<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 18:36:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 18:36:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503892/iranian-foreign-minister-pakistan-visit</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ان کے ہمراہ ہیں، ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے، دورے کا مقصد شراکت داروں سے مشاورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفترِ خارجہ نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد کی باضابطہ تصدیق کر دی۔ ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی ایرانی وفد کی قیادت کریں گے اور وہ اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور دیگر معاملات پر حکام سے مشاورت اور تبادلہ خیال کریں گے۔ ایرانی وزیرخارجہ وزیراعظم شہبازشریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی میڈیا کو پریس بریفنگ کے دوران امن مذاکرات میں امریکی وفد کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق ایران نے اس حوالے سے خود رابطہ کیا اور بالمشافہ ملاقات کی درخواست کی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس امریکا میں موجود رہ کر صورت حال پر نظر رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر سب کو پاکستان روانگی کے لیے اسٹینڈ بائی رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان روانگی سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بتایا تھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان دوروں کا مقصد اپنے قریبی شراکت داروں سے رابطہ اور خطے میں جاری پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سفارتی حکمت عملی میں پڑوسی ممالک کو ترجیح دیتا ہے اور یہ دورے اسی پالیسی کے تحت کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2047685407941296331'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/araghchi/status/2047685407941296331"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر، حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم بھی اسلام آباد میں ہی موجود ہے اور قوی امکان ہے کہ امریکا-ایران مذاکرات کا دوسرے دور جلد ہی شروع ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کے روز پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.mehrnews.com/news/243925/Iran-FM-Araghchi-holds-phone-calls-with-Pakistani-officials"&gt;ایرانی خبر ایجنسی&lt;/a&gt; کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے رابطہ کیا۔ اس دوران حالیہ علاقائی پیش رفت اور ایران و امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خطےکی صورتِ حال، امریکا-ایران جنگ بندی اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کو اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس سلسلے میں پاکستان کے مستقل اور تعمیری سہولت کاری کے کردار کو سراہا۔ جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496/photo/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496/photo/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ی یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے تاہم سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں جس میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر پیش پیش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا تھا، جو بے نتیجہ رہا تھا۔ اب پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہی فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جس میں شرکت کے لیے ایران کی جانب سے امریکی بحری ناکہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503884/us-military-hormuz-strait-attack-plan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متعدد بیانات میں ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلانات کرچکے ہیں۔ جمعرات کو ایک بیان میں انہوں نے امریکی فوج کو ایران کی آبنائے ہرمز میں موجود گن بوٹس کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا پر عدم اعتماد جاری مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں، بندرگاہوں کی بندش اور غیر سنجیدہ رویہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، تاہم دنیا امریکا کی مسلسل بیان بازی، دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضادات کو واضح طور پر دیکھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ان کے ہمراہ ہیں، ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے، دورے کا مقصد شراکت داروں سے مشاورت ہے۔</strong></p>
<p>ترجمان دفترِ خارجہ نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد کی باضابطہ تصدیق کر دی۔ ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔</p>
<p>ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی ایرانی وفد کی قیادت کریں گے اور وہ اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات اور دیگر معاملات پر حکام سے مشاورت اور تبادلہ خیال کریں گے۔ ایرانی وزیرخارجہ وزیراعظم شہبازشریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کریں گے۔</p>
<p>دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی میڈیا کو پریس بریفنگ کے دوران امن مذاکرات میں امریکی وفد کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہوں گے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق ایران نے اس حوالے سے خود رابطہ کیا اور بالمشافہ ملاقات کی درخواست کی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس امریکا میں موجود رہ کر صورت حال پر نظر رکھیں گے اور ضرورت پڑنے پر سب کو پاکستان روانگی کے لیے اسٹینڈ بائی رکھا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان روانگی سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بتایا تھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان دوروں کا مقصد اپنے قریبی شراکت داروں سے رابطہ اور خطے میں جاری پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔</p>
<p>عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سفارتی حکمت عملی میں پڑوسی ممالک کو ترجیح دیتا ہے اور یہ دورے اسی پالیسی کے تحت کیے جارہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2047685407941296331'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/araghchi/status/2047685407941296331"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ادھر، حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم بھی اسلام آباد میں ہی موجود ہے اور قوی امکان ہے کہ امریکا-ایران مذاکرات کا دوسرے دور جلد ہی شروع ہوسکتا ہے۔</p>
<p>ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کے روز پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.mehrnews.com/news/243925/Iran-FM-Araghchi-holds-phone-calls-with-Pakistani-officials">ایرانی خبر ایجنسی</a> کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے رابطہ کیا۔ اس دوران حالیہ علاقائی پیش رفت اور ایران و امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خطےکی صورتِ حال، امریکا-ایران جنگ بندی اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئے۔</p>
<p>نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کو اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس سلسلے میں پاکستان کے مستقل اور تعمیری سہولت کاری کے کردار کو سراہا۔ جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496/photo/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496/photo/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایران اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ی یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے تاہم سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں جس میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر پیش پیش ہے۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا تھا، جو بے نتیجہ رہا تھا۔ اب پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہی فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جس میں شرکت کے لیے ایران کی جانب سے امریکی بحری ناکہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503884/us-military-hormuz-strait-attack-plan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متعدد بیانات میں ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلانات کرچکے ہیں۔ جمعرات کو ایک بیان میں انہوں نے امریکی فوج کو ایران کی آبنائے ہرمز میں موجود گن بوٹس کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا پر عدم اعتماد جاری مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں، بندرگاہوں کی بندش اور غیر سنجیدہ رویہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، تاہم دنیا امریکا کی مسلسل بیان بازی، دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضادات کو واضح طور پر دیکھ رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503892</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 23:50:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبرشوکت پراچہ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/242005524f1ce3c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/242005524f1ce3c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
