<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 13:06:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 13:06:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یو اے ای کا قرضہ واپس کرنے کا دباؤ، پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503570/saudi-arabia-funds-state-bank</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ اسے سعودی عرب کی وزارت خزانہ کی جانب سے دو ارب ڈالر کے فنڈز موصول ہو گئے ہیں۔ یہ رقم اس 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ کا حصہ ہے جس کا وعدہ سعودی عرب نے پاکستان کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 16 مارچ کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے یہ رقم آئندہ ہفتے تک منتقل کر دی جائے گی، جو اب موصول ہونا شروع ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2044629301681905947?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2044629301681905947?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، سعودی عرب نے پاکستان کے پاس پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں بھی تین سال کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد اب یہ رقم ہر سال رول اوور (مدت میں اضافے) کے طریقہ کار کے بجائے طویل عرصے کے لیے پاکستان کے پاس رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اس وقت متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے، جس کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ یہ حالیہ مدد پاکستان کو اس ادائیگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی خلا کو پُر کرنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارت خزانہ کے ایک ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ سعودی عرب پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پر اتفاق کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے ایک اہم وقت پر آیا ہے، جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے بلکہ ملک کے بیرونی کھاتوں میں بھی بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو جون تک 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مثبت خبر کے بعد عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے انٹرنیشنل بانڈز کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو فروری کے بعد اپنی بہترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تعاون صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ دفاعی شعبے میں بھی گہرا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال دونوں ممالک نے ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دوران جب سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے ہوئے، تو پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے جنگی طیارے اور معاون عملہ وہاں روانہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے ایک اہم ثالث کے طور پر بھی ابھرا ہے، جو خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے ماضی میں بھی پاکستان کی معاشی مشکلات میں ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔ 2018 میں بھی ریاض نے 6 ارب ڈالر کا پیکیج دیا تھا جس میں 3 ارب ڈالر نقد ڈپازٹ اور 3 ارب ڈالر ادھار تیل کی سہولت شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی ادائیگی کے حوالے سے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، جن میں یورو بانڈز اور تجارتی قرضے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اپنی معاشی اصلاحات کو جاری رکھنے اور ذخائر کو مقررہ حد تک برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ اسے سعودی عرب کی وزارت خزانہ کی جانب سے دو ارب ڈالر کے فنڈز موصول ہو گئے ہیں۔ یہ رقم اس 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹ کا حصہ ہے جس کا وعدہ سعودی عرب نے پاکستان کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا تھا۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 16 مارچ کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے یہ رقم آئندہ ہفتے تک منتقل کر دی جائے گی، جو اب موصول ہونا شروع ہو گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2044629301681905947?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2044629301681905947?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ، سعودی عرب نے پاکستان کے پاس پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں بھی تین سال کی توسیع کر دی ہے، جس کے بعد اب یہ رقم ہر سال رول اوور (مدت میں اضافے) کے طریقہ کار کے بجائے طویل عرصے کے لیے پاکستان کے پاس رہے گی۔</p>
<p>پاکستان کو اس وقت متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے، جس کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ تھا۔</p>
<p>سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ یہ حالیہ مدد پاکستان کو اس ادائیگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی خلا کو پُر کرنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>سعودی وزارت خزانہ کے ایک ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ سعودی عرب پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پر اتفاق کر چکا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے ایک اہم وقت پر آیا ہے، جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے بلکہ ملک کے بیرونی کھاتوں میں بھی بہتری آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو جون تک 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔</p>
<p>اس مثبت خبر کے بعد عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے انٹرنیشنل بانڈز کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو فروری کے بعد اپنی بہترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تعاون صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ دفاعی شعبے میں بھی گہرا ہوا ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال دونوں ممالک نے ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>حالیہ مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دوران جب سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے ہوئے، تو پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے جنگی طیارے اور معاون عملہ وہاں روانہ کیا۔</p>
<p>دوسری طرف، پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے ایک اہم ثالث کے طور پر بھی ابھرا ہے، جو خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p>سعودی عرب نے ماضی میں بھی پاکستان کی معاشی مشکلات میں ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔ 2018 میں بھی ریاض نے 6 ارب ڈالر کا پیکیج دیا تھا جس میں 3 ارب ڈالر نقد ڈپازٹ اور 3 ارب ڈالر ادھار تیل کی سہولت شامل تھی۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی ادائیگی کے حوالے سے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، جن میں یورو بانڈز اور تجارتی قرضے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اپنی معاشی اصلاحات کو جاری رکھنے اور ذخائر کو مقررہ حد تک برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503570</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 10:23:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/16094052a39b076.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/16094052a39b076.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
