<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 02 May 2026 14:54:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 02 May 2026 14:54:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ انتظامیہ کا جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کے انخلا کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504399/usa-withara-troops-from-germany</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے جرمنی سے اپنے تقریباً پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت نے یورپ کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ جرمن وزیرِ دفاع نے بھی اس اقدام کو یورپ کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا حکم دے دیا ہے، خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ عمل آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کرتے ہوئے 5 ہزار اہلکاروں کے انخلا کی ہدایت جاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق اس انخلا کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا جس میں تقریباً 6 سے 12 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504398/iran-softens-conditions-for-resuming-peace-talks-with-the-us'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504398"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے اس فیصلے پر باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس اقدام کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور نیٹو اتحاد پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے جرمن قیادت کو ایران جنگ سے متعلق بیانات پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا، جس کے تناظر میں اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے اس اعلان کے بعد نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے کہا ہے کہ نیٹو امریکا کے ساتھ مل کر جرمنی میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی کے فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یورپی ممالک کو اپنی مشترکہ سلامتی کے لیے مزید سرمایہ کاری اور ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نیٹو کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد ہے اور یورپ کو مضبوط بنانے کا عمل جاری رہے گا، خاص طور پر اس کے بعد جب رکن ممالک نے گزشتہ سال ہیگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NATOpress/status/2050498509581828394'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NATOpress/status/2050498509581828394"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ متوقع تھا اور یہ یورپ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے زیادہ ذمہ داری اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ ملک اپنی فوجی طاقت بڑھانے، اسلحہ خریداری کے عمل کو تیز کرنے اور دفاعی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔ جرمنی اپنی فوج (بنڈس ویئر) کی تعداد 1 لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ 60 ہزار کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی جرمنی میں فوجی موجودگی دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوئی تھی اور سرد جنگ کے دوران اپنے عروج پر پہنچی، جب سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے لاکھوں امریکی فوجی وہاں تعینات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی میں امریکی فوجی تنصیبات میں رامسٹائن ایئربیس اور لینڈسٹول اسپتال شامل ہیں، جو ایران، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے فیصلے کے تحت نہ صرف ایک مکمل بریگیڈ جرمنی سے واپس جائے گی بلکہ اس سال تعینات کیے جانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل یونٹ کی تعیناتی بھی منسوخ کر دی گئی ہے، جسے جرمنی کے لیے روس کے خلاف دفاعی حکمت عملی میں اہم سمجھا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے جرمنی سے اپنے تقریباً پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت نے یورپ کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ جرمن وزیرِ دفاع نے بھی اس اقدام کو یورپ کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا حکم دے دیا ہے، خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ عمل آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔</p>
<p>امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کرتے ہوئے 5 ہزار اہلکاروں کے انخلا کی ہدایت جاری کی ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق اس انخلا کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا جس میں تقریباً 6 سے 12 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504398/iran-softens-conditions-for-resuming-peace-talks-with-the-us'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504398"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی حکام نے اس فیصلے پر باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس اقدام کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور نیٹو اتحاد پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے جرمن قیادت کو ایران جنگ سے متعلق بیانات پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا، جس کے تناظر میں اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>امریکا کی جانب سے اس اعلان کے بعد نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے کہا ہے کہ نیٹو امریکا کے ساتھ مل کر جرمنی میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی کے فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یورپی ممالک کو اپنی مشترکہ سلامتی کے لیے مزید سرمایہ کاری اور ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نیٹو کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد ہے اور یورپ کو مضبوط بنانے کا عمل جاری رہے گا، خاص طور پر اس کے بعد جب رکن ممالک نے گزشتہ سال ہیگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NATOpress/status/2050498509581828394'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NATOpress/status/2050498509581828394"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ متوقع تھا اور یہ یورپ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کے لیے زیادہ ذمہ داری اٹھائے۔</p>
<p>جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ ملک اپنی فوجی طاقت بڑھانے، اسلحہ خریداری کے عمل کو تیز کرنے اور دفاعی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔ جرمنی اپنی فوج (بنڈس ویئر) کی تعداد 1 لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ 60 ہزار کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔</p>
<p>امریکہ کی جرمنی میں فوجی موجودگی دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہوئی تھی اور سرد جنگ کے دوران اپنے عروج پر پہنچی، جب سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے لاکھوں امریکی فوجی وہاں تعینات تھے۔</p>
<p>جرمنی میں امریکی فوجی تنصیبات میں رامسٹائن ایئربیس اور لینڈسٹول اسپتال شامل ہیں، جو ایران، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔</p>
<p>پینٹاگون کے فیصلے کے تحت نہ صرف ایک مکمل بریگیڈ جرمنی سے واپس جائے گی بلکہ اس سال تعینات کیے جانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل یونٹ کی تعیناتی بھی منسوخ کر دی گئی ہے، جسے جرمنی کے لیے روس کے خلاف دفاعی حکمت عملی میں اہم سمجھا جا رہا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504399</guid>
      <pubDate>Sat, 02 May 2026 14:48:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/02125021a7edeef.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/02125021a7edeef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
