<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 11:43:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 11:43:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی برآمدات بند، ایرانی معیشت کب تک کھڑی رہ پائے گی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503569/iran-oil-exports-economy</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران امریکی ناکہ بندی کے باوجود تقریباً دو ماہ تک تیل کی برآمدات بند ہونے کے باوجود اپنی پیداوار جاری رکھ سکتا ہے، تاہم اس کے بعد اسے پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے جس سے عالمی منڈی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد ایران کی یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جو زیادہ تر چین کو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران موجودہ پیداوار یعنی تقریباً 35 لاکھ بیرل یومیہ کو بغیر برآمدات کے تقریباً دو ماہ تک برقرار رکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنسلٹنسی ادارے FGE NextantECA کے مطابق اگر ایران روزانہ 5 لاکھ بیرل پیداوار کم کر دے تو یہ مدت تین ماہ تک بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس زمین پر تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 12 کروڑ 20 لاکھ بیرل ہے، جس میں سے تقریباً 9 کروڑ بیرل استعمال کے لیے دستیاب ہیں۔ جب یہ ذخائر بھر جائیں گے تو ایران کو لازماً اپنی پیداوار کم کرنا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ادارہ Energy Aspects کے مطابق ایران کے پاس قابل استعمال ذخیرہ اس سے کہیں کم، تقریباً 3 کروڑ بیرل ہے۔ اس اندازے کے تحت ایران صرف 16 دن تک موجودہ برآمدی سطح برقرار رکھ سکتا ہے، جس کے بعد ذخیرہ بھر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر ناکہ بندی مئی تک جاری رہی تو ایران کو اپنی پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے پہلے ہی متاثرہ عالمی تیل سپلائی مزید سکڑ جائے گی اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503568/hormuz-strait-iran-no-attack-oman-ships'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران میں مقامی ریفائنریاں روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل استعمال کرتی ہیں، جبکہ اضافی تیل کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئل ٹینکرز کو عارضی گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ پیداوار میں کمی کو کچھ عرصے تک مؤخر کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کے دوران متعدد جہازوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے، جن میں چینی ملکیت کا ایک ٹینکر بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد اب تک ایران سے منسلک آٹھ آئل ٹینکرز کو روکا جا چکا ہے، جبکہ ایک امریکی جنگی جہاز نے خلیج عمان میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو ٹینکرز کو بھی روک دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران امریکی ناکہ بندی کے باوجود تقریباً دو ماہ تک تیل کی برآمدات بند ہونے کے باوجود اپنی پیداوار جاری رکھ سکتا ہے، تاہم اس کے بعد اسے پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے جس سے عالمی منڈی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>توانائی کے ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد ایران کی یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جو زیادہ تر چین کو جاتی ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران موجودہ پیداوار یعنی تقریباً 35 لاکھ بیرل یومیہ کو بغیر برآمدات کے تقریباً دو ماہ تک برقرار رکھ سکتا ہے۔</p>
<p>کنسلٹنسی ادارے FGE NextantECA کے مطابق اگر ایران روزانہ 5 لاکھ بیرل پیداوار کم کر دے تو یہ مدت تین ماہ تک بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس زمین پر تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 12 کروڑ 20 لاکھ بیرل ہے، جس میں سے تقریباً 9 کروڑ بیرل استعمال کے لیے دستیاب ہیں۔ جب یہ ذخائر بھر جائیں گے تو ایران کو لازماً اپنی پیداوار کم کرنا پڑے گی۔</p>
<p>دوسری جانب ادارہ Energy Aspects کے مطابق ایران کے پاس قابل استعمال ذخیرہ اس سے کہیں کم، تقریباً 3 کروڑ بیرل ہے۔ اس اندازے کے تحت ایران صرف 16 دن تک موجودہ برآمدی سطح برقرار رکھ سکتا ہے، جس کے بعد ذخیرہ بھر جائے گا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر ناکہ بندی مئی تک جاری رہی تو ایران کو اپنی پیداوار میں نمایاں کمی کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے پہلے ہی متاثرہ عالمی تیل سپلائی مزید سکڑ جائے گی اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503568/hormuz-strait-iran-no-attack-oman-ships'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران میں مقامی ریفائنریاں روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل استعمال کرتی ہیں، جبکہ اضافی تیل کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئل ٹینکرز کو عارضی گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ پیداوار میں کمی کو کچھ عرصے تک مؤخر کیا جا سکے۔</p>
<p>ادھر امریکی فوج کے مطابق ناکہ بندی کے دوران متعدد جہازوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے، جن میں چینی ملکیت کا ایک ٹینکر بھی شامل ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد اب تک ایران سے منسلک آٹھ آئل ٹینکرز کو روکا جا چکا ہے، جبکہ ایک امریکی جنگی جہاز نے خلیج عمان میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو ٹینکرز کو بھی روک دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503569</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 09:52:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/16094608fbe00e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/16094608fbe00e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
