<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 12:54:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Apr 2026 12:54:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو مزید ایک ارب ڈالر واپس کردیے: اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503880/pakistan-repaid-uae-one-billion-dollars</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 1 ارب ڈالر قرض واپس کر دیا ہے، جس کی تصدیق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کر دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کی مزید ادائیگی کر دی ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر 3.45 ارب ڈالر واپس کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ ادائیگی کے تحت متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے 2.45 ارب ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں مجموعی رقم 3.45 ارب ڈالر بنتی ہے جو مکمل طور پر واپس کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2047527895392731603'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2047527895392731603"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ ادائیگیاں بیرونی مالی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عالمی مالیاتی ساکھ کو برقرار رکھنا اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کے اہم مالیاتی شراکت داروں میں شامل ہے، جو مشکل معاشی حالات میں پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ دنوں موجودہ بین الاقوامی صورت حال کے باعث متحدہ عرب امارات نے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر پاکستان نے قرض واپسی کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503673/pakistan-repaid'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503673"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا تھا کہ پاکستان اس رقم پر 6 فیصد کی شرح سے سود ادا کررہا تھا، یواے ای اس رقم کو پہلے سالانہ بنیاد پر رول اوور کررہا تھا، دسمبر 2025 میں یہ رقم ایک مہینے کے لیے اور پھر 2 مہینے کے لیے رول اوور کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے اپنی عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں اور بروقت وصولیوں سے زرمبادلہ ذخائر پر زیادہ اثر بھی نہیں ہونے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے 2018 میں یو اے ای سے دو ارب ڈالر ڈیپازٹس لیے تھے، جبکہ 2023 میں یو اے ای سے مزید ایک ارب ڈالر حاصل کیے تھے جبکہ 45 کروڑ ڈالر کا قرضہ 30 سال پہلے حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 1 ارب ڈالر قرض واپس کر دیا ہے، جس کی تصدیق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کر دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر کی مزید ادائیگی کر دی ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر 3.45 ارب ڈالر واپس کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ ادائیگی کے تحت متحدہ عرب امارات کو ایک ارب ڈالر منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے 2.45 ارب ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔</p>
<p>یوں مجموعی رقم 3.45 ارب ڈالر بنتی ہے جو مکمل طور پر واپس کر دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2047527895392731603'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2047527895392731603"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ ادائیگیاں بیرونی مالی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عالمی مالیاتی ساکھ کو برقرار رکھنا اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کے اہم مالیاتی شراکت داروں میں شامل ہے، جو مشکل معاشی حالات میں پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ دنوں موجودہ بین الاقوامی صورت حال کے باعث متحدہ عرب امارات نے رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر پاکستان نے قرض واپسی کا فیصلہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503673/pakistan-repaid'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503673"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا تھا کہ پاکستان اس رقم پر 6 فیصد کی شرح سے سود ادا کررہا تھا، یواے ای اس رقم کو پہلے سالانہ بنیاد پر رول اوور کررہا تھا، دسمبر 2025 میں یہ رقم ایک مہینے کے لیے اور پھر 2 مہینے کے لیے رول اوور کی گئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے اپنی عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں اور بروقت وصولیوں سے زرمبادلہ ذخائر پر زیادہ اثر بھی نہیں ہونے دیا۔</p>
<p>پاکستان نے 2018 میں یو اے ای سے دو ارب ڈالر ڈیپازٹس لیے تھے، جبکہ 2023 میں یو اے ای سے مزید ایک ارب ڈالر حاصل کیے تھے جبکہ 45 کروڑ ڈالر کا قرضہ 30 سال پہلے حاصل کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503880</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 10:49:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2409465593f2604.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2409465593f2604.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
