<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 19:17:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Apr 2026 19:17:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد فیصد ہوگئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس یا ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیا، ایک فیصد اضافے کے بعد شرح سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 9 مارچ 2026 کے اجلاس میں مرکزی بینک نے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔ تاہم حالیہ جیو پولیٹیکل کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باعث اس بار ماہرین کی رائے منقسم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ نہ کیا جاتا تو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی تھی، اس لیے ایک محتاط اور علامتی اضافہ ضروری تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458938'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عارف حبیب لمیٹڈ نے بزنس ریکاڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  شرح سود برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا تھا، مؤقف اختیار کیا گیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں محتاط پالیسی اپنانا زیادہ مناسب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ٹاپ لائن سیکوریٹریز نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی تھی تاکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور درآمدی دباؤ کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ کمپنی کے سروے کے مطابق 53 فیصد شرکاء شرح سود میں اضافے کے حق میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے سے مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر اثرات بھی مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد فیصد ہوگئی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس یا ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیا، ایک فیصد اضافے کے بعد شرح سود 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ 9 مارچ 2026 کے اجلاس میں مرکزی بینک نے شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق تھا۔ تاہم حالیہ جیو پولیٹیکل کشیدگی اور معاشی دباؤ کے باعث اس بار ماہرین کی رائے منقسم رہی۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر کے ڈائریکٹر ریسرچ علی خضر نے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ نہ کیا جاتا تو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی تھی، اس لیے ایک محتاط اور علامتی اضافہ ضروری تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458938'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب عارف حبیب لمیٹڈ نے بزنس ریکاڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ  شرح سود برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا تھا، مؤقف اختیار کیا گیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں محتاط پالیسی اپنانا زیادہ مناسب ہے۔</p>
<p>اسی طرح ٹاپ لائن سیکوریٹریز نے 50 بیسز پوائنٹس اضافے کی پیشگوئی کی تھی تاکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور درآمدی دباؤ کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔ کمپنی کے سروے کے مطابق 53 فیصد شرکاء شرح سود میں اضافے کے حق میں تھے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے سے مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر اثرات بھی مرتب ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504043</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 16:04:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید صفدر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/271555007f58cba.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/271555007f58cba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
