<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Crime</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 20:18:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 20:18:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں تین بچوں کا لرزہ خیز قتل: تفتیش میں نئے انکشافات سامنے آگئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503860/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک گھر سے سے تین کمسن بہن بھائیوں کی گلا کٹی لاشیں برآمد ہونے کے واقعے کی تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی حکام نے بچوں کے والدین، چچا اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق اچھرہ کے ایک رہائشی فلیٹ سے دو بچیوں اور ایک کمسن بچے کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے دو بچوں کی عمریں پانچ اور چار سال جب کہ ایک بچی کی عمر ڈیڑھ سال تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ تینوں بچوں کو مبینہ طور پر گلا کاٹ کر قتل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کے والدین نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ فلیٹ کو باہر سے تالا لگا کر بازار گئے تھے اور واپسی پر انہیں گھر میں اپنے بچوں کی لاشیں ملیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے چچا کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں بچوں کے والدین، چچی اور دادی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست تمام افراد کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا ہے، جس کے باعث تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/bP0CUb1wWG8?si=CFiT0YPW8OSsjpKw'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/bP0CUb1wWG8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفتیش میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب پولیس نے گھر کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیں، جس کے فرانزک تجزیے اور اوقاتِ کار کے باریک بینی سے جائزے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ واقعے کے وقت والدین کے بازار جانے کے بعد بچوں کے چچا کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا گیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کی والدہ گھر واپس آ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی حکام نے جائے وقوعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور واقعے کو جان بوجھ کر مختلف رخ دینے کی کوشش کے واضح شواہد ملنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق جلد سامنے لائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سفاکانہ قتل میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جلد اس افسوسناک واقعے کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور کے علاقے اچھرہ میں ایک گھر سے سے تین کمسن بہن بھائیوں کی گلا کٹی لاشیں برآمد ہونے کے واقعے کی تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی حکام نے بچوں کے والدین، چچا اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق اچھرہ کے ایک رہائشی فلیٹ سے دو بچیوں اور ایک کمسن بچے کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے دو بچوں کی عمریں پانچ اور چار سال جب کہ ایک بچی کی عمر ڈیڑھ سال تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ تینوں بچوں کو مبینہ طور پر گلا کاٹ کر قتل کیا گیا۔</p>
<p>بچوں کے والدین نے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ فلیٹ کو باہر سے تالا لگا کر بازار گئے تھے اور واپسی پر انہیں گھر میں اپنے بچوں کی لاشیں ملیں۔</p>
<p>پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کے چچا کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں بچوں کے والدین، چچی اور دادی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا۔</p>
<p>پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست تمام افراد کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا ہے، جس کے باعث تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/bP0CUb1wWG8?si=CFiT0YPW8OSsjpKw'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/bP0CUb1wWG8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تفتیش میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب پولیس نے گھر کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیں، جس کے فرانزک تجزیے اور اوقاتِ کار کے باریک بینی سے جائزے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ واقعے کے وقت والدین کے بازار جانے کے بعد بچوں کے چچا کو گھر سے باہر نکلتے دیکھا گیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد بچوں کی والدہ گھر واپس آ گئیں۔</p>
<p>تفتیشی حکام نے جائے وقوعہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور واقعے کو جان بوجھ کر مختلف رخ دینے کی کوشش کے واضح شواہد ملنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق جلد سامنے لائے جا سکیں۔</p>
<p>وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سفاکانہ قتل میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔</p>
<p>آئی جی پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور جلد اس افسوسناک واقعے کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Crime</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503860</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 20:10:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2320000925ffec0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2320000925ffec0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
