<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 15:16:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 15:16:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جین زی اور ملینیلز نے لگژری کو ضرورت کیوں بنا لیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504119/gen-z-millennials-luxury-necessity</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسے جیسے زندگی کے روایتی اہداف جیسے گھر خریدنا یا مالی استحکام انسان کی پہنچ سے دور ہوتے جارہے ہیں، نوجوان نسل اپنی ضروریات کی تعریف کو بدل رہی ہے اور سہولت  کو بنیادی ضرورت سمجھنے لگی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے نوجوان پروفیشنلز جو طویل وقت کام کرتے ہیں، وہ کھانا منگوانے، باہر کھانے، جم ممبرشپ، رائیڈ ہیلنگ ایپس اور ہاؤس کلیننگ سروسز کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ وقت بچاتی ہیں اور ذہنی دباؤ کم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ان اخراجات کو عیاشی اور فضول خرچی کے دائرے میں نہیں لاتے ہیں بلکہ ایسی چیز سمجھتے ہیں جو انہیں زیادہ پیداواری، صحت مند اور ذہنی طور پر متوازن رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467827'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467827"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبررساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/markets/on-the-money/why-gen-z-millennials-are-treating-luxuries-like-necessities-2026-04-28/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں کام کرنے والی 28 سالہ وکیل سیفورا گرے کی مثال سامنے ہے۔ وہ ہفتے میں تقریباً 70 گھنٹے کام کرتی ہیں اور اکثر رات 9 بجے گھر پہنچتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی زندگی میں کھانا پکانا یا روزمرہ کاموں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے، اس لیے وہ ماہانہ تقریباً 800 ڈالر فوڈ ڈیلیوری اور باہر کھانے پر خرچ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ، ’یہ محض کھانا نہیں، بلکہ میں وہ 6 سے 8 گھنٹے خرید رہی ہوں جو مجھے کچن میں گزارنے پڑتے۔‘ ان کے مطابق یہ کوئی لگژری نہیں بلکہ وقت بچانے کا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح وہ ماہانہ 500 ڈالر جم ممبرشپ، 400 ڈالر رائیڈ شیئر سروسز اور 400 ڈالر ہاؤس کلیننگ پر خرچ کرتی ہیں۔ چھوٹی خوشیوں جیسے کافی اور چائے پر بھی تقریباً 150 ڈالر ماہانہ لگ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30470969'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30470969"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام اخراجات ان کی صحت، ذہنی سکون اور کام کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیفورا کے مطابق، ’جو چیز پہلے لگژری تھی، وہ اب ضرورت بن گئی ہے کیونکہ یہ مجھے بہتر طریقے سے زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ مطالعے کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ جنریشن زی اور ملینیلز اپنے شوق اور لائف اسٹائل کو ضروریات میں شمار کرتے ہیں۔ وہ سفر، باہر کھانا اور جم جیسی سرگرمیوں کو چھوڑنے کے بجائے اپنی بچت کم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461659'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461659"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ماہرین اس رجحان کو ’خوشی پر سرمایہ کاری‘ قرار دے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کر رہے ہیں کہ ہر سہولت کو سیلف کیئر کہنا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ معاشیات جارجیا لارڈ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ خرچ آپ کی زندگی میں اضافہ کر رہا ہے یا یہ محض کسی ذہنی دباؤ کو چھپانے کا ذریعہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی نسل کے لیے ’ضرورت‘ کا مطلب صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ ’بہتر طور پر جینا‘ ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ سہولت خریدنے کے چکر میں مستقبل کی مالی آزادی کو داؤ پر لگانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مناسب بجٹ پلاننگ ضروری ہے، جس میں 50 فیصد ضروریات، 30 فیصد خواہشات اور 20 فیصد بچت ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسے جیسے زندگی کے روایتی اہداف جیسے گھر خریدنا یا مالی استحکام انسان کی پہنچ سے دور ہوتے جارہے ہیں، نوجوان نسل اپنی ضروریات کی تعریف کو بدل رہی ہے اور سہولت  کو بنیادی ضرورت سمجھنے لگی ہے۔</strong></p>
<p>بہت سے نوجوان پروفیشنلز جو طویل وقت کام کرتے ہیں، وہ کھانا منگوانے، باہر کھانے، جم ممبرشپ، رائیڈ ہیلنگ ایپس اور ہاؤس کلیننگ سروسز کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ وقت بچاتی ہیں اور ذہنی دباؤ کم کرتی ہیں۔</p>
<p>وہ ان اخراجات کو عیاشی اور فضول خرچی کے دائرے میں نہیں لاتے ہیں بلکہ ایسی چیز سمجھتے ہیں جو انہیں زیادہ پیداواری، صحت مند اور ذہنی طور پر متوازن رکھتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467827'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467827"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانوی خبررساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/markets/on-the-money/why-gen-z-millennials-are-treating-luxuries-like-necessities-2026-04-28/">رائٹرز</a> کے مطابق امریکہ کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں کام کرنے والی 28 سالہ وکیل سیفورا گرے کی مثال سامنے ہے۔ وہ ہفتے میں تقریباً 70 گھنٹے کام کرتی ہیں اور اکثر رات 9 بجے گھر پہنچتی ہیں۔</p>
<p>ان کی زندگی میں کھانا پکانا یا روزمرہ کاموں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے، اس لیے وہ ماہانہ تقریباً 800 ڈالر فوڈ ڈیلیوری اور باہر کھانے پر خرچ کرتی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ، ’یہ محض کھانا نہیں، بلکہ میں وہ 6 سے 8 گھنٹے خرید رہی ہوں جو مجھے کچن میں گزارنے پڑتے۔‘ ان کے مطابق یہ کوئی لگژری نہیں بلکہ وقت بچانے کا ذریعہ ہے۔</p>
<p>اسی طرح وہ ماہانہ 500 ڈالر جم ممبرشپ، 400 ڈالر رائیڈ شیئر سروسز اور 400 ڈالر ہاؤس کلیننگ پر خرچ کرتی ہیں۔ چھوٹی خوشیوں جیسے کافی اور چائے پر بھی تقریباً 150 ڈالر ماہانہ لگ جاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30470969'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30470969"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام اخراجات ان کی صحت، ذہنی سکون اور کام کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔</p>
<p>سیفورا کے مطابق، ’جو چیز پہلے لگژری تھی، وہ اب ضرورت بن گئی ہے کیونکہ یہ مجھے بہتر طریقے سے زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔‘</p>
<p>ایک حالیہ مطالعے کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ جنریشن زی اور ملینیلز اپنے شوق اور لائف اسٹائل کو ضروریات میں شمار کرتے ہیں۔ وہ سفر، باہر کھانا اور جم جیسی سرگرمیوں کو چھوڑنے کے بجائے اپنی بچت کم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461659'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461659"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مالیاتی ماہرین اس رجحان کو ’خوشی پر سرمایہ کاری‘ قرار دے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کر رہے ہیں کہ ہر سہولت کو سیلف کیئر کہنا درست نہیں۔</p>
<p>ماہرِ معاشیات جارجیا لارڈ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ خرچ آپ کی زندگی میں اضافہ کر رہا ہے یا یہ محض کسی ذہنی دباؤ کو چھپانے کا ذریعہ ہے؟</p>
<p>نئی نسل کے لیے ’ضرورت‘ کا مطلب صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ ’بہتر طور پر جینا‘ ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ سہولت خریدنے کے چکر میں مستقبل کی مالی آزادی کو داؤ پر لگانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>مناسب بجٹ پلاننگ ضروری ہے، جس میں 50 فیصد ضروریات، 30 فیصد خواہشات اور 20 فیصد بچت ہونی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504119</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 12:43:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/29123939360430b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/29123939360430b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
