا نام نہیں لیا، لیکن ماہرین اسے موجودہ عالمی حالات اور خاص طور پر وائٹ ہاؤس کے ساتھ جاری حالیہ تنازع کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اور اخلاقی پیغام قرار دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503521</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 09:20:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/150918010a14f60.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/150918010a14f60.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
