<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 00:08:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 00:08:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503603/donald-trump-israel-lebanon-ceasefire</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس جنگ بندی کا اطلاق امریکی وقت کے مطابق آج شام 5 بجے سے ہو گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سماجی پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر تفصیلی بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت سے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی میں عارضی وقفے کا امکان ہے، جو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کی ملاقات ہوئی۔ یہ 34 سالوں میں پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے نمائندے کسی ایک میز پر بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2044802426021322947'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2044802426021322947"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کے مطابق انہوں نے اس 10 روزہ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹیم کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔ جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر حتمی امن معاہدے پر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے آخر میں صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنی سفارتی کامیابیوں کا دوبارہ تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں 9 جنگیں ختم کروانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ میری دسویں کامیابی ہوگی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ 1983 کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی بامعنی بات چیت ہوگی، جو خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ پیش رفت جلد ممکن ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل لبنانی صدر کے دفتر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کی تصدیق کی تھی، جس میں انہوں نے لبنان میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2044805387879059787'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2044805387879059787"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/trump-says-lebanese-israeli-leaders-will-speak-2026-04-16/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;نے لبنانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر جوزف عون نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ لبنانی صدر کی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو سے قبل ہی لبنانی سفارت خانے نے واشنگٹن کو اپنے اس مؤقف سے آگاہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503566/pakistan-peace-efforts-jeddah-tehran-field-marshal-asim-munir-pm-shehbaz-sharif-us-iran-war'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی رکن گِلا گاملیل نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو کئی دہائیوں کے بعد لبنانی صدر سے پہلی بار براہِ راست بات چیت کریں گے، تاہم رائٹرز کے مطابق لبنانی حکام نے ان دعوؤں کی بھی نفی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق لبنان نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے پہلے جنگ بندی کا نفاذ لازمی ہے جب کہ اسرائیلی افواج کا انخلا بھی ایک بنیادی شرط ہے تاکہ لبنانی فوج جنوبی علاقوں میں تعینات ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ کے بعد اسرائیلی حملوں میں 2100 سے زائد افراد شہید اور 12 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ وہیں اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں مسلسل پیش قدمی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی پر قائم آخری پُل بھی تباہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک کے ایک بڑے حصہ کا باقی علاقوں سے رابطہ کٹ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2044707852904755630'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2044707852904755630"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/iran-war-live-updates-trump-says-israel-lebanon-have-agreed-10-day-ceasefire-2026-04-16/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; نے ایک اور رپورٹ میں ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کا جنگ بندی کے دوران جنوبی لبنان سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سینیئر رکن حسن فضل اللہ نے بتایا کہ انہیں لبنان میں تعینات ایرانی سفیر کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ایک ہفتے کی جنگ بندی جمعرات کی شام سے شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار اسرائیل کی جانب سے مکمل طور پر جنگی کارروائیاں روکنے پر ہوگا، جب کہ انہوں نے ممکنہ جنگ بندی کا سہرا ایران کی سفارتی کوششوں کو دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس جنگ بندی کا اطلاق امریکی وقت کے مطابق آج شام 5 بجے سے ہو گا۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سماجی پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر تفصیلی بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔</p>
<p>اس پیش رفت سے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی میں عارضی وقفے کا امکان ہے، جو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تھی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں کی ملاقات ہوئی۔ یہ 34 سالوں میں پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے نمائندے کسی ایک میز پر بیٹھے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2044802426021322947'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2044802426021322947"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر کے مطابق انہوں نے اس 10 روزہ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی ٹیم کو ٹاسک سونپ دیا ہے۔ جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈین کین اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر حتمی امن معاہدے پر کام کریں گے۔</p>
<p>بیان کے آخر میں صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنی سفارتی کامیابیوں کا دوبارہ تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں 9 جنگیں ختم کروانا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ میری دسویں کامیابی ہوگی۔‘</p>
<p>ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ 1983 کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی بامعنی بات چیت ہوگی، جو خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ پیش رفت جلد ممکن ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل لبنانی صدر کے دفتر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کی تصدیق کی تھی، جس میں انہوں نے لبنان میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2044805387879059787'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2044805387879059787"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/trump-says-lebanese-israeli-leaders-will-speak-2026-04-16/">رائٹرز </a>نے لبنانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر جوزف عون نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ لبنانی صدر کی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو سے قبل ہی لبنانی سفارت خانے نے واشنگٹن کو اپنے اس مؤقف سے آگاہ کر دیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503566/pakistan-peace-efforts-jeddah-tehran-field-marshal-asim-munir-pm-shehbaz-sharif-us-iran-war'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ کی رکن گِلا گاملیل نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو کئی دہائیوں کے بعد لبنانی صدر سے پہلی بار براہِ راست بات چیت کریں گے، تاہم رائٹرز کے مطابق لبنانی حکام نے ان دعوؤں کی بھی نفی کی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق لبنان نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے پہلے جنگ بندی کا نفاذ لازمی ہے جب کہ اسرائیلی افواج کا انخلا بھی ایک بنیادی شرط ہے تاکہ لبنانی فوج جنوبی علاقوں میں تعینات ہو سکے۔</p>
<p>لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ کے بعد اسرائیلی حملوں میں 2100 سے زائد افراد شہید اور 12 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ وہیں اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں مسلسل پیش قدمی جاری ہے۔</p>
<p>لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی پر قائم آخری پُل بھی تباہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک کے ایک بڑے حصہ کا باقی علاقوں سے رابطہ کٹ چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2044707852904755630'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2044707852904755630"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/iran-war-live-updates-trump-says-israel-lebanon-have-agreed-10-day-ceasefire-2026-04-16/">رائٹرز</a> نے ایک اور رپورٹ میں ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کا جنگ بندی کے دوران جنوبی لبنان سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سینیئر رکن حسن فضل اللہ نے بتایا کہ انہیں لبنان میں تعینات ایرانی سفیر کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ایک ہفتے کی جنگ بندی جمعرات کی شام سے شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار اسرائیل کی جانب سے مکمل طور پر جنگی کارروائیاں روکنے پر ہوگا، جب کہ انہوں نے ممکنہ جنگ بندی کا سہرا ایران کی سفارتی کوششوں کو دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503603</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 21:48:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/16214453ad92fb2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/16214453ad92fb2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
