<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 16:00:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Apr 2026 16:00:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسٹ بکس کی جگہ اسکرینز کا استعمال: نئی نسل ذہنی طور پر والدین سے کمزور رہ گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503929/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اسکولوں میں روایتی کتابوں کی جگہ ڈیجیٹل اسکرینز اور لیپ ٹاپس کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے تقریباً 30 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے تعلیمی تجربے کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور تعلیمی معیار بہتر بنانا تھا، لیکن نتیجہ ایک ایسی نسل کی صورت میں نکلا جو ذہنی اور تخلیقی طور پر اپنے والدین کے مقابلے میں کمزور ثابت ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://dailygalaxy.com/2026/04/us-schools-30-billion-laptops-tablets-gen-z-cognitive-decline/"&gt;دی ڈیلی گیلیکسی&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ کلاس روم میں گزارا گیا وقت ’تعلیمی‘ سے زیادہ ’ڈیجیٹل‘ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30321405'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30321405"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2021 کے ایک سروے کے مطابق 82 فیصد اساتذہ نے اعتراف کیا کہ ان کے طلبہ روزانہ 1 سے 5 گھنٹے اسکرین پر گزارتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بیلر یونیورسٹی کی 2025 کی تحقیق نے واضح کیا کہ تعلیمی مواد اسکرین پر اس لیے ناکام ہو رہا ہے کیونکہ اس کا مقابلہ ٹک ٹاک جیسے ایپس سے ہے جو انسانی دماغ کو ’نشے‘ کا عادی بنا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک کا ڈیزائن ایسا ہے کہ صارف کو 30 منٹ کے اندر ہی اس کی لت لگ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورہم ہائی اسکول کے ٹیچر جیمز ویلش کی مثال اس رپورٹ کا مرکز ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اسکرین پر لکھنے والے بچوں کی تحریر ”کٹی پھٹی“ اور کاپی پیسٹ شدہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے طلبہ کے لیے پہلا ڈرافٹ ’ہاتھ سے لکھنا‘ لازمی قرار دے دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جو روانی کاغذ پر آتی ہے، وہ کی بورڈ پر ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوم برگ کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ممالک میں ایک صدی سے جاری آئی کیو اسکورز میں اضافے کا رجحان اب الٹ گیا ہے۔ جین زی کی حساب، خواندگی اور تخلیقی صلاحیتوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اور تعلیمی رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے بعد طلبہ کی کارکردگی میں وہ بہتری نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ریاستوں میں ٹیسٹ اسکورز تقریباً جوں کے توں رہے، جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق طلبہ کی تحریری صلاحیت اور توجہ میں کمی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ڈیجیٹل تعلیم پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود طلبہ کی مجموعی کارکردگی میں واضح اضافہ نہیں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تحقیقات کے مطابق طلبہ کلاس رومز میں لیپ ٹاپ اور اسکرینز کا ایک بڑا حصہ غیر تعلیمی سرگرمیوں جیسے سوشل میڈیا اور ویڈیوز دیکھنے میں صرف کرتے ہیں، جس سے ان کی توجہ تعلیم سے ہٹ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30484902'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30484902"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے غلط استعمال اور مناسب تربیت کی کمی اصل چیلنج ہے۔ ان کے مطابق اساتذہ کو ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے بہتر تربیت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل تعلیم واقعی فائدہ مند ثابت ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی اور روایتی طریقہ تعلیم کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ طلبہ کی ذہنی اور تعلیمی ترقی بہتر انداز میں ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسکرینز کا استعمال محدود کر کے دوبارہ کتابوں اور تحریر کی طرف لوٹا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کی ذہنی صلاحیتوں کو بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈن اور فن لینڈ جیسے ممالک، جو کبھی ڈیجیٹل تعلیم میں سب سے آگے تھے، اب دوبارہ اسکولوں میں کاغذ اور کتابوں کی واپسی پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ ”ڈیجیٹل ہونے“ اور ”تعلیم یافتہ ہونے“ میں فرق ہے۔ امریکہ نے ٹیکنالوجی پر پیسہ تو خرچ کیا لیکن انسانی ذہن کی فطرت کو نظر انداز کر دیا، جس کی قیمت اب ایک پوری نسل اپنی ذہنی صلاحیتوں کی کمی سے چکا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اسکولوں میں روایتی کتابوں کی جگہ ڈیجیٹل اسکرینز اور لیپ ٹاپس کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے تقریباً 30 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔</strong></p>
<p>اس بڑے تعلیمی تجربے کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور تعلیمی معیار بہتر بنانا تھا، لیکن نتیجہ ایک ایسی نسل کی صورت میں نکلا جو ذہنی اور تخلیقی طور پر اپنے والدین کے مقابلے میں کمزور ثابت ہو رہی ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://dailygalaxy.com/2026/04/us-schools-30-billion-laptops-tablets-gen-z-cognitive-decline/">دی ڈیلی گیلیکسی</a> میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ کلاس روم میں گزارا گیا وقت ’تعلیمی‘ سے زیادہ ’ڈیجیٹل‘ ہو چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30321405'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30321405"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>2021 کے ایک سروے کے مطابق 82 فیصد اساتذہ نے اعتراف کیا کہ ان کے طلبہ روزانہ 1 سے 5 گھنٹے اسکرین پر گزارتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بیلر یونیورسٹی کی 2025 کی تحقیق نے واضح کیا کہ تعلیمی مواد اسکرین پر اس لیے ناکام ہو رہا ہے کیونکہ اس کا مقابلہ ٹک ٹاک جیسے ایپس سے ہے جو انسانی دماغ کو ’نشے‘ کا عادی بنا دیتے ہیں۔</p>
<p>ٹک ٹاک کا ڈیزائن ایسا ہے کہ صارف کو 30 منٹ کے اندر ہی اس کی لت لگ جاتی ہے۔</p>
<p>گورہم ہائی اسکول کے ٹیچر جیمز ویلش کی مثال اس رپورٹ کا مرکز ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اسکرین پر لکھنے والے بچوں کی تحریر ”کٹی پھٹی“ اور کاپی پیسٹ شدہ ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنے طلبہ کے لیے پہلا ڈرافٹ ’ہاتھ سے لکھنا‘ لازمی قرار دے دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جو روانی کاغذ پر آتی ہے، وہ کی بورڈ پر ممکن نہیں۔</p>
<p>بلوم برگ کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ممالک میں ایک صدی سے جاری آئی کیو اسکورز میں اضافے کا رجحان اب الٹ گیا ہے۔ جین زی کی حساب، خواندگی اور تخلیقی صلاحیتوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>ماہرین اور تعلیمی رپورٹس کے مطابق اس پالیسی کے بعد طلبہ کی کارکردگی میں وہ بہتری نہیں آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔</p>
<p>کئی ریاستوں میں ٹیسٹ اسکورز تقریباً جوں کے توں رہے، جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق طلبہ کی تحریری صلاحیت اور توجہ میں کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ڈیجیٹل تعلیم پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود طلبہ کی مجموعی کارکردگی میں واضح اضافہ نہیں دیکھا گیا۔</p>
<p>مزید تحقیقات کے مطابق طلبہ کلاس رومز میں لیپ ٹاپ اور اسکرینز کا ایک بڑا حصہ غیر تعلیمی سرگرمیوں جیسے سوشل میڈیا اور ویڈیوز دیکھنے میں صرف کرتے ہیں، جس سے ان کی توجہ تعلیم سے ہٹ جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30484902'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30484902"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے غلط استعمال اور مناسب تربیت کی کمی اصل چیلنج ہے۔ ان کے مطابق اساتذہ کو ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے بہتر تربیت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل تعلیم واقعی فائدہ مند ثابت ہو سکے۔</p>
<p>تعلیمی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی اور روایتی طریقہ تعلیم کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ طلبہ کی ذہنی اور تعلیمی ترقی بہتر انداز میں ہو سکے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ اسکرینز کا استعمال محدود کر کے دوبارہ کتابوں اور تحریر کی طرف لوٹا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کی ذہنی صلاحیتوں کو بچایا جا سکے۔</p>
<p>سویڈن اور فن لینڈ جیسے ممالک، جو کبھی ڈیجیٹل تعلیم میں سب سے آگے تھے، اب دوبارہ اسکولوں میں کاغذ اور کتابوں کی واپسی پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ ”ڈیجیٹل ہونے“ اور ”تعلیم یافتہ ہونے“ میں فرق ہے۔ امریکہ نے ٹیکنالوجی پر پیسہ تو خرچ کیا لیکن انسانی ذہن کی فطرت کو نظر انداز کر دیا، جس کی قیمت اب ایک پوری نسل اپنی ذہنی صلاحیتوں کی کمی سے چکا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503929</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 12:41:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/25123755271eab4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/25123755271eab4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
