<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 15:44:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 15:44:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کا کم بل: اے سی، فریج اور ایئرکولر استعمال کرنے کا درست طریقہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503574/reduce-electricity-bill-ac-fridge-cooler-usage</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موسم گرما کی شدت اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ چند اہم تبدیلیوں اور احتیاطی تدابیر سے آپ اپنے بجلی کے بل میں 30 سے 40 فیصد تک کمی لا سکتے ہی&lt;/strong&gt;ں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی گھروں میں اے سی، کولر اور فریج کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث بجلی کے بل میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف زیادہ استعمال نہیں بلکہ ان برقی آلات کے غلط استعمال سے بھی بل زیادہ آتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408767'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408767"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایئر کنڈیشنر اور بجلی کی بچت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ شدید گرمی میں کمرہ  جلدی ٹھنڈا کرنے کے لیے اے سی کو انتہائی کم درجہ حرارت (16 یا 18 ڈگری) پر سیٹ کر دیتے ہیں، جس سے مشین پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور بجلی کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہترین کارکردگی کے لیے اے سی کو ہمیشہ 24 سے 26 ڈگری کے درمیاں چلائیں۔ اس درجہ حرارت پر اے سی کا کمپریسر کم بجلی لیتا ہے اور کمرہ بھی ٹھنڈا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اے سی استعمال کرتے وقت دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنا ضروری ہے تاکہ ٹھنڈی ہوا باہر نہ نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے سی کے ساتھ ہلکی رفتار پر چھت والا پنکھا بھی چلائیں، اس سے ٹھنڈی ہوا پورے کمرے میں جلدی پھیل جائے گی جس سے اے سی پر بوجھ کم ہوگا اور بجلی بھی کم خرچ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر 15 دن بعد اے سی کے فلٹرز صاف کریں۔ گندے فلٹرز بجلی کی کھپت میں 15 فیصد تک اضافہ کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464895'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں میں پرانے پیلے بلب کے بجائے ایل ای ڈی استعمال کریں کیونکہ پیلے بلب حرارت پیدا کرتے ہیں جس سے اے سی پر لوڈ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فریج سے بجلی کی بچت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریج گھر کا وہ واحد الیکٹرانک آئٹم ہے جو 24 گھنٹے چلتا ہے، اس لیے اس کی بچت سب سے زیادہ اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریج کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے بار بار کھولنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ہر بار دروازہ کھلنے سے اندر کی ٹھنڈک کم ہو جاتی ہے اور کمپریسر کو دوبارہ زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح گرم کھانا سیدھا فریج میں رکھنے کے بجائے پہلے باہر ٹھنڈا ہونے دیں، پھر فریج میں رکھیں۔ گرم کھانا رکھنے سے فریج کو اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے دگنی بجلی خرچ کرنی پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریج کو دیوار سے کم از کم 6 انچ دور رکھیں تاکہ اس کی پشت پر موجود کوائلز سے گرمی آسانی سے خارج ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایئر کولر: کراس وینٹیلیشن ضروری ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرکولر کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ ایئر کولر کو اگر غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ صرف حبس پیدا کرتا ہے اور بجلی ضائع ہوتی ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30397048'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کولر کو ہمیشہ کھڑکی یا دروازے کے پاس رکھیں تاکہ وہ باہر سے تازہ ہوا کھینچ سکے۔ کولر ”کراس وینٹیلیشن“ کے بغیر صحیح ٹھنڈک نہیں دیتا۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بند کمرے میں کولر چلانے سے نمی تو بڑھتی ہے لیکن کولنگ کم ہوتی ہے اور بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کولر کی گھاس یا کولنگ پیڈز پر مٹی جمع ہو جائے تو ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ سیزن کے شروع میں اور درمیان میں پیڈز کی صفائی یا تبدیلی بل کم کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیزن شروع ہونے سے پہلے تمام مشینوں کی ماہر ٹیکنیشن سے سروس کروائیں تاکہ وہ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان چھوٹی چھوٹی عادتوں کو اپنا کر آپ نہ صرف اپنی مشینوں کی زندگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ مہینے کے آخر میں بجلی کے بھاری بھرکم بل سے بھی نجات پا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موسم گرما کی شدت اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ چند اہم تبدیلیوں اور احتیاطی تدابیر سے آپ اپنے بجلی کے بل میں 30 سے 40 فیصد تک کمی لا سکتے ہی</strong>ں۔</p>
<p>گرمی کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی گھروں میں اے سی، کولر اور فریج کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث بجلی کے بل میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف زیادہ استعمال نہیں بلکہ ان برقی آلات کے غلط استعمال سے بھی بل زیادہ آتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408767'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408767"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>ایئر کنڈیشنر اور بجلی کی بچت</strong></p>
<p>اکثر لوگ شدید گرمی میں کمرہ  جلدی ٹھنڈا کرنے کے لیے اے سی کو انتہائی کم درجہ حرارت (16 یا 18 ڈگری) پر سیٹ کر دیتے ہیں، جس سے مشین پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور بجلی کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>بہترین کارکردگی کے لیے اے سی کو ہمیشہ 24 سے 26 ڈگری کے درمیاں چلائیں۔ اس درجہ حرارت پر اے سی کا کمپریسر کم بجلی لیتا ہے اور کمرہ بھی ٹھنڈا رہتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح اے سی استعمال کرتے وقت دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنا ضروری ہے تاکہ ٹھنڈی ہوا باہر نہ نکلے۔</p>
<p>اے سی کے ساتھ ہلکی رفتار پر چھت والا پنکھا بھی چلائیں، اس سے ٹھنڈی ہوا پورے کمرے میں جلدی پھیل جائے گی جس سے اے سی پر بوجھ کم ہوگا اور بجلی بھی کم خرچ ہوگی۔</p>
<p>ہر 15 دن بعد اے سی کے فلٹرز صاف کریں۔ گندے فلٹرز بجلی کی کھپت میں 15 فیصد تک اضافہ کر دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464895'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گرمیوں میں پرانے پیلے بلب کے بجائے ایل ای ڈی استعمال کریں کیونکہ پیلے بلب حرارت پیدا کرتے ہیں جس سے اے سی پر لوڈ بڑھتا ہے۔</p>
<p><strong>فریج سے بجلی کی بچت</strong></p>
<p>فریج گھر کا وہ واحد الیکٹرانک آئٹم ہے جو 24 گھنٹے چلتا ہے، اس لیے اس کی بچت سب سے زیادہ اہم ہے۔</p>
<p>فریج کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے بار بار کھولنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ہر بار دروازہ کھلنے سے اندر کی ٹھنڈک کم ہو جاتی ہے اور کمپریسر کو دوبارہ زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح گرم کھانا سیدھا فریج میں رکھنے کے بجائے پہلے باہر ٹھنڈا ہونے دیں، پھر فریج میں رکھیں۔ گرم کھانا رکھنے سے فریج کو اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے دگنی بجلی خرچ کرنی پڑتی ہے۔</p>
<p>فریج کو دیوار سے کم از کم 6 انچ دور رکھیں تاکہ اس کی پشت پر موجود کوائلز سے گرمی آسانی سے خارج ہو سکے۔</p>
<p><strong>ایئر کولر: کراس وینٹیلیشن ضروری ہے</strong></p>
<p>ایئرکولر کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ ایئر کولر کو اگر غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ صرف حبس پیدا کرتا ہے اور بجلی ضائع ہوتی ہے۔<br></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30397048'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30397048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کولر کو ہمیشہ کھڑکی یا دروازے کے پاس رکھیں تاکہ وہ باہر سے تازہ ہوا کھینچ سکے۔ کولر ”کراس وینٹیلیشن“ کے بغیر صحیح ٹھنڈک نہیں دیتا۔<br></p>
<p>بند کمرے میں کولر چلانے سے نمی تو بڑھتی ہے لیکن کولنگ کم ہوتی ہے اور بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔</p>
<p>اگر کولر کی گھاس یا کولنگ پیڈز پر مٹی جمع ہو جائے تو ہوا کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ سیزن کے شروع میں اور درمیان میں پیڈز کی صفائی یا تبدیلی بل کم کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔</p>
<p>سیزن شروع ہونے سے پہلے تمام مشینوں کی ماہر ٹیکنیشن سے سروس کروائیں تاکہ وہ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں۔</p>
<p>ان چھوٹی چھوٹی عادتوں کو اپنا کر آپ نہ صرف اپنی مشینوں کی زندگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ مہینے کے آخر میں بجلی کے بھاری بھرکم بل سے بھی نجات پا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503574</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 11:01:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1610590320f8040.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1610590320f8040.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
