<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 20:51:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 20:51:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایلون مسک کی 'اسپیس ایکس' کا پاکستانی نژاد انٹرپرینیور کی کمپنی سے 60 ارب ڈالر کا معاہدہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503862/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر کوڈ لکھنے والی کمپنی ”کرسر“ نے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ایلون مسک کی خلائی کمپنی کے ساتھ 60 ارب ڈالر کے ممکنہ معاہدے کی منظوری حاصل کر لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی ”کرسر“، جس کے شریک بانی پاکستانی نژاد صالح آصف ہیں، نے ایلون مسک کی خلائی تحقیقاتی کمپنی کے ساتھ ایک بڑے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت خلائی کمپنی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ رواں سال کے آخر تک ”کرسر“ کو 60 ارب ڈالر میں خرید سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے بیان کے مطابق اگر یہ خریداری مکمل نہ ہو سکی تو خلائی کمپنی مشترکہ کام کے بدلے 10 ارب ڈالر ادا کرے گی۔ دونوں ادارے مل کر جدید مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کریں گے، جن سے کمپیوٹر پروگرام بنانے کا عمل مزید آسان اور تیز ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SpaceX/status/2046713419978453374'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SpaceX/status/2046713419978453374"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صالح آصف کا تعلق کراچی سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم نکسر کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں امریکا کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ 2016 سے 2018 تک بین الاقوامی ریاضی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم کے دوران انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک کمپنی قائم کی، جس نے ”کرسر“ نامی پروگرام تیار کیا۔ یہ پروگرام مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار انداز میں کمپیوٹر کوڈ لکھنے اور اس میں بہتری لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/umarsaif/status/2047194717486710821'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/umarsaif/status/2047194717486710821"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے اور یہ تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی ہزاروں کمپنیاں اور لاکھوں پروگرام بنانے والے افراد اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر عمر سیف نے صالح آصف کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایک بہترین مثال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنی محنت سے آگے بڑھیں اور اپنی صلاحیتوں کے بل پر کامیابی حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں اس کمپنی کی مالیت تقریباً 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جو اس کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر کوڈ لکھنے والی کمپنی ”کرسر“ نے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ایلون مسک کی خلائی کمپنی کے ساتھ 60 ارب ڈالر کے ممکنہ معاہدے کی منظوری حاصل کر لی ہے۔</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی ”کرسر“، جس کے شریک بانی پاکستانی نژاد صالح آصف ہیں، نے ایلون مسک کی خلائی تحقیقاتی کمپنی کے ساتھ ایک بڑے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت خلائی کمپنی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ رواں سال کے آخر تک ”کرسر“ کو 60 ارب ڈالر میں خرید سکے۔</p>
<p>کمپنی کے بیان کے مطابق اگر یہ خریداری مکمل نہ ہو سکی تو خلائی کمپنی مشترکہ کام کے بدلے 10 ارب ڈالر ادا کرے گی۔ دونوں ادارے مل کر جدید مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کریں گے، جن سے کمپیوٹر پروگرام بنانے کا عمل مزید آسان اور تیز ہو جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SpaceX/status/2046713419978453374'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SpaceX/status/2046713419978453374"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صالح آصف کا تعلق کراچی سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم نکسر کالج سے حاصل کی اور بعد ازاں امریکا کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ 2016 سے 2018 تک بین الاقوامی ریاضی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔</p>
<p>تعلیم کے دوران انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک کمپنی قائم کی، جس نے ”کرسر“ نامی پروگرام تیار کیا۔ یہ پروگرام مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار انداز میں کمپیوٹر کوڈ لکھنے اور اس میں بہتری لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/umarsaif/status/2047194717486710821'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/umarsaif/status/2047194717486710821"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے مطابق اس کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے اور یہ تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی ہزاروں کمپنیاں اور لاکھوں پروگرام بنانے والے افراد اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>سابق وفاقی وزیر عمر سیف نے صالح آصف کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایک بہترین مثال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنی محنت سے آگے بڑھیں اور اپنی صلاحیتوں کے بل پر کامیابی حاصل کریں۔</p>
<p>نومبر 2025 میں اس کمپنی کی مالیت تقریباً 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جو اس کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503862</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 17:10:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/231656331150da4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/231656331150da4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
