<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 18:46:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 18:46:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپولو سے آرٹیمس تک: 58 برس میں زمین کی بدلتی تصویر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503769/from-apollo-to-artemis-the-changing-face-of-earth-over-58-years</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناسا کے آرٹیمس مشن نے چاند کی سطح سے زمین کی ایک نئی تصویر ’ارتھ سیٹ‘ جاری کی ہے، جو 1968 کے مشہورِ زمانہ ’ارتھ رائز‘ کی یاد دلاتی ہے۔ تاہم، یہ نئی تصویر محض ایک خوبصورت منظر نہیں بلکہ ہمارے سیارے پر آنے والی بڑی تبدیلیوں کا ایک خاموش گواہ بھی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20260417-apollo-v-artemis-how-the-earth-changed-in-58-years"&gt;بی بی سی&lt;/a&gt; کے مطابق آج سے 58 سال پہلے، اپولو 8 کے خلا بازوں نے پہلی بار چاند کے مدار سے زمین کی ایک تاریخی تصویر لی، جسے ’ارتھ رائز‘ کہا جاتا ہے۔ اس تصویر نے انسانوں کو اپنی زمین کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503348/artemis-2-astronauts-return-earth-safely'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مشن کے کمانڈر فرینک بورمین نے جب پہلی بار چاند کے پچھلے حصے کو دیکھا تو وہ اس کی ویرانی سے متاثر ہوئے، جہاں ہر طرف صرف گڑھے اور بے رنگ سطح تھی۔ مگر جب خلائی جہاز نے چوتھا چکر مکمل کیا تو زمین کا دلکش منظر سامنے آیا، جسے بل اینڈرز نے کیمرے میں محفوظ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصویر انسانی تاریخ کی اہم ترین تصاویر میں شامل ہو گئی اور ماحولیات کے تحفظ کی تحریک کو مضبوط بنانے کا سبب بنی، جس کے نتیجے میں ’ارتھ ڈے‘ کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تقریباً 58 سال بعد، میں آرٹیمس II کے عملے نے اسی طرح کا ایک منظر قید کیا ہے، جسے ماہرین زمین کی صحت کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس پروگرام کے خلا بازوں نے ایک نئی تصویر“ارتھ سیٹ“ لی ہے، جو چاند کے قریب سے لی گئی ہے۔ یہ تصویر اپریل 2026 میں اوریون خلائی جہاز سے لی گئی اور ایک بار پھر انسانوں کو اپنی زمین کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کے مطابق 1968 اور آج کی زمین میں واضح فرق موجود ہے۔ ان دونوں تصاویر کے درمیان کا وقت اگرچہ زمین کی عمر کے لحاظ سے بہت کم ہے، لیکن اس دوران زمین میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دہائیوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہوا ہے اور عالمی درجہ حرارت کم از کم 1 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ برفانی علاقوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ خاص طور پر انٹارکٹکا میں ہزاروں کلومیٹر پر محیط برفانی شیلف ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں برف جلد پگھل رہی ہے اور برفباری کا دورانیہ کم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین کی سطح بھی بدل چکی ہے۔ جنگلات کم ہو رہے ہیں، شہر پھیل رہے ہیں اور بعض جھیلیں جیسے ارال سمندر سکڑ کر اپنی اصل جسامت کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آج ہزاروں سیٹلائٹس زمین کی نگرانی کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک انسان (خلا باز) کے ہاتھ سے لی گئی تصویر میں جو جذبات اور تناظر ہوتا ہے، وہ مشینوں میں ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503122/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یورپین اسپیس ایجنسی کے ماہر کریگ ڈان لون کے مطابق، انسانی نظر سے لی گئی تصاویر میں احساس اور سوچ شامل ہوتی ہے، جو دیکھنے والوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا باز فرینک بورمین کے الفاظ آج بھی سچ محسوس ہوتے ہیں کہ انسان چاند تک پہنچ کر بھی اصل میں زمین کو ہی زیادہ غور سے دیکھنے لگتا ہے، کیونکہ یہی ہمارا واحد گھر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی انٹارکٹک سروے کی پیٹرا ہیل کا ماننا ہے کہ زمین پر آنے والی ان 95 فیصد تبدیلیوں کا براہِ راست ذمہ دار انسان ہے۔ تاہم، یہ موازنہ محض مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح 1968 کی تصویر نے ماحولیاتی تحریک کو جنم دیا تھا، امید ہے کہ 2026 کی یہ نئی جھلک موجودہ نسل کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرنے پر آمادہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلا سے زمین اب بھی خوبصورت نظر آتی ہے، لیکن اس کی نزاکت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناسا کے آرٹیمس مشن نے چاند کی سطح سے زمین کی ایک نئی تصویر ’ارتھ سیٹ‘ جاری کی ہے، جو 1968 کے مشہورِ زمانہ ’ارتھ رائز‘ کی یاد دلاتی ہے۔ تاہم، یہ نئی تصویر محض ایک خوبصورت منظر نہیں بلکہ ہمارے سیارے پر آنے والی بڑی تبدیلیوں کا ایک خاموش گواہ بھی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20260417-apollo-v-artemis-how-the-earth-changed-in-58-years">بی بی سی</a> کے مطابق آج سے 58 سال پہلے، اپولو 8 کے خلا بازوں نے پہلی بار چاند کے مدار سے زمین کی ایک تاریخی تصویر لی، جسے ’ارتھ رائز‘ کہا جاتا ہے۔ اس تصویر نے انسانوں کو اپنی زمین کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا اور ماحولیاتی شعور کو فروغ دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503348/artemis-2-astronauts-return-earth-safely'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس مشن کے کمانڈر فرینک بورمین نے جب پہلی بار چاند کے پچھلے حصے کو دیکھا تو وہ اس کی ویرانی سے متاثر ہوئے، جہاں ہر طرف صرف گڑھے اور بے رنگ سطح تھی۔ مگر جب خلائی جہاز نے چوتھا چکر مکمل کیا تو زمین کا دلکش منظر سامنے آیا، جسے بل اینڈرز نے کیمرے میں محفوظ کیا۔</p>
<p>یہ تصویر انسانی تاریخ کی اہم ترین تصاویر میں شامل ہو گئی اور ماحولیات کے تحفظ کی تحریک کو مضبوط بنانے کا سبب بنی، جس کے نتیجے میں ’ارتھ ڈے‘ کا آغاز ہوا۔</p>
<p>اب تقریباً 58 سال بعد، میں آرٹیمس II کے عملے نے اسی طرح کا ایک منظر قید کیا ہے، جسے ماہرین زمین کی صحت کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>آرٹیمس پروگرام کے خلا بازوں نے ایک نئی تصویر“ارتھ سیٹ“ لی ہے، جو چاند کے قریب سے لی گئی ہے۔ یہ تصویر اپریل 2026 میں اوریون خلائی جہاز سے لی گئی اور ایک بار پھر انسانوں کو اپنی زمین کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کے مطابق 1968 اور آج کی زمین میں واضح فرق موجود ہے۔ ان دونوں تصاویر کے درمیان کا وقت اگرچہ زمین کی عمر کے لحاظ سے بہت کم ہے، لیکن اس دوران زمین میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔</p>
<p>گزشتہ دہائیوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہوا ہے اور عالمی درجہ حرارت کم از کم 1 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے</p>
<p>ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ برفانی علاقوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ خاص طور پر انٹارکٹکا میں ہزاروں کلومیٹر پر محیط برفانی شیلف ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں برف جلد پگھل رہی ہے اور برفباری کا دورانیہ کم ہو رہا ہے۔</p>
<p>زمین کی سطح بھی بدل چکی ہے۔ جنگلات کم ہو رہے ہیں، شہر پھیل رہے ہیں اور بعض جھیلیں جیسے ارال سمندر سکڑ کر اپنی اصل جسامت کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ آج ہزاروں سیٹلائٹس زمین کی نگرانی کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک انسان (خلا باز) کے ہاتھ سے لی گئی تصویر میں جو جذبات اور تناظر ہوتا ہے، وہ مشینوں میں ممکن نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503122/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یورپین اسپیس ایجنسی کے ماہر کریگ ڈان لون کے مطابق، انسانی نظر سے لی گئی تصاویر میں احساس اور سوچ شامل ہوتی ہے، جو دیکھنے والوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا باز فرینک بورمین کے الفاظ آج بھی سچ محسوس ہوتے ہیں کہ انسان چاند تک پہنچ کر بھی اصل میں زمین کو ہی زیادہ غور سے دیکھنے لگتا ہے، کیونکہ یہی ہمارا واحد گھر ہے۔</p>
<p>برطانوی انٹارکٹک سروے کی پیٹرا ہیل کا ماننا ہے کہ زمین پر آنے والی ان 95 فیصد تبدیلیوں کا براہِ راست ذمہ دار انسان ہے۔ تاہم، یہ موازنہ محض مایوسی پھیلانے کے لیے نہیں ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح 1968 کی تصویر نے ماحولیاتی تحریک کو جنم دیا تھا، امید ہے کہ 2026 کی یہ نئی جھلک موجودہ نسل کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرنے پر آمادہ کرے گی۔</p>
<p>خلا سے زمین اب بھی خوبصورت نظر آتی ہے، لیکن اس کی نزاکت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503769</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 15:51:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/211507031cfc217.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/211507031cfc217.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
