<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 13:18:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 13:18:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا: چاندی بنانے والے کارخانے میں کیمیائی اخراج سے دو افراد ہلاک، 20 زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503836/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست ورجینیا میں چاندی تیار کرنے والے ایک کارخانے میں خطرناک کیمیائی اخراج کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ بیس افراد زخمی ہو گئے جن میں سے ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد فیکٹری کے ملازمین تھے، جو حادثے کے وقت ڈیوٹی پر موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ واقعہ ایک غیر رجسٹرڈ فیکٹری میں کیمیائی ردِعمل کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں مہلک ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس خارج ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بیشتر کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم ایک شخص بدستور تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30451384'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30451384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے فیکٹری کو سیل کر دیا ہے جبکہ کیمیائی اخراج کی وجوہات جاننے کے لیے قومی، ریاستی اور مقامی سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ داران کا تعین کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ہائیڈروجن سلفائیڈ ایک نہایت زہریلی گیس ہے، جو زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے ایسے صنعتی یونٹس میں حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست ورجینیا میں چاندی تیار کرنے والے ایک کارخانے میں خطرناک کیمیائی اخراج کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ بیس افراد زخمی ہو گئے جن میں سے ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد فیکٹری کے ملازمین تھے، جو حادثے کے وقت ڈیوٹی پر موجود تھے۔</p>
<p>ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ واقعہ ایک غیر رجسٹرڈ فیکٹری میں کیمیائی ردِعمل کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں مہلک ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس خارج ہوئی۔</p>
<p>ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بیشتر کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم ایک شخص بدستور تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30451384'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30451384"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے فیکٹری کو سیل کر دیا ہے جبکہ کیمیائی اخراج کی وجوہات جاننے کے لیے قومی، ریاستی اور مقامی سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ داران کا تعین کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ہائیڈروجن سلفائیڈ ایک نہایت زہریلی گیس ہے، جو زیادہ مقدار میں سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، اسی لیے ایسے صنعتی یونٹس میں حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503836</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 10:00:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/23093238e8ea197.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/23093238e8ea197.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
