<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 17:30:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Apr 2026 17:30:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ٹرمپ یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد ایران کے خلاف جنگ جاری رکھ سکیں گے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504084/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے قانونی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف سرحد پار دشمن سے بلکہ اپنے ہی ملک کے آئین اور پارلیمنٹ سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ 1973 کے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت صدر ٹرمپ کے پاس یکم مئی تک کی مہلت ہے کہ وہ کانگریس سے اس جنگ کو جاری رکھنے کی باقاعدہ منظوری حاصل کریں، بصورتِ دیگر انہیں ساٹھ دن کی مدت مکمل ہونے پر فوجی کارروائیاں محدود کرنی ہوں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیس اپریل جب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تو انہوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی واضح تاریخ نہیں دی، بلکہ صرف اتنا کہا کہ تہران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی اور وہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی نئی تجویز کا انتظار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کو ایران سے زیادہ واشنگٹن میں موجود ڈیڈ لائن کی فکر ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وار پاورز ایکٹ کے مطابق اگر کانگریس ساٹھ دن کے اندر جنگ جاری رکھنے کی مشترکہ قرارداد منظور نہیں کرتی، تو صدر کو اپنی افواج واپس بلانی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرارداد کی منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے جو اب تک حاصل نہیں ہو سکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504077/china-israel-iran-war-2026-export-oil-train-us-naval-blockade'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کولوراڈو لا اسکول کی پروفیسر مریم جمشیدی نے قطر کے نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/4/24/trumps-may-1-deadline-can-he-continue-war-on-iran-after-that"&gt;’الجزیرہ‘ &lt;/a&gt;سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر تحریری طور پر یہ کہہ کر تیس دن کی مزید مہلت لے سکتے ہیں کہ ’ناگزیر فوجی ضرورت‘ کی وجہ سے فورسز کا وہاں رہنا ضروری ہے، لیکن نوے دن گزرنے کے بعد اگر کانگریس نے باقاعدہ اعلانِ جنگ نہ کیا ہو تو صدر کو ہر صورت آپریشن ختم کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں صدور نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دے کر نظر انداز بھی کیا ہے اور کانگریس کے پاس صدر کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کا کوئی واضح قانونی راستہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی طور پر صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ایک کٹھن مرحلہ نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پندرہ اپریل کو سینیٹ میں صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش اگرچہ 52-47 سے ناکام ہو گئی تھی، لیکن ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے حال ہی میں لکھا ہے کہ میں صدر کے دفاعی اقدامات کی حمایت کرتا ہوں لیکن ساٹھ دن سے زائد جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے، کیونکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حیران کن ہے سینیٹ کی ریپبلکن قیادت اس جنگ کی نگرانی نہیں کر رہی جس پر ہر ہفتے اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن سمندر میں لڑائی اب بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سوال اب بھی وہیں ہے کہ کیا ٹرمپ یکم مئی کے بعد بھی جنگ جاری رکھیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوڈوین کالج کے پروفیسر سالار مہندسی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پوری پہچان ’جیت‘ پر مبنی ہے، اگر وہ پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ ان کی شکست تصور ہوگی۔ وہ ایک جواری کی طرح ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کسی بڑی کامیابی کی امید میں اس جنگ کو مزید طول دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کانگریس کو نظر انداز کرنے کے لیے 2001 اور 2002 کے ان قوانین کا سہارا لے سکتے ہیں جو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے لیے بھی اسی پرانے قانون کا سہارا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے امریکی صدور بھی ایسے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کلنٹن نے 1999 میں یوگوسلاویہ کے خلاف 79 دن تک جنگ جاری رکھی جبکہ اوباما انتظامیہ نے 2011 میں لیبیا پر حملے کے دوران یہ دلیل دی تھی کہ چونکہ وہاں آمنے سامنے براہِ راست فائرنگ نہیں ہو رہی، اس لیے اسے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت باقاعدہ جنگ نہیں مانا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ یکم مئی کی ڈیڈ لائن سے کیسے نمٹتے ہیں اور کیا وہ امریکی عوام کی مخالفت کے باوجود اس مہنگی جنگ کو جاری رکھنے کا کوئی نیا قانونی راستہ نکال پائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے قانونی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف سرحد پار دشمن سے بلکہ اپنے ہی ملک کے آئین اور پارلیمنٹ سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ 1973 کے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت صدر ٹرمپ کے پاس یکم مئی تک کی مہلت ہے کہ وہ کانگریس سے اس جنگ کو جاری رکھنے کی باقاعدہ منظوری حاصل کریں، بصورتِ دیگر انہیں ساٹھ دن کی مدت مکمل ہونے پر فوجی کارروائیاں محدود کرنی ہوں گی۔</strong></p>
<p>بائیس اپریل جب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تو انہوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی واضح تاریخ نہیں دی، بلکہ صرف اتنا کہا کہ تہران کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی اور وہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی نئی تجویز کا انتظار کریں گے۔</p>
<p>لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کو ایران سے زیادہ واشنگٹن میں موجود ڈیڈ لائن کی فکر ہونی چاہیے۔</p>
<p>وار پاورز ایکٹ کے مطابق اگر کانگریس ساٹھ دن کے اندر جنگ جاری رکھنے کی مشترکہ قرارداد منظور نہیں کرتی، تو صدر کو اپنی افواج واپس بلانی پڑتی ہیں۔</p>
<p>اس قرارداد کی منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے جو اب تک حاصل نہیں ہو سکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504077/china-israel-iran-war-2026-export-oil-train-us-naval-blockade'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کولوراڈو لا اسکول کی پروفیسر مریم جمشیدی نے قطر کے نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/4/24/trumps-may-1-deadline-can-he-continue-war-on-iran-after-that">’الجزیرہ‘ </a>سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر تحریری طور پر یہ کہہ کر تیس دن کی مزید مہلت لے سکتے ہیں کہ ’ناگزیر فوجی ضرورت‘ کی وجہ سے فورسز کا وہاں رہنا ضروری ہے، لیکن نوے دن گزرنے کے بعد اگر کانگریس نے باقاعدہ اعلانِ جنگ نہ کیا ہو تو صدر کو ہر صورت آپریشن ختم کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ماضی میں صدور نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دے کر نظر انداز بھی کیا ہے اور کانگریس کے پاس صدر کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کا کوئی واضح قانونی راستہ موجود نہیں۔</p>
<p>سیاسی طور پر صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ایک کٹھن مرحلہ نظر آتا ہے۔</p>
<p>پندرہ اپریل کو سینیٹ میں صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش اگرچہ 52-47 سے ناکام ہو گئی تھی، لیکن ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے حال ہی میں لکھا ہے کہ میں صدر کے دفاعی اقدامات کی حمایت کرتا ہوں لیکن ساٹھ دن سے زائد جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہے، کیونکہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔</p>
<p>ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حیران کن ہے سینیٹ کی ریپبلکن قیادت اس جنگ کی نگرانی نہیں کر رہی جس پر ہر ہفتے اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن سمندر میں لڑائی اب بھی جاری ہے۔</p>
<p>تاہم، سوال اب بھی وہیں ہے کہ کیا ٹرمپ یکم مئی کے بعد بھی جنگ جاری رکھیں گے؟</p>
<p>بوڈوین کالج کے پروفیسر سالار مہندسی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پوری پہچان ’جیت‘ پر مبنی ہے، اگر وہ پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ ان کی شکست تصور ہوگی۔ وہ ایک جواری کی طرح ہیں اور ممکن ہے کہ وہ کسی بڑی کامیابی کی امید میں اس جنگ کو مزید طول دیں۔</p>
<p>الجزیرہ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کانگریس کو نظر انداز کرنے کے لیے 2001 اور 2002 کے ان قوانین کا سہارا لے سکتے ہیں جو نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بنائے گئے تھے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے لیے بھی اسی پرانے قانون کا سہارا لیا تھا۔</p>
<p>ماضی کے امریکی صدور بھی ایسے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>بل کلنٹن نے 1999 میں یوگوسلاویہ کے خلاف 79 دن تک جنگ جاری رکھی جبکہ اوباما انتظامیہ نے 2011 میں لیبیا پر حملے کے دوران یہ دلیل دی تھی کہ چونکہ وہاں آمنے سامنے براہِ راست فائرنگ نہیں ہو رہی، اس لیے اسے ’وار پاورز ایکٹ‘ کے تحت باقاعدہ جنگ نہیں مانا جا سکتا۔</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ یکم مئی کی ڈیڈ لائن سے کیسے نمٹتے ہیں اور کیا وہ امریکی عوام کی مخالفت کے باوجود اس مہنگی جنگ کو جاری رکھنے کا کوئی نیا قانونی راستہ نکال پائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504084</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 14:40:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/28142441e972e65.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/28142441e972e65.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
