<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 03 May 2026 11:28:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 03 May 2026 11:28:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تائیوان کے صدر کا افریقی ملک کا اچانک دورہ، چین کی تنقید، ’چوہا‘ قرار دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504488/taiwan-president-visit-eswatini-china-call-him-rat</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے افریقی ملک ایسواٹینی کا اچانک اور غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر تائیوانی صدر نے کہا کہ تائیوان خود مختار ملک ہے اور اسے دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا حق حاصل ہے، جسے کوئی دوسرا ملک نہیں چھین سکتا۔ دوسری جانب چین نے ان کے اس دورے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں ’چوہا‘ قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تائیوان کے صدارتی دفتر کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق صدر لائی چنگ تے نے ایسواتینی کے بادشاہ مسواتی سوم سے ملاقات کے دوران کہا کہ تائیوان کے 2 کروڑ 30 لاکھ عوام کو دنیا کے ساتھ روابط رکھنے کا حق حاصل ہے اور کوئی ملک انہیں اس سے نہیں روک سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کے مطابق بیجنگ نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔ گزشتہ ماہ تائیوان نے کہا تھا کہ چین نے بحرِ ہند کے تین ممالک پر دباؤ ڈال کر لائی چنگ تے کے طیارے کو اسواٹینی جانے کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت واپس لینے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسواٹینی، جسے پہلے سوازی لینڈ کہا جاتا تھا، تقریباً 13 لاکھ آبادی کا حامل ملک ہے اور یہ ان 12 ممالک میں شامل ہے جو تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائی چنگ تے ہفتے کے روز اسواٹینی پہنچے۔ یہ دورہ پہلے سے اعلان کیے بغیر کیا گیا اور وہ اسواٹینی حکومت کے طیارے میں وہاں پہنچے۔ تائیوان کے ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار کے مطابق اس طرح کے اچانک دورے اعلیٰ سطح کی سفارت کاری میں اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ بیرونی مداخلت کے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چین کے تائیوان امور کے دفتر نے ہفتے کی رات جاری بیان میں کہا کہ لائی چنگ تے ’چھپ کر‘ اسواٹینی پہنچے۔ بیان میں ان کے طرز عمل کو قابلِ نفرت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عمل ’سڑک پر دوڑتے چوہے‘ کی مانند ہے جس کا عالمی برادری میں مذاق اڑایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل نے کہا کہ لائی چنگ تے کو کہیں بھی جانے کے لیے بیجنگ کی اجازت درکار نہیں۔ کونسل نے چین کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ کی مذمت اور مسترد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ لائی چنگ تے کے دورے کی منسوخی پر امریکا نے چین پر تنقید کی تھی، جبکہ یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے افریقی ملک ایسواٹینی کا اچانک اور غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر تائیوانی صدر نے کہا کہ تائیوان خود مختار ملک ہے اور اسے دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا حق حاصل ہے، جسے کوئی دوسرا ملک نہیں چھین سکتا۔ دوسری جانب چین نے ان کے اس دورے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں ’چوہا‘ قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>تائیوان کے صدارتی دفتر کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان کے مطابق صدر لائی چنگ تے نے ایسواتینی کے بادشاہ مسواتی سوم سے ملاقات کے دوران کہا کہ تائیوان کے 2 کروڑ 30 لاکھ عوام کو دنیا کے ساتھ روابط رکھنے کا حق حاصل ہے اور کوئی ملک انہیں اس سے نہیں روک سکتا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کے مطابق بیجنگ نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔ گزشتہ ماہ تائیوان نے کہا تھا کہ چین نے بحرِ ہند کے تین ممالک پر دباؤ ڈال کر لائی چنگ تے کے طیارے کو اسواٹینی جانے کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت واپس لینے پر مجبور کیا۔</p>
<p>اسواٹینی، جسے پہلے سوازی لینڈ کہا جاتا تھا، تقریباً 13 لاکھ آبادی کا حامل ملک ہے اور یہ ان 12 ممالک میں شامل ہے جو تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔</p>
<p>لائی چنگ تے ہفتے کے روز اسواٹینی پہنچے۔ یہ دورہ پہلے سے اعلان کیے بغیر کیا گیا اور وہ اسواٹینی حکومت کے طیارے میں وہاں پہنچے۔ تائیوان کے ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار کے مطابق اس طرح کے اچانک دورے اعلیٰ سطح کی سفارت کاری میں اس لیے کیے جاتے ہیں تاکہ بیرونی مداخلت کے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب چین کے تائیوان امور کے دفتر نے ہفتے کی رات جاری بیان میں کہا کہ لائی چنگ تے ’چھپ کر‘ اسواٹینی پہنچے۔ بیان میں ان کے طرز عمل کو قابلِ نفرت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عمل ’سڑک پر دوڑتے چوہے‘ کی مانند ہے جس کا عالمی برادری میں مذاق اڑایا جائے گا۔</p>
<p>اس کے جواب میں تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل نے کہا کہ لائی چنگ تے کو کہیں بھی جانے کے لیے بیجنگ کی اجازت درکار نہیں۔ کونسل نے چین کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ کی مذمت اور مسترد کیا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ لائی چنگ تے کے دورے کی منسوخی پر امریکا نے چین پر تنقید کی تھی، جبکہ یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504488</guid>
      <pubDate>Sun, 03 May 2026 11:25:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/03112351ea9426b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/03112351ea9426b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
