<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 19:41:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Apr 2026 19:41:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ پر مشترکہ ردِعمل: عرب سربراہانِ مملکت کی جدہ میں اہم بیٹھک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504089/arab-heads-of-state-meeting-jeddah-on-iran-war-response</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان 40 روزہ جنگ کے بعد سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیج تعاون کونسل کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری پر غور کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.spa.gov.sa/N2573118"&gt;سعودی پریس ایجنسی&lt;/a&gt; کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی صدارت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے ایجنڈے میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال اور ان سے متعلق مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال شامل ہے۔ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/gulf-leaders-meet-saudi-arabia-discuss-response-iranian-strikes-2026-04-28/#:~:text=Subscribe-,Gulf%20leaders%20to%20meet%20in%20Saudi%20Arabia%20to%20discuss%20response,Sign%20up%20here."&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق ایک خلیجی ملک کے اہم عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک مشترکہ ردعمل تیار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے دوران خلیج تعاون کونسل میں شامل تمام چھ خلیجی ریاستوں میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ امریکا سے منسلک فرمز، دیگر سویلین انفراسٹرکچر اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد یہ خلیجی ریاستوں کے سربراہان براہِ راست کا پہلا براہِ راست اجلاس ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/spagov/status/2049070163228553373'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/spagov/status/2049070163228553373"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے خلیجی ملکوں پر حملے رک گئے ہیں تاہم تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے اب تک بے نتیجہ رہنے کی وجہ سے خلیجی ممالک جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی ریاستی میڈیا کے مطابق اس اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کے امیر، کویت کے ولی عہد، بحرین کے بادشاہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ جدہ پہنچ چکے ہیں۔ تاہم خلیج تعاون کونسل کے چھٹے رکن ملک عمان کی نمائندگی کے حوالے سے فی الحال صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل کا ہیڈکوارٹر بھی میزبانی کرنے والے ملک سعودی عرب میں ہی واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس غیر معمولی اجلاس سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے خلیج تعاون کونسل کے مبینہ ناقص ردعمل پر غیر معمولی تنقید سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کے سینئر عہدیدار انور قرقاش نے پیر کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ لاجسٹک لحاظ سے خلیجی ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا، لیکن میرا ماننا ہے کہ سیاسی اور عسکری طور پر ان کا مؤقف انتہائی کمزور تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انور قرقاش نے مزید کہا کہ مجھے عرب لیگ سے تو ایسے کمزور مؤقف کی توقع تھی اور میں اس پر حیران نہیں ہوں لیکن مجھے ’جی سی سی‘ سے ہرگز اس کی توقع نہیں تھی اور یہ میرے لیے حیران کن ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان 40 روزہ جنگ کے بعد سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیج تعاون کونسل کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری پر غور کیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.spa.gov.sa/N2573118">سعودی پریس ایجنسی</a> کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی صدارت ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔</p>
<p>اجلاس کے ایجنڈے میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال اور ان سے متعلق مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال شامل ہے۔ سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/gulf-leaders-meet-saudi-arabia-discuss-response-iranian-strikes-2026-04-28/#:~:text=Subscribe-,Gulf%20leaders%20to%20meet%20in%20Saudi%20Arabia%20to%20discuss%20response,Sign%20up%20here.">رائٹرز</a> کے مطابق ایک خلیجی ملک کے اہم عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک مشترکہ ردعمل تیار کرنا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے دوران خلیج تعاون کونسل میں شامل تمام چھ خلیجی ریاستوں میں توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ امریکا سے منسلک فرمز، دیگر سویلین انفراسٹرکچر اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ چھڑنے کے بعد یہ خلیجی ریاستوں کے سربراہان براہِ راست کا پہلا براہِ راست اجلاس ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/spagov/status/2049070163228553373'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/spagov/status/2049070163228553373"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق 8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے خلیجی ملکوں پر حملے رک گئے ہیں تاہم تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے اب تک بے نتیجہ رہنے کی وجہ سے خلیجی ممالک جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کا شکار ہیں۔</p>
<p>سعودی ریاستی میڈیا کے مطابق اس اہم سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کے امیر، کویت کے ولی عہد، بحرین کے بادشاہ اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ جدہ پہنچ چکے ہیں۔ تاہم خلیج تعاون کونسل کے چھٹے رکن ملک عمان کی نمائندگی کے حوالے سے فی الحال صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل کا ہیڈکوارٹر بھی میزبانی کرنے والے ملک سعودی عرب میں ہی واقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس غیر معمولی اجلاس سے قبل متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے خلیج تعاون کونسل کے مبینہ ناقص ردعمل پر غیر معمولی تنقید سامنے آئی ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کے سینئر عہدیدار انور قرقاش نے پیر کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سچ ہے کہ لاجسٹک لحاظ سے خلیجی ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا، لیکن میرا ماننا ہے کہ سیاسی اور عسکری طور پر ان کا مؤقف انتہائی کمزور تھا‘۔</p>
<p>انور قرقاش نے مزید کہا کہ مجھے عرب لیگ سے تو ایسے کمزور مؤقف کی توقع تھی اور میں اس پر حیران نہیں ہوں لیکن مجھے ’جی سی سی‘ سے ہرگز اس کی توقع نہیں تھی اور یہ میرے لیے حیران کن ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504089</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 17:19:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/281628593187527.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/281628593187527.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
