<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 14:51:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 14:51:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کیوں کی؟ اسلام آباد مذاکرات اور وائٹ ہاؤس کی اندرونی کہانی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503802/president-donald-trump-iran-us-ceasefire-us-iran-ceasefire-ceasefire-talks-us-iran-negociations-iran-us-peace-talks-iran-israel-war-islamabad-islamabad-talks-20</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن میں منگل کی سہ پہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک انتہائی اہم میٹنگ کی جس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ایران کے حوالے سے اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ ایک طرف جنگ بندی کی آخری مہلت ختم ہونے کے قریب تھی اور دوسری طرف نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اینڈریوز ایئر بیس پر تیار کھڑا تھا تاکہ وہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن امریکی انتظامیہ کو ایک عجیب مشکل کا سامنا تھا اور وہ تھی ایرانیوں کی طرف سے مکمل خاموشی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/04/21/politics/iran-trump-negotiations-peace-ceasefire"&gt;’سی این این‘&lt;/a&gt; نے اس معاملے سے واقف تین حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے چند روز پہلے ایران کو معاہدے کے کچھ بنیادی نکات بھیجے تھے جن پر مذاکرات سے پہلے اتفاق ضروری تھا، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود تہران سے کوئی جواب نہیں آیا جس کی وجہ سے یہ شک پیدا ہوا کہ وینس کا پاکستان جانا کتنا سود مند ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں جب صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی تو اس وقت تک بھی ایران کی طرف سے کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503788/president-donald-trump-pakistan-iran-cease-fire-extension-jd-vance'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی اور دوسری طرف ٹرمپ کو جنگ بندی بڑھانے پر قائل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے پاکستان کے مرکزی ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی گزارش کی تھی کہ وہ جے ڈی وینس کی روانگی سے پہلے ایرانیوں سے کسی قسم کا کوئی ردعمل حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طرف امریکا میں سنجیدہ صورتحال تھی تو دوسری جانب ایران نے میمز کا محاذ گرم کیا ہوا تھا۔ بھارتی کے شہر حیدرآباد میں واقع ایرانی قونصل خانے نے ایک طنزیہ ویڈیو جاری کی، جس میں ٹرمپ کو مذاکرات کے لیے بیتابی سے انتظار کرتے ہوئے دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2046867495181795608'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2046867495181795608"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات ہیں اور پاکستانی ثالثوں کی رپورٹس بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503790/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف ایرانی حکام کے تیور بدلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ہارنے والا فریق اپنی شرائط نہیں منوا سکتا اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب صرف فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این نے دعویٰ کیا کہ امریکیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ایرانیوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ یورینیم کی افزودگی اور اس کے ذخیرے کے حوالے سے مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں، جو کہ امن مذاکرات کا سب سے بڑا تنازع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک الجھن یہ بھی ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے ماتحتوں کو واضح ہدایات دے رہے ہیں یا انہیں صرف اندازوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے اس میں توسیع کا انتخاب کیا، لیکن اس بار انہوں نے کسی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503796/strait-of-hormuz-iran-payment-fee-system-halt-oil-supply'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے مطابق ٹرمپ اب بھی جنگ کا سفارتی حل چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی غیر مقبول جنگ کو دوبارہ چھیڑنے سے کترا رہے ہیں جس کے بارے میں وہ پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا جیت چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مذاکرات میں تعطل ان مشکلات کو ظاہر کرتا ہے جو ٹرمپ کو اپنی متعدد شرائط منوانے میں پیش آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کے نئے دور سے پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ نے دوٹوک جواب دیا ہے کہ جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہوتا، ہم یہ راستہ نہیں کھولیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی نیوز چینل ’سی این بی سی‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم آبنائے ہرمز کو نہیں کھولیں گے جب تک کہ ہمارے پاس ایک حتمی ڈیل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر کار ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی تجویز سامنے نہیں آ جاتی اور بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ دباؤ کم کرنے سے ایران مذاکرات کو طول دے سکتا ہے تاکہ وہ جنگ کے دوران چھپائے گئے اپنے میزائل سسٹمز کو دوبارہ فعال کر سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503786/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان اب بھی یورینیم کی افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر کلیدی نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے۔ ٹرمپ ایسا کوئی معاہدہ نہیں چاہتے جسے اوباما دور کے ایٹمی معاہدے جیسا کمزور قرار دیا جا سکے، بلکہ وہ اپنی مذاکراتی مہارت کے ذریعے ایک ’بہترین ڈیل‘ حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا کیونکہ ہم ان کی بحریہ، فضائیہ اور ان کے رہنماؤں کا خاتمہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس سے معاملات تھوڑے پیچیدہ ضرور ہو گئے ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ایران اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر کوئی ٹھوس تجویز پیش کرتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن میں منگل کی سہ پہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک انتہائی اہم میٹنگ کی جس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ایران کے حوالے سے اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ ایک طرف جنگ بندی کی آخری مہلت ختم ہونے کے قریب تھی اور دوسری طرف نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اینڈریوز ایئر بیس پر تیار کھڑا تھا تاکہ وہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو سکیں۔</strong></p>
<p>لیکن امریکی انتظامیہ کو ایک عجیب مشکل کا سامنا تھا اور وہ تھی ایرانیوں کی طرف سے مکمل خاموشی۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/04/21/politics/iran-trump-negotiations-peace-ceasefire">’سی این این‘</a> نے اس معاملے سے واقف تین حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے چند روز پہلے ایران کو معاہدے کے کچھ بنیادی نکات بھیجے تھے جن پر مذاکرات سے پہلے اتفاق ضروری تھا، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود تہران سے کوئی جواب نہیں آیا جس کی وجہ سے یہ شک پیدا ہوا کہ وینس کا پاکستان جانا کتنا سود مند ثابت ہوگا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں جب صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی تو اس وقت تک بھی ایران کی طرف سے کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503788/president-donald-trump-pakistan-iran-cease-fire-extension-jd-vance'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی اور دوسری طرف ٹرمپ کو جنگ بندی بڑھانے پر قائل کیا۔</p>
<p>رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکام نے پاکستان کے مرکزی ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی گزارش کی تھی کہ وہ جے ڈی وینس کی روانگی سے پہلے ایرانیوں سے کسی قسم کا کوئی ردعمل حاصل کریں۔</p>
<p>ایک طرف امریکا میں سنجیدہ صورتحال تھی تو دوسری جانب ایران نے میمز کا محاذ گرم کیا ہوا تھا۔ بھارتی کے شہر حیدرآباد میں واقع ایرانی قونصل خانے نے ایک طنزیہ ویڈیو جاری کی، جس میں ٹرمپ کو مذاکرات کے لیے بیتابی سے انتظار کرتے ہوئے دکھایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2046867495181795608'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2046867495181795608"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات ہیں اور پاکستانی ثالثوں کی رپورٹس بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503790/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری طرف ایرانی حکام کے تیور بدلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ہارنے والا فریق اپنی شرائط نہیں منوا سکتا اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب صرف فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>سی این این نے دعویٰ کیا کہ امریکیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ایرانیوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ یورینیم کی افزودگی اور اس کے ذخیرے کے حوالے سے مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں، جو کہ امن مذاکرات کا سب سے بڑا تنازع ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک الجھن یہ بھی ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے ماتحتوں کو واضح ہدایات دے رہے ہیں یا انہیں صرف اندازوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے اس میں توسیع کا انتخاب کیا، لیکن اس بار انہوں نے کسی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503796/strait-of-hormuz-iran-payment-fee-system-halt-oil-supply'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503796"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سی این این کے مطابق ٹرمپ اب بھی جنگ کا سفارتی حل چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی غیر مقبول جنگ کو دوبارہ چھیڑنے سے کترا رہے ہیں جس کے بارے میں وہ پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا جیت چکا ہے۔</p>
<p>تاہم مذاکرات میں تعطل ان مشکلات کو ظاہر کرتا ہے جو ٹرمپ کو اپنی متعدد شرائط منوانے میں پیش آ رہی ہیں۔</p>
<p>ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات کے نئے دور سے پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ نے دوٹوک جواب دیا ہے کہ جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہوتا، ہم یہ راستہ نہیں کھولیں گے۔</p>
<p>انہوں نے امریکی نیوز چینل ’سی این بی سی‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ ہم آبنائے ہرمز کو نہیں کھولیں گے جب تک کہ ہمارے پاس ایک حتمی ڈیل نہ ہو۔</p>
<p>آخر کار ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی تجویز سامنے نہیں آ جاتی اور بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ دباؤ کم کرنے سے ایران مذاکرات کو طول دے سکتا ہے تاکہ وہ جنگ کے دوران چھپائے گئے اپنے میزائل سسٹمز کو دوبارہ فعال کر سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503786/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دونوں ممالک کے درمیان اب بھی یورینیم کی افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر کلیدی نکات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکا ہے۔ ٹرمپ ایسا کوئی معاہدہ نہیں چاہتے جسے اوباما دور کے ایٹمی معاہدے جیسا کمزور قرار دیا جا سکے، بلکہ وہ اپنی مذاکراتی مہارت کے ذریعے ایک ’بہترین ڈیل‘ حاصل کرنے کے لیے پرامید ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا کیونکہ ہم ان کی بحریہ، فضائیہ اور ان کے رہنماؤں کا خاتمہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس سے معاملات تھوڑے پیچیدہ ضرور ہو گئے ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ایران اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر کوئی ٹھوس تجویز پیش کرتا ہے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503802</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 14:39:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/22121343b229b0a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/22121343b229b0a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
