<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 01 May 2026 14:01:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 01 May 2026 14:01:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا زیادہ تر افزوده یورینیم اب بھی اصفہان میں ہے، سربراہ آئی اے ای اے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504314/iran</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے زیادہ تر افزودہ یورینیم اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہونے کا امکان ہے، جبکہ نطنز اور فردو تنصیبات کے بھی فوری معائنے کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رافیل گروسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے اندازاً 200 کلو گرام اصفہان کے زیر زمین حصوں یا سرنگوں میں محفوظ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں نطنز اور فردو جیسے اہم جوہری مراکز کا معائنہ بھی ناگزیر ہے تاکہ مکمل شفافیت حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500366'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گروسی کے مطابق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکانات پر روس اور دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کی ہے، تاہم انہوں نے اس عمل کو پیچیدہ اور حساس قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی اور سفارتی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں مذاکرات کی اہمیت بھی نمایاں ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے زیادہ تر افزودہ یورینیم اصفہان کے جوہری مرکز میں موجود ہونے کا امکان ہے، جبکہ نطنز اور فردو تنصیبات کے بھی فوری معائنے کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>رافیل گروسی کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جس میں سے اندازاً 200 کلو گرام اصفہان کے زیر زمین حصوں یا سرنگوں میں محفوظ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں نطنز اور فردو جیسے اہم جوہری مراکز کا معائنہ بھی ناگزیر ہے تاکہ مکمل شفافیت حاصل کی جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500366'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گروسی کے مطابق عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کے امکانات پر روس اور دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کی ہے، تاہم انہوں نے اس عمل کو پیچیدہ اور حساس قرار دیا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی اور سفارتی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں مذاکرات کی اہمیت بھی نمایاں ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504314</guid>
      <pubDate>Fri, 01 May 2026 13:14:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/01130350aaca337.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/01130350aaca337.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
