<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 13:00:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 13:00:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا سے ایک اور بڑا استعفا، وزیرِ بحریہ کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503830/us-navy-secretary-fired</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے خلاف جاری کشیدہ جنگی صورتحال کے دوران امریکا میں ایک اور بڑی انتظامی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔ امریکی بحریہ کے وزیر جان سی فیلن نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کی تصدیق پینٹاگون کے ترجمان نے بھی کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق جان سی فیلن نے فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے، تاہم استعفے کی وجوہات کے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انہیں اچانک عہدے سے ہٹایا گیا ہے، جبکہ ان کے مستعفی ہونے کے پس منظر پر ابہام برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق جان فیلن کے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں تھے، جو ان کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استعفے سے محض ایک روز قبل جان سی فیلن نے واشنگٹن ڈی سی میں نیوی کی سالانہ کانفرنس کے دوران صنعتی ماہرین سے خطاب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں اس بنیاد پر تنقید کا سامنا تھا کہ ان کے پاس بحریہ، فوجی امور، قومی سلامتی پالیسی یا دفاعی صنعت سے متعلق خاطر خواہ تجربہ موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503034'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنگی حالات کے دوران پینٹاگون میں یہ ایک اور اہم تبدیلی قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل امریکا کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈ جارج کو بھی فوری استعفے پر مجبور کیا جا چکا ہے، جس سے عسکری قیادت میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق ہنگ کاؤ کو قائم مقام نیوی سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے، جو فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جان فیلن کی برطرفی کے ساتھ ہی پینٹاگون میں پیٹ ہیگستھ کی جانب سے ہٹائے جانے والے سینئر حکام کی تعداد 34 ہو گئی ہے، جو امریکی دفاعی ڈھانچے میں ایک بڑی سطح کی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے خلاف جاری کشیدہ جنگی صورتحال کے دوران امریکا میں ایک اور بڑی انتظامی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔ امریکی بحریہ کے وزیر جان سی فیلن نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کی تصدیق پینٹاگون کے ترجمان نے بھی کر دی ہے۔</strong></p>
<p>ترجمان کے مطابق جان سی فیلن نے فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے، تاہم استعفے کی وجوہات کے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انہیں اچانک عہدے سے ہٹایا گیا ہے، جبکہ ان کے مستعفی ہونے کے پس منظر پر ابہام برقرار ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق جان فیلن کے امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں تھے، جو ان کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p>استعفے سے محض ایک روز قبل جان سی فیلن نے واشنگٹن ڈی سی میں نیوی کی سالانہ کانفرنس کے دوران صنعتی ماہرین سے خطاب کیا تھا۔</p>
<p>انہیں اس بنیاد پر تنقید کا سامنا تھا کہ ان کے پاس بحریہ، فوجی امور، قومی سلامتی پالیسی یا دفاعی صنعت سے متعلق خاطر خواہ تجربہ موجود نہیں تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503034'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جنگی حالات کے دوران پینٹاگون میں یہ ایک اور اہم تبدیلی قرار دی گئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل امریکا کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈ جارج کو بھی فوری استعفے پر مجبور کیا جا چکا ہے، جس سے عسکری قیادت میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق ہنگ کاؤ کو قائم مقام نیوی سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے، جو فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ جان فیلن کی برطرفی کے ساتھ ہی پینٹاگون میں پیٹ ہیگستھ کی جانب سے ہٹائے جانے والے سینئر حکام کی تعداد 34 ہو گئی ہے، جو امریکی دفاعی ڈھانچے میں ایک بڑی سطح کی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503830</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:43:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/23083627e0ca072.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/23083627e0ca072.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
