<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 16:23:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 16:23:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زنک کی کمی پاکستان میں صحت کا ایک ایسا مسئلہ ہے جسے اہمیت نہیں دی جا رہی: سروے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503720/zinc-deficiency-pakistan-health-issue</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانیوں میں زِنک کی کمی ایک وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا مگر نظر انداز کیا جانے والا عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس کے بچوں کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور مجموعی آبادی کی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی غذائی اجزاء (مائیکرو نیوٹرینٹس) کی کمی کا سامنا ہے، اور زنک ان میں سب سے اہم عنصر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اعداد و شمار (جیسے پاکستان نیشنل نیوٹریشن سروے 2018) ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 18 سے 22 فیصد بچے زنک کی کمی کا شکار ہیں۔ تولیدی عمر کی ہر پانچ میں سے ایک خاتون میں بھی اس کی کمی پائی جاتی ہے۔ وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو 60 ملین سے زائد پاکستانی زنک کی ناکافی مقدار حاصل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں مسلسل قد کے چھوٹے رہ جانے (سٹنٹنگ) کی بلند شرح بھی سامنے آئی ہے، جس سے پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 35 سے 40 فیصد بچے متاثر ہیں اور اس کا براہِ راست تعلق زنک کی ناکافی مقدار سے ہے۔ مطالعے بتاتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں اور تولیدی عمر کی خواتین کی ایک بڑی تعداد زنک کی روزانہ کی ضروریات پوری نہیں کر پاتی، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کی نشوونما رکنے اور انفیکشنز کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں فیملی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انعم ارشد بیگ نے ’بزنس ریکارڈر‘ کو بتایا کہ ان کے کلینک آنے والے پانچ سال سے کم عمر کے ہر 10 بچوں میں سے تقریباً 6 سے 7 زنک کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر کاشف عباس کا ماننا ہے کہ پاکستان میں اسکول جانے کی عمر سے پہلے کے تقریباً 40 فیصد بچے زنک کی کمی کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں زنک کی کمی کی بنیادی وجوہات غذائی اور سماجی و اقتصادی ہیں۔ عام پاکستانی خوراک کا زیادہ تر انحصار گندم اور چاول جیسے اناج پر ہے۔ اگرچہ یہ غذائیں کیلوریز فراہم کرتی ہیں، لیکن ان میں ’فائی ٹیٹس‘ نامی قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو جسم میں زنک کے جذب ہونے کے عمل کو روکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجے کے طور پر، غذا میں زنک موجود ہونے کے باوجود جسم اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ ساتھ ہی، گوشت، مچھلی، انڈوں اور ڈیری مصنوعات جیسی جست سے بھرپور غذاؤں کا استعمال محدود ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں میں جہاں قوتِ خرید ایک بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت اور خوراک کی عدم دستیابی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ آبادی کے بڑے حصے کو متنوع غذا تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ سستی مگر کم غذائیت والی خوراک پر گزارا کرتے ہیں۔ ماؤں میں غذائیت کی کمی بھی نسل در نسل اس مسئلے کو منتقل کرتی ہے، کیونکہ کمزور مائیں ایسے بچوں کو جنم دیتی ہیں جن میں پہلے سے ہی غذائی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں متوازن غذا کے بارے میں شعور کی کمی اور فورٹیفائیڈ (مقوی) غذاؤں تک محدود رسائی بھی اس کی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنک کی کمی کے نتائج سنگین اور دور رس ہیں۔ ڈاکٹر بیگ نے وضاحت کی کہ ”جست بچوں اور بڑوں دونوں میں قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کی کمی انفیکشنز کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عباس کا کہنا ہے کہ اگر بچے میں زنک کی سطح کم ہو تو اس میں قوتِ مدافعت کی کمی، قد میں رکاوٹ اور غذائی قلت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ انفیکشنز کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے۔ زنک بچوں کی نشوونما، بالوں، ناخنوں اور جلد کے لیے انتہائی اہم ہے اور زخموں کے بھرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر بیگ نے مزید کہا، ”خواتین کی صحت کے حوالے سے یہ زرخیزی اور حمل کے لیے بہت ضروری ہے اور تولیدی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔“ جبکہ ڈاکٹر عباس نے اضافہ کیا کہ ”اگر حاملہ خواتین میں جست کی کمی ہو تو یہ ماں سے بچے میں منتقل ہو جاتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنک کی کمی کا شکار بچے اسہال (ڈائریا) اور نمونیا جیسے انفیکشنز کا شکار ہو سکتے ہیں، جو پاکستان میں بچوں کی اموات کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ بڑوں میں اس کی کمی قوتِ مدافعت میں کمی، زخموں کے دیر سے بھرنے اور حمل کے دوران پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنک نظامِ ہاضمہ کو صحت مند رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ زنک ایک ’ٹریس ایلیمنٹ‘ ہے (وہ کیمیائی عنصر جو بہت معمولی مقدار میں درکار ہوتا ہے)، اس لیے اس کی تھوڑی سی مقدار ہی کافی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنک کی کمی کو دور کرنے کے لیے غذائی، پالیسی سازی اور صحتِ عامہ کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک کلیدی حکمتِ عملی غذا کی ’فورٹی فیکیشن‘ ہے، خاص طور پر گندم کے آٹے جیسے بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے اناج میں زنک شامل کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنک کے سپلیمنٹس کے پروگرام، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے فوری فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔ خوراک میں تنوع لانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، جس میں دالیں، انڈے اور جہاں ممکن ہو، گوشت جیسی سستی اور زنک سے بھرپور غذاؤں کو شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ماں و بچے کی صحت کے پروگراموں میں سرمایہ کاری طویل مدتی تبدیلی کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی زرعی اور غذائی پالیسیاں جو غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی بڑھائیں، اناج پر مبنی خوراک پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عباس کے مطابق، ماؤں کو بروقت خوراک کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے اور تقریباً چھ ماہ کی عمر میں بچے کو نرم اور متوازن غذا دینا شروع کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ نو ماہ کے بعد سے بچوں کو بتدریج جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین بشمول گوشت، انڈے اور ڈیری مصنوعات دینی چاہئیں۔ اگر کمی کی کوئی علامت نظر آئے تو والدین کو ماہرینِ اطفال سے رجوع کرنا چاہیے اور قد و وزن کی نگرانی کے لیے باقاعدہ معائنہ کروانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر بیگ کا کہنا ہے کہ بار بار اسہال، سانس کی تکلیف اور نمونیا جیسے سینے کے انفیکشن میں مبتلا بچوں کو اکثر جست کے سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زنک کی کمی بھوک میں بھی کمی لاتی ہے اور سپلیمنٹس اس میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو اپنی خوراک سے کافی مقدار میں زنک حاصل نہیں کر رہے، انہیں ڈاکٹر کے مشورے پر زنک سلفیٹ یا زنک گلوکونیٹ جیسے کیمیکلز پر مشتمل سپلیمنٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانیوں میں زِنک کی کمی ایک وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا مگر نظر انداز کیا جانے والا عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس کے بچوں کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور مجموعی آبادی کی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی غذائی اجزاء (مائیکرو نیوٹرینٹس) کی کمی کا سامنا ہے، اور زنک ان میں سب سے اہم عنصر ہے۔</strong></p>
<p>قومی اعداد و شمار (جیسے پاکستان نیشنل نیوٹریشن سروے 2018) ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 18 سے 22 فیصد بچے زنک کی کمی کا شکار ہیں۔ تولیدی عمر کی ہر پانچ میں سے ایک خاتون میں بھی اس کی کمی پائی جاتی ہے۔ وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو 60 ملین سے زائد پاکستانی زنک کی ناکافی مقدار حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p>سروے میں مسلسل قد کے چھوٹے رہ جانے (سٹنٹنگ) کی بلند شرح بھی سامنے آئی ہے، جس سے پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 35 سے 40 فیصد بچے متاثر ہیں اور اس کا براہِ راست تعلق زنک کی ناکافی مقدار سے ہے۔ مطالعے بتاتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں اور تولیدی عمر کی خواتین کی ایک بڑی تعداد زنک کی روزانہ کی ضروریات پوری نہیں کر پاتی، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کی نشوونما رکنے اور انفیکشنز کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں فیملی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انعم ارشد بیگ نے ’بزنس ریکارڈر‘ کو بتایا کہ ان کے کلینک آنے والے پانچ سال سے کم عمر کے ہر 10 بچوں میں سے تقریباً 6 سے 7 زنک کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر کاشف عباس کا ماننا ہے کہ پاکستان میں اسکول جانے کی عمر سے پہلے کے تقریباً 40 فیصد بچے زنک کی کمی کا شکار ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں زنک کی کمی کی بنیادی وجوہات غذائی اور سماجی و اقتصادی ہیں۔ عام پاکستانی خوراک کا زیادہ تر انحصار گندم اور چاول جیسے اناج پر ہے۔ اگرچہ یہ غذائیں کیلوریز فراہم کرتی ہیں، لیکن ان میں ’فائی ٹیٹس‘ نامی قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں جو جسم میں زنک کے جذب ہونے کے عمل کو روکتے ہیں۔</p>
<p>نتیجے کے طور پر، غذا میں زنک موجود ہونے کے باوجود جسم اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ ساتھ ہی، گوشت، مچھلی، انڈوں اور ڈیری مصنوعات جیسی جست سے بھرپور غذاؤں کا استعمال محدود ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں میں جہاں قوتِ خرید ایک بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>غربت اور خوراک کی عدم دستیابی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ آبادی کے بڑے حصے کو متنوع غذا تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ سستی مگر کم غذائیت والی خوراک پر گزارا کرتے ہیں۔ ماؤں میں غذائیت کی کمی بھی نسل در نسل اس مسئلے کو منتقل کرتی ہے، کیونکہ کمزور مائیں ایسے بچوں کو جنم دیتی ہیں جن میں پہلے سے ہی غذائی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں متوازن غذا کے بارے میں شعور کی کمی اور فورٹیفائیڈ (مقوی) غذاؤں تک محدود رسائی بھی اس کی وجوہات ہیں۔</p>
<p>زنک کی کمی کے نتائج سنگین اور دور رس ہیں۔ ڈاکٹر بیگ نے وضاحت کی کہ ”جست بچوں اور بڑوں دونوں میں قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کی کمی انفیکشنز کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے۔“</p>
<p>ڈاکٹر عباس کا کہنا ہے کہ اگر بچے میں زنک کی سطح کم ہو تو اس میں قوتِ مدافعت کی کمی، قد میں رکاوٹ اور غذائی قلت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ انفیکشنز کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے۔ زنک بچوں کی نشوونما، بالوں، ناخنوں اور جلد کے لیے انتہائی اہم ہے اور زخموں کے بھرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر بیگ نے مزید کہا، ”خواتین کی صحت کے حوالے سے یہ زرخیزی اور حمل کے لیے بہت ضروری ہے اور تولیدی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔“ جبکہ ڈاکٹر عباس نے اضافہ کیا کہ ”اگر حاملہ خواتین میں جست کی کمی ہو تو یہ ماں سے بچے میں منتقل ہو جاتی ہے۔“</p>
<p>زنک کی کمی کا شکار بچے اسہال (ڈائریا) اور نمونیا جیسے انفیکشنز کا شکار ہو سکتے ہیں، جو پاکستان میں بچوں کی اموات کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ بڑوں میں اس کی کمی قوتِ مدافعت میں کمی، زخموں کے دیر سے بھرنے اور حمل کے دوران پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>زنک نظامِ ہاضمہ کو صحت مند رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ زنک ایک ’ٹریس ایلیمنٹ‘ ہے (وہ کیمیائی عنصر جو بہت معمولی مقدار میں درکار ہوتا ہے)، اس لیے اس کی تھوڑی سی مقدار ہی کافی ہوتی ہے۔</p>
<p>زنک کی کمی کو دور کرنے کے لیے غذائی، پالیسی سازی اور صحتِ عامہ کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک کلیدی حکمتِ عملی غذا کی ’فورٹی فیکیشن‘ ہے، خاص طور پر گندم کے آٹے جیسے بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے اناج میں زنک شامل کرنا۔</p>
<p>زنک کے سپلیمنٹس کے پروگرام، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے فوری فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔ خوراک میں تنوع لانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، جس میں دالیں، انڈے اور جہاں ممکن ہو، گوشت جیسی سستی اور زنک سے بھرپور غذاؤں کو شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔</p>
<p>غذائیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ماں و بچے کی صحت کے پروگراموں میں سرمایہ کاری طویل مدتی تبدیلی کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی زرعی اور غذائی پالیسیاں جو غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی بڑھائیں، اناج پر مبنی خوراک پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر عباس کے مطابق، ماؤں کو بروقت خوراک کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے اور تقریباً چھ ماہ کی عمر میں بچے کو نرم اور متوازن غذا دینا شروع کرنی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ نو ماہ کے بعد سے بچوں کو بتدریج جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین بشمول گوشت، انڈے اور ڈیری مصنوعات دینی چاہئیں۔ اگر کمی کی کوئی علامت نظر آئے تو والدین کو ماہرینِ اطفال سے رجوع کرنا چاہیے اور قد و وزن کی نگرانی کے لیے باقاعدہ معائنہ کروانا چاہیے۔</p>
<p>ڈاکٹر بیگ کا کہنا ہے کہ بار بار اسہال، سانس کی تکلیف اور نمونیا جیسے سینے کے انفیکشن میں مبتلا بچوں کو اکثر جست کے سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں۔</p>
<p>زنک کی کمی بھوک میں بھی کمی لاتی ہے اور سپلیمنٹس اس میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو اپنی خوراک سے کافی مقدار میں زنک حاصل نہیں کر رہے، انہیں ڈاکٹر کے مشورے پر زنک سلفیٹ یا زنک گلوکونیٹ جیسے کیمیکلز پر مشتمل سپلیمنٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503720</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 13:24:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/201323584521127.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/201323584521127.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
