<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 13:25:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 13:25:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بڑی خبر آنے والی ہے‘: صدر ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان 34 سال بعد تاریخی مذاکرات کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503573/trump-announces-israel-lebanon-talks</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جنگ بندی کے لیتے آج براہ راست مذاکرات کے لیے ایک میز پر بیٹھیں گے۔ یہ گزشتہ 34 سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہوگا جب دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام براہ راست سفارتی رابطہ کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کی آخری کوشش نوے کی دہائی کے اوائل میں کی گئی تھی، جس کے بعد سے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی ریکارڈ کے مطابق، آخری بار جب اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں نے امن کے وسیع تر فریم ورک پر بات چیت کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھنے پر اتفاق کیا تھا، وہ 1991 کی مشہور ’میڈرڈ کانفرنس‘ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی سربراہی اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ 1993 تک واشنگٹن میں جاری رہا۔ تاہم، تمام تر کوششوں کے باوجود وہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور کسی باضابطہ امن معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی ختم ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1993 کے بعد سے اب تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا ہر رابطہ بالواسطہ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان جاری دشمنی اور لبنان کا 1955 کا وہ قانون ہے جو تاحال تکنیکی طور پر نافذ العمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانون لبنانی شہریوں اور ریاست کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی یا سفارتی رابطے سے سختی سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کی سیاست میں حزب اللہ کے گہرے اثر و رسوخ نے بھی براہ راست مذاکرات کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ یا تو اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ذریعے ہوتا رہا ہے یا پھر امریکا اس میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صدر ٹرمپ کی جانب سے براہ راست مذاکرات کا یہ اعلان مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جلد اہم بات چیت ہونے جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ”کچھ گنجائش پیدا کرنے“ کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116412252214963423/embed" class="truthsocial-embed" style="max-width: 100%; border: 0" width="600" allowfullscreen="allowfullscreen"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;script src="https://truthsocial.com/embed.js" async="async"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان گزشتہ 34 برسوں سے کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اب یہ تعطل ختم ہونے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور خطے میں استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جنگ بندی کے لیتے آج براہ راست مذاکرات کے لیے ایک میز پر بیٹھیں گے۔ یہ گزشتہ 34 سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہوگا جب دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام براہ راست سفارتی رابطہ کریں گے۔</strong></p>
<p>اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کی آخری کوشش نوے کی دہائی کے اوائل میں کی گئی تھی، جس کے بعد سے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے۔</p>
<p>تاریخی ریکارڈ کے مطابق، آخری بار جب اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں نے امن کے وسیع تر فریم ورک پر بات چیت کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھنے پر اتفاق کیا تھا، وہ 1991 کی مشہور ’میڈرڈ کانفرنس‘ تھی۔</p>
<p>اس تاریخی سربراہی اجلاس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ 1993 تک واشنگٹن میں جاری رہا۔ تاہم، تمام تر کوششوں کے باوجود وہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے اور کسی باضابطہ امن معاہدے پر دستخط کیے بغیر ہی ختم ہو گئے۔</p>
<p>1993 کے بعد سے اب تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا ہر رابطہ بالواسطہ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان جاری دشمنی اور لبنان کا 1955 کا وہ قانون ہے جو تاحال تکنیکی طور پر نافذ العمل ہے۔</p>
<p>یہ قانون لبنانی شہریوں اور ریاست کو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تجارتی یا سفارتی رابطے سے سختی سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان کی سیاست میں حزب اللہ کے گہرے اثر و رسوخ نے بھی براہ راست مذاکرات کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کیں۔</p>
<p>گزشتہ تین دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ یا تو اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ذریعے ہوتا رہا ہے یا پھر امریکا اس میں ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔</p>
<p>اب صدر ٹرمپ کی جانب سے براہ راست مذاکرات کا یہ اعلان مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جلد اہم بات چیت ہونے جا رہی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ”کچھ گنجائش پیدا کرنے“ کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116412252214963423/embed" class="truthsocial-embed" style="max-width: 100%; border: 0" width="600" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe><script src="https://truthsocial.com/embed.js" async="async"></script>
</raw-html>
<p>انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان گزشتہ 34 برسوں سے کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی، تاہم اب یہ تعطل ختم ہونے جا رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور خطے میں استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503573</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 10:15:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/16100742b1f7427.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/16100742b1f7427.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
