<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 19:02:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Apr 2026 19:02:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بزرگوں کا دن میں زیادہ سونا موت کو دستک؟ جدید تحقیق کے حیران کن انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504041/elderly-daytime-napping-health-risks</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جدید طبی سائنس اب محض بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان خاموش اشاروں کی کھوج میں ہے جو موت کے منڈلاتے خطرات سے وقت سے پہلے خبردار کر سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سلسلے میں طبی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC13096975/"&gt;جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے بزرگ افراد میں شرحِ اموات اور ان کی نیند کے درمیان ایک لرزہ خیز تعلق دریافت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق دن کے وقت سونے کے معمولات میں غیر معمولی تبدیلی، خاص طور پر ضرورت سے زیادہ قیلولہ کرنا، محض بڑھاپے کی تھکن نہیں بلکہ اعصابی انحطاط یا قلبی صحت میں بگاڑ کی صورت میں موت کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440109'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440109"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مطالعے کے لیے میساچیسٹَس جنرل ہسپتال اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین کی ایک ٹیم نے ”رش میموری اینڈ ایجنگ پروجیکٹ“ کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شرکاء کی زبانی رپورٹس کے بجائے ”ایکٹی گرافی“ نامی جدید آلات کا استعمال کیا گیا، جنہوں نے 1,338 بزرگ افراد کی نیند اور جسمانی سرگرمیوں کا مسلسل 19 سال تک معروضی مشاہدہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/271450398e24e2c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/271450398e24e2c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس ریسرچ پیپر کی مرکزی مصنفہ اور میڈیکل اسکول میں نیند کے عارضوں کی ماہر ڈاکٹر چینلو گاؤ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ یہ پایا کہ دن کی نیند کے دورانیے اور وقت کا موت کے خطرے سے براہِ راست تعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق دن کے وقت سونے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ موت کے خطرے میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سب سے اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ وہ افراد جو صبح کے وقت قیلولہ (مارننگ نیپنگ) کرنے کے عادی ہیں، ان میں شام کو سونے والوں کے مقابلے میں موت کا خطرہ 30 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503684'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503684"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں دراصل جسم کے اندرونی نظام میں ہونے والی خرابیوں کا عکس ہوتی ہیں۔ جب کسی فرد میں ’نیورو ڈی جنریشن‘  یا کارڈیو ویسکولر ہیلتھ  میں گراوٹ شروع ہوتی ہے، تو جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی اپنا توازن کھونے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر گاؤ کے مطابق یہ ایک باہمی تعلق ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ سونا بذاتِ خود بیماری نہیں ہے، بلکہ یہ کسی چھپی ہوئی دائمی بیماری یا حیاتیاتی عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30442233'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30442233"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس جامع مطالعے کا خلاصہ یہ ہے کہ بزرگ افراد کے سونے کے انداز پر نظر رکھ کر ان کی صحت کے مستقبل کے بارے میں اہم پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے یہ تجویز دی ہے کہ مستقبل میں پہننے والے طبی آلات  کو کلینیکل تشخیص کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ نیند کے بدلتے ہوئے پیٹرنز کو بروقت بھانپ کر صحت کے ممکنہ خطرات کو روکا جا سکے۔ یہ تحقیق ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بڑھاپے میں نیند کے معمولات میں آنے والی تبدیلیوں کو محض سستی سمجھ کر نظر انداز کرنا ایک بڑی طبی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جدید طبی سائنس اب محض بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان خاموش اشاروں کی کھوج میں ہے جو موت کے منڈلاتے خطرات سے وقت سے پہلے خبردار کر سکیں۔</strong></p>
<p>اسی سلسلے میں طبی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC13096975/">جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن</a> میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے بزرگ افراد میں شرحِ اموات اور ان کی نیند کے درمیان ایک لرزہ خیز تعلق دریافت کیا ہے۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق دن کے وقت سونے کے معمولات میں غیر معمولی تبدیلی، خاص طور پر ضرورت سے زیادہ قیلولہ کرنا، محض بڑھاپے کی تھکن نہیں بلکہ اعصابی انحطاط یا قلبی صحت میں بگاڑ کی صورت میں موت کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440109'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440109"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس مطالعے کے لیے میساچیسٹَس جنرل ہسپتال اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین کی ایک ٹیم نے ”رش میموری اینڈ ایجنگ پروجیکٹ“ کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا۔</p>
<p>اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شرکاء کی زبانی رپورٹس کے بجائے ”ایکٹی گرافی“ نامی جدید آلات کا استعمال کیا گیا، جنہوں نے 1,338 بزرگ افراد کی نیند اور جسمانی سرگرمیوں کا مسلسل 19 سال تک معروضی مشاہدہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/271450398e24e2c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/271450398e24e2c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس ریسرچ پیپر کی مرکزی مصنفہ اور میڈیکل اسکول میں نیند کے عارضوں کی ماہر ڈاکٹر چینلو گاؤ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ یہ پایا کہ دن کی نیند کے دورانیے اور وقت کا موت کے خطرے سے براہِ راست تعلق ہے۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق دن کے وقت سونے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ موت کے خطرے میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سب سے اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ وہ افراد جو صبح کے وقت قیلولہ (مارننگ نیپنگ) کرنے کے عادی ہیں، ان میں شام کو سونے والوں کے مقابلے میں موت کا خطرہ 30 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503684'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503684"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں دراصل جسم کے اندرونی نظام میں ہونے والی خرابیوں کا عکس ہوتی ہیں۔ جب کسی فرد میں ’نیورو ڈی جنریشن‘  یا کارڈیو ویسکولر ہیلتھ  میں گراوٹ شروع ہوتی ہے، تو جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی اپنا توازن کھونے لگتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر گاؤ کے مطابق یہ ایک باہمی تعلق ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ سونا بذاتِ خود بیماری نہیں ہے، بلکہ یہ کسی چھپی ہوئی دائمی بیماری یا حیاتیاتی عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30442233'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30442233"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس جامع مطالعے کا خلاصہ یہ ہے کہ بزرگ افراد کے سونے کے انداز پر نظر رکھ کر ان کی صحت کے مستقبل کے بارے میں اہم پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>محققین نے یہ تجویز دی ہے کہ مستقبل میں پہننے والے طبی آلات  کو کلینیکل تشخیص کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ نیند کے بدلتے ہوئے پیٹرنز کو بروقت بھانپ کر صحت کے ممکنہ خطرات کو روکا جا سکے۔ یہ تحقیق ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بڑھاپے میں نیند کے معمولات میں آنے والی تبدیلیوں کو محض سستی سمجھ کر نظر انداز کرنا ایک بڑی طبی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504041</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 15:10:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/27145252775c0e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/27145252775c0e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
