<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Blog</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 17:38:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Apr 2026 17:38:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپیک سے علیحدگی: متحدہ عرب امارات کے لیے فائدہ یا نقصان؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504205/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس سے یکم مئی کو باضابطہ طور پر الگ ہو جائے گا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی اس تنظیم میں اوپیک اور اس کے اتحادی، بشمول روس، شامل ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای) کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال یہ گروپ دنیا کے تقریباً 50 فیصد تیل اور دیگر مائع ایندھن کی پیداوار کا ذمہ دار تھا۔ متحدہ عرب امارات اوپیک میں چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے اعلان کی یہ خبر محض ایک معاشی فیصلے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی توانائی منڈی، خلیجی سیاست اور بین الاقوامی طاقت کے توازن پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 60 سال تک اس اتحاد کا حصہ رہنے کے بعد یو اے ای کا الگ ہونا ایک ایسا قدم ہے جسے نہ صرف جراتمندانہ کہا جا سکتا ہے بلکہ ایک بڑی آزمائش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی یو اے ای کے لیے فائدہ مند ہوگا یا اس کے نقصانات زیادہ ہوں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے فائدے کی بات کی جائے تو یو اے ای کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس کی معاشی خودمختاری ہے۔ اوپیک کے اندر رہتے ہوئے ہر ملک کو ایک مخصوص کوٹے کا پابند ہونا پڑتا ہے، جس کے تحت وہ اپنی تیل کی پیداوار ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھا سکتا۔ یہ نظام بظاہر عالمی منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر یو اے ای جیسے ممالک کے لیے یہ ایک رکاوٹ بن چکا تھا، جو اپنی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظہبی نے حالیہ برسوں میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس کے تحت اس کا ہدف امریکی۔ اسرائیلی ایران جنگ سے قبل 34 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کو بڑھا کر 2027 تک 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا ہے، اور بعد ازاں اس میں مزید اضافے کی گنجائش بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکمتِ عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امارات اپنی تیل کی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور مستقبل میں فوسل فیول کی طلب میں ممکنہ کمی کے پیشِ نظر اپنے ذخائر کو غیر استعمال شدہ رہ جانے کے خطرے سے بچانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک کی پیداواری پابندیوں سے آزاد ہو کر، جن پر امارات طویل عرصے سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، ابوظہبی کے حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے بعد اپنی مرضی سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جب یو اے ای اس اتحاد سے باہر آ چکا ہے تو وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے زیادہ برآمدات، زیادہ زرمبادلہ اور بظاہر ایک مضبوط معیشت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا فائدہ لچکدار پالیسی سازی ہے۔ اوپیک کے اندر فیصلے اجتماعی ہوتے ہیں، جن میں وقت لگتا ہے اور اکثر سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ یو اے ای اب ایک آزاد کھلاڑی کے طور پر عالمی مارکیٹ میں فوری فیصلے کر سکتا ہے۔ وہ قیمتوں، طلب اور رسد کے مطابق اپنی حکمت عملی بدل سکتا ہے، جو اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک برتری دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی یہ قدم مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی پالیسیوں میں خودمختار ہو جاتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کار اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، کیونکہ انہیں ایک واضح اور مستقل حکمت عملی نظر آتی ہے۔ یو اے ای پہلے ہی مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا سرمایہ کاری مرکز ہے، اور یہ فیصلہ اس کی کشش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر ہر فائدے کے ساتھ ایک قیمت بھی ہوتی ہے، اور یو اے ای کو بھی اس فیصلے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑا خطرہ عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کا ہے۔ اگر یو اے ای اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرتا ہے تو مارکیٹ میں سپلائی بڑھ جائے گی۔ جب سپلائی زیادہ ہو اور طلب میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہو تو قیمتیں گرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں یو اے ای کو زیادہ تیل بیچنے کے باوجود وہ آمدنی حاصل نہیں ہو پائے گی جس کی اسے توقع ہے۔ یعنی مقدار بڑھے گی، مگر منافع کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال نہ صرف یو اے ای بلکہ دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر قیمتوں میں مسلسل کمی ہوتی رہی تو یہ عالمی سطح پر ایک’’قیمتوں کی جنگ‘‘ کا آغاز بھی کر سکتی ہے، جہاں ہر ملک زیادہ سے زیادہ تیل بیچنے کی کوشش کرے گا، چاہے قیمت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا نقصان سفارتی سطح پر ہو سکتا ہے۔ اوپیک محض ایک معاشی تنظیم نہیں بلکہ ایک سیاسی پلیٹ فارم بھی ہے، جہاں رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس اتحاد سے نکل کر یو اے ای خود کو ایک حد تک تنہا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تناؤ ایک اہم پہلو ہے۔ اوپیک کی قیادت روایتی طور پر سعودی عرب کے پاس رہی ہے، اور یو اے ای کا اس اتحاد سے نکلنا اس قیادت کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑھتے ہیں تو یہ خلیجی سیاست میں ایک نئی تقسیم پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ فیصلہ خطرات سے خالی نہیں۔ خلیجی خطہ پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر بڑھتا ہوا تناؤ کسی بھی وقت عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے میں اوپیک جیسے اتحاد کا حصہ ہونا ایک طرح کا حفاظتی حصار بھی فراہم کرتا تھا۔ اب یو اے ای کو اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ محتاط اور خود انحصار ہونا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور پہلو عالمی سیاست کا ہے۔ امریکا ہمیشہ  تیل کی کم قیمتوں کا حامی رہا ہے، کیونکہ اس سے اس کی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔ یو اے ای کا زیادہ تیل مارکیٹ میں لانا امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ یعنی یو اے ای ایک طرف فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو دوسری طرف نئے تنازعات کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ یو اے ای اسے کس طرح نافذ کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی پیداوار کو منظم انداز میں بڑھاتا ہے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھتا ہے اور سفارتی تعلقات کو خراب ہونے سے بچاتا ہے تو یہ قدم اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اگر اس نے صرف پیداوار بڑھانے پر توجہ دی اور دیگر پہلوؤں کو نظرانداز کیا تو یہ فیصلہ اس کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصر یہ کہ یو اے ای نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جو امکانات سے بھرا ہوا ہے، مگر خطرات سے بھی خالی نہیں۔ یہ راستہ اسے ایک مضبوط معاشی طاقت بنا سکتا ہے، مگر اس کے لیے دانشمندی، توازن اور دوراندیشی کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک سے علیحدگی یو اے ای کے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ اگر وہ اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے تو یہ فیصلہ تاریخ میں ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ورنہ یہ ایک ایسی جرات مندی ثابت ہو سکتی ہے جس کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس سے یکم مئی کو باضابطہ طور پر الگ ہو جائے گا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی اس تنظیم میں اوپیک اور اس کے اتحادی، بشمول روس، شامل ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی ( آئی اے ای) کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال یہ گروپ دنیا کے تقریباً 50 فیصد تیل اور دیگر مائع ایندھن کی پیداوار کا ذمہ دار تھا۔ متحدہ عرب امارات اوپیک میں چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے اعلان کی یہ خبر محض ایک معاشی فیصلے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی توانائی منڈی، خلیجی سیاست اور بین الاقوامی طاقت کے توازن پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p>تقریباً 60 سال تک اس اتحاد کا حصہ رہنے کے بعد یو اے ای کا الگ ہونا ایک ایسا قدم ہے جسے نہ صرف جراتمندانہ کہا جا سکتا ہے بلکہ ایک بڑی آزمائش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی یو اے ای کے لیے فائدہ مند ہوگا یا اس کے نقصانات زیادہ ہوں گے؟</p>
<p>سب سے پہلے فائدے کی بات کی جائے تو یو اے ای کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس کی معاشی خودمختاری ہے۔ اوپیک کے اندر رہتے ہوئے ہر ملک کو ایک مخصوص کوٹے کا پابند ہونا پڑتا ہے، جس کے تحت وہ اپنی تیل کی پیداوار ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھا سکتا۔ یہ نظام بظاہر عالمی منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر یو اے ای جیسے ممالک کے لیے یہ ایک رکاوٹ بن چکا تھا، جو اپنی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ابوظہبی نے حالیہ برسوں میں تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس کے تحت اس کا ہدف امریکی۔ اسرائیلی ایران جنگ سے قبل 34 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کو بڑھا کر 2027 تک 50 لاکھ بیرل یومیہ تک لے جانا ہے، اور بعد ازاں اس میں مزید اضافے کی گنجائش بھی موجود ہے۔</p>
<p>اس حکمتِ عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امارات اپنی تیل کی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور مستقبل میں فوسل فیول کی طلب میں ممکنہ کمی کے پیشِ نظر اپنے ذخائر کو غیر استعمال شدہ رہ جانے کے خطرے سے بچانا چاہتا ہے۔</p>
<p>اوپیک کی پیداواری پابندیوں سے آزاد ہو کر، جن پر امارات طویل عرصے سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، ابوظہبی کے حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے بعد اپنی مرضی سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔</p>
<p>اب جب یو اے ای اس اتحاد سے باہر آ چکا ہے تو وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے زیادہ برآمدات، زیادہ زرمبادلہ اور بظاہر ایک مضبوط معیشت۔</p>
<p>دوسرا بڑا فائدہ لچکدار پالیسی سازی ہے۔ اوپیک کے اندر فیصلے اجتماعی ہوتے ہیں، جن میں وقت لگتا ہے اور اکثر سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ یو اے ای اب ایک آزاد کھلاڑی کے طور پر عالمی مارکیٹ میں فوری فیصلے کر سکتا ہے۔ وہ قیمتوں، طلب اور رسد کے مطابق اپنی حکمت عملی بدل سکتا ہے، جو اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک برتری دے سکتی ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی یہ قدم مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ جب کوئی ملک اپنی پالیسیوں میں خودمختار ہو جاتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کار اس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، کیونکہ انہیں ایک واضح اور مستقل حکمت عملی نظر آتی ہے۔ یو اے ای پہلے ہی مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا سرمایہ کاری مرکز ہے، اور یہ فیصلہ اس کی کشش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>مگر ہر فائدے کے ساتھ ایک قیمت بھی ہوتی ہے، اور یو اے ای کو بھی اس فیصلے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>سب سے بڑا خطرہ عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کا ہے۔ اگر یو اے ای اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرتا ہے تو مارکیٹ میں سپلائی بڑھ جائے گی۔ جب سپلائی زیادہ ہو اور طلب میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہو تو قیمتیں گرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں یو اے ای کو زیادہ تیل بیچنے کے باوجود وہ آمدنی حاصل نہیں ہو پائے گی جس کی اسے توقع ہے۔ یعنی مقدار بڑھے گی، مگر منافع کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال نہ صرف یو اے ای بلکہ دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر قیمتوں میں مسلسل کمی ہوتی رہی تو یہ عالمی سطح پر ایک’’قیمتوں کی جنگ‘‘ کا آغاز بھی کر سکتی ہے، جہاں ہر ملک زیادہ سے زیادہ تیل بیچنے کی کوشش کرے گا، چاہے قیمت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔</p>
<p>دوسرا بڑا نقصان سفارتی سطح پر ہو سکتا ہے۔ اوپیک محض ایک معاشی تنظیم نہیں بلکہ ایک سیاسی پلیٹ فارم بھی ہے، جہاں رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور مشترکہ مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس اتحاد سے نکل کر یو اے ای خود کو ایک حد تک تنہا کر رہا ہے۔</p>
<p>خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تناؤ ایک اہم پہلو ہے۔ اوپیک کی قیادت روایتی طور پر سعودی عرب کے پاس رہی ہے، اور یو اے ای کا اس اتحاد سے نکلنا اس قیادت کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید بڑھتے ہیں تو یہ خلیجی سیاست میں ایک نئی تقسیم پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ فیصلہ خطرات سے خالی نہیں۔ خلیجی خطہ پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر بڑھتا ہوا تناؤ کسی بھی وقت عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے میں اوپیک جیسے اتحاد کا حصہ ہونا ایک طرح کا حفاظتی حصار بھی فراہم کرتا تھا۔ اب یو اے ای کو اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ محتاط اور خود انحصار ہونا پڑے گا۔</p>
<p>ایک اور پہلو عالمی سیاست کا ہے۔ امریکا ہمیشہ  تیل کی کم قیمتوں کا حامی رہا ہے، کیونکہ اس سے اس کی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔ یو اے ای کا زیادہ تیل مارکیٹ میں لانا امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔ یعنی یو اے ای ایک طرف فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو دوسری طرف نئے تنازعات کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ یو اے ای اسے کس طرح نافذ کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی پیداوار کو منظم انداز میں بڑھاتا ہے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھتا ہے اور سفارتی تعلقات کو خراب ہونے سے بچاتا ہے تو یہ قدم اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر اگر اس نے صرف پیداوار بڑھانے پر توجہ دی اور دیگر پہلوؤں کو نظرانداز کیا تو یہ فیصلہ اس کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>مختصر یہ کہ یو اے ای نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا ہے جو امکانات سے بھرا ہوا ہے، مگر خطرات سے بھی خالی نہیں۔ یہ راستہ اسے ایک مضبوط معاشی طاقت بنا سکتا ہے، مگر اس کے لیے دانشمندی، توازن اور دوراندیشی کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>اوپیک سے علیحدگی یو اے ای کے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ اگر وہ اس موقع کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے تو یہ فیصلہ تاریخ میں ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر یاد رکھا جائے گا، ورنہ یہ ایک ایسی جرات مندی ثابت ہو سکتی ہے جس کی قیمت بہت زیادہ ادا کرنا پڑے گی۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504205</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 14:15:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/3014142034f7224.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/3014142034f7224.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
