<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:45:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 13:45:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شادی میں ڈی جے کی آواز سے 140 مرغیاں ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504161/140-chickens-die-due-to-dj-noise-at-a-wedding</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں ایک شادی کی تقریب میں بجنے والی تیز موسیقی 140 مرغیوں کی موت کا سبب بن گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق 25 اپریل کی رات سلطان پور کے ایک گاؤں میں ببن وشوکرما نامی شخص کی بیٹی کی بارات آئی ہوئی تھی۔ روایتی دھوم دھام کے ساتھ نکلنے والے اس جلوس میں ایک ہائی وولٹیج ڈی جے سسٹم بھی شامل تھا جو انتہائی تیز آواز میں موسیقی بکھیر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ بارات صابر علی نامی شخص کے پولٹری فارم کے قریب سے گزری، تو وہاں موجود پرندوں میں بے چینی پھیل گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503883/woman-acne-clear-skin-transformation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503883"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صابر علی کے مطابق رات تقریباً 9:30 بجے موسیقی کا شور اپنی انتہا پر تھا۔ تیز آواز اور بیس کے تھرتھراہٹ سے مرغیاں بری طرح خوفزدہ ہو گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے 140 مرغیاں ہلاک ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارم کے مالک نے اس مالی نقصان کا ذمہ دار ڈی جے آپریٹر کو ٹھہراتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ڈی جے آپریٹر، کلو یادو کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا آواز کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503622/wife-throws-money-window-after-fight'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندے آواز کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ شور اور تیز آوازیں پرندوں اور جانوروں میں شدید ذہنی دباؤ پیدا کر سکتی ہیں، یا  ہارٹ اٹیک کے باعث بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی انتظامیہ اب اس معاملے کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ محض ایک اتفاق تھا یا واقعی موسیقی کا شوراس بڑے نقصان کی اصل وجہ بنا۔ فی الحال شادی والے گھرانے یا ڈی جے آپریٹر کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں ایک شادی کی تقریب میں بجنے والی تیز موسیقی 140 مرغیوں کی موت کا سبب بن گئی۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق 25 اپریل کی رات سلطان پور کے ایک گاؤں میں ببن وشوکرما نامی شخص کی بیٹی کی بارات آئی ہوئی تھی۔ روایتی دھوم دھام کے ساتھ نکلنے والے اس جلوس میں ایک ہائی وولٹیج ڈی جے سسٹم بھی شامل تھا جو انتہائی تیز آواز میں موسیقی بکھیر رہا تھا۔</p>
<p>جب یہ بارات صابر علی نامی شخص کے پولٹری فارم کے قریب سے گزری، تو وہاں موجود پرندوں میں بے چینی پھیل گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503883/woman-acne-clear-skin-transformation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503883"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صابر علی کے مطابق رات تقریباً 9:30 بجے موسیقی کا شور اپنی انتہا پر تھا۔ تیز آواز اور بیس کے تھرتھراہٹ سے مرغیاں بری طرح خوفزدہ ہو گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے 140 مرغیاں ہلاک ہوگئیں۔</p>
<p>فارم کے مالک نے اس مالی نقصان کا ذمہ دار ڈی جے آپریٹر کو ٹھہراتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔</p>
<p>پولیس نے ڈی جے آپریٹر، کلو یادو کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا آواز کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کر گئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503622/wife-throws-money-window-after-fight'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندے آواز کے معاملے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ شور اور تیز آوازیں پرندوں اور جانوروں میں شدید ذہنی دباؤ پیدا کر سکتی ہیں، یا  ہارٹ اٹیک کے باعث بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>مقامی انتظامیہ اب اس معاملے کی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ محض ایک اتفاق تھا یا واقعی موسیقی کا شوراس بڑے نقصان کی اصل وجہ بنا۔ فی الحال شادی والے گھرانے یا ڈی جے آپریٹر کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504161</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 12:20:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/30122035dce2ea5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/30122035dce2ea5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
