<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 13:29:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Apr 2026 13:29:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فوج کا ایران جنگ بندی ٹوٹنے کی صورت میں آبنائے ہرمز پر حملوں کا منصوبہ تیار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503884/us-military-hormuz-strait-attack-plan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt; امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز، جنوبی خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان کے اطراف ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں خاص طور پر ”ڈائنامک ٹارگٹنگ“ پر توجہ دی جا رہی ہے، جس کے تحت ایران کی چھوٹی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری وسائل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503873/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق اگرچہ امریکی فوج پہلے بھی ایران کی بحریہ کو نشانہ بنا چکی ہے، تاہم ابتدائی کارروائیاں زیادہ تر ان اہداف پر مرکوز تھیں جو آبنائے ہرمز سے دور تھے تاکہ ایران کے اندرونی علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ نئے منصوبوں میں اس کے برعکس اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں کے اطراف زیادہ مرکوز بمباری کی حکمت عملی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این‘‘  کے مطابق ایران کے ساحلی دفاعی میزائلوں کی بڑی تعداد اب بھی محفوظ ہے، جبکہ ایران کے پاس بڑی تعداد میں چھوٹی کشتیاں بھی موجود ہیں جنہیں حملوں کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جو امریکی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503877/us-no-plans-use-nuclear-weapons-iran-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503877"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ایک اور ممکنہ آپشن یہ بھی زیر غور ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ دھمکی کے مطابق توانائی کے مراکز سمیت دوہرے استعمال (ڈوئل یوز) والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے، تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، امریکی عسکری منصوبہ ساز ایرانی فوجی قیادت کے بعض افراد اور ان عناصر کو بھی نشانہ بنانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں جنہیں امریکی حکام کے مطابق مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے والا سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جنگ بندی کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے، اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کردی۔</strong></p>
<p> امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز، جنوبی خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان کے اطراف ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں خاص طور پر ”ڈائنامک ٹارگٹنگ“ پر توجہ دی جا رہی ہے، جس کے تحت ایران کی چھوٹی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری وسائل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503873/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503873"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق اگرچہ امریکی فوج پہلے بھی ایران کی بحریہ کو نشانہ بنا چکی ہے، تاہم ابتدائی کارروائیاں زیادہ تر ان اہداف پر مرکوز تھیں جو آبنائے ہرمز سے دور تھے تاکہ ایران کے اندرونی علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ نئے منصوبوں میں اس کے برعکس اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں کے اطراف زیادہ مرکوز بمباری کی حکمت عملی شامل ہے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این‘‘  کے مطابق ایران کے ساحلی دفاعی میزائلوں کی بڑی تعداد اب بھی محفوظ ہے، جبکہ ایران کے پاس بڑی تعداد میں چھوٹی کشتیاں بھی موجود ہیں جنہیں حملوں کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جو امریکی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503877/us-no-plans-use-nuclear-weapons-iran-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503877"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کے مطابق ایک اور ممکنہ آپشن یہ بھی زیر غور ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ دھمکی کے مطابق توانائی کے مراکز سمیت دوہرے استعمال (ڈوئل یوز) والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے، تاکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔</p>
<p>مزید برآں، امریکی عسکری منصوبہ ساز ایرانی فوجی قیادت کے بعض افراد اور ان عناصر کو بھی نشانہ بنانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں جنہیں امریکی حکام کے مطابق مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے والا سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جنگ بندی کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے، اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کے عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503884</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 11:28:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/241111509ecb1a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/241111509ecb1a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
