<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 14:02:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Apr 2026 14:02:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا میں دو ٹرینوں میں ہولناک تصادم، متعدد ہلاکتیں اور درجنوں زخمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے متصل شہر بیکاسی میں پیر کی رات دو ٹرینوں کے درمیان ایک ہولناک تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ بیکاسی ریلوے اسٹیشن پر اس وقت پیش آیا جب ایک لوکل کمیوٹر ٹرین اور ایک طویل فاصلے کی مسافر ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/trains-collide-outskirts-indonesian-capital-local-media-reports-2026-04-27/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق کمیوٹر لائن آپریٹر کی ترجمان کرینا اماندا نے بتایا کہ اس وقت تمام تر توجہ مسافروں اور ٹرین عملے کے انخلاء پر مرکوز ہے۔ انڈونیشیا کے ریلوے آپریٹر کی ترجمان، عینی پوربا نے ایک تحریری بیان میں تصدیق کی کہ اب تک 4 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 38 زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/2810105484439d7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/2810105484439d7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق طویل فاصلے کی ٹرین میں سوار تمام 240 مسافر محفوظ ہیں، تاہم کمیوٹر ٹرین میں سوار مسافروں کی کل تعداد اور زخمی ہونے والے راہگیروں کے بارے میں تاحال مکمل معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/28101054c95d8a2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/28101054c95d8a2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشین پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر، سوفمی ڈاسکو احمد نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریسکیو آپریشن جلد مکمل کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503613/indonesia-helicopter-crash-deaths'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق امدادی کارکن بوگیوں کے دھاتی ڈھانچے کو کاٹنے کے لیے مشینوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان مسافروں کو نکالا جا سکے جو بوگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں مگر زندہ ہیں۔ اسٹیشن پر کم از کم 20 ایمبولینسیں اور انڈونیشیا کی ریسکیو ایجنسی کے اہلکار امدادی کاموں میں مصروف نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ جکارتہ کے پولیس چیف، اسیپ ایڈی سوہیری نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ ریلوے حکام اور پولیس مل کر صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے متصل شہر بیکاسی میں پیر کی رات دو ٹرینوں کے درمیان ایک ہولناک تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ بیکاسی ریلوے اسٹیشن پر اس وقت پیش آیا جب ایک لوکل کمیوٹر ٹرین اور ایک طویل فاصلے کی مسافر ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/trains-collide-outskirts-indonesian-capital-local-media-reports-2026-04-27/">رائٹرز</a> کے مطابق کمیوٹر لائن آپریٹر کی ترجمان کرینا اماندا نے بتایا کہ اس وقت تمام تر توجہ مسافروں اور ٹرین عملے کے انخلاء پر مرکوز ہے۔ انڈونیشیا کے ریلوے آپریٹر کی ترجمان، عینی پوربا نے ایک تحریری بیان میں تصدیق کی کہ اب تک 4 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 38 زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/2810105484439d7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/2810105484439d7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>حکام کے مطابق طویل فاصلے کی ٹرین میں سوار تمام 240 مسافر محفوظ ہیں، تاہم کمیوٹر ٹرین میں سوار مسافروں کی کل تعداد اور زخمی ہونے والے راہگیروں کے بارے میں تاحال مکمل معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/28101054c95d8a2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/28101054c95d8a2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انڈونیشین پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر، سوفمی ڈاسکو احمد نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریسکیو آپریشن جلد مکمل کر لیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503613/indonesia-helicopter-crash-deaths'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عینی شاہدین کے مطابق امدادی کارکن بوگیوں کے دھاتی ڈھانچے کو کاٹنے کے لیے مشینوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان مسافروں کو نکالا جا سکے جو بوگیوں میں پھنسے ہوئے ہیں مگر زندہ ہیں۔ اسٹیشن پر کم از کم 20 ایمبولینسیں اور انڈونیشیا کی ریسکیو ایجنسی کے اہلکار امدادی کاموں میں مصروف نظر آئے۔</p>
<p>حادثے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ جکارتہ کے پولیس چیف، اسیپ ایڈی سوہیری نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ ریلوے حکام اور پولیس مل کر صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504064</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 10:22:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/28101139a8a15be.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/28101139a8a15be.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
