<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 04 May 2026 22:34:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 04 May 2026 22:34:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی آئینی عدالت نے مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504650/the-federal-constitutional-court-declared-failure-to-deliver-a-decision-within-the-stipulated-period-a-violation-of-the-law</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی آئینی عدالت نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور فیصلہ سنانے سے قبل معلومات لیک ہونے کے خلاف اہم افیصلہ جاری کردیا ہے جب کہ عدالت نے مقررہ  مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف  ورزی قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی آئینی عدالت  کے جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں، مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504034/federal-court-restores-passport-control-list-power'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رولز باقاعدہ قانون کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھگتنا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بینچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ رولز پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی مقدمے میں فیصلہ قبل از وقت لیک ہو جائے تو بینچ کا سربراہ ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے جب کہ ایسی سماعت وہی یا کوئی دوسرا بینچ بھی کر سکتا ہے۔ ہائی کورٹس میں ایسے معاملات چیف جسٹس کو جب کہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھجوائے جائیں گے۔ زیر التواء مقدمات کے بوجھ کے باوجود بروقت انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی آئینی عدالت  کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سائلین کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500136/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے 10 ماہ بعد سنائے گئے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ آبزرویشنز کو حذف کردیا۔ یہ کیس پاکستان شپنگ کارپوریشن کی جانب سے پنشن ادائیگی کے معاملے پر دائر اپیل سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے اسے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کو بھجوایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی آئینی عدالت نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلوں میں تاخیر اور فیصلہ سنانے سے قبل معلومات لیک ہونے کے خلاف اہم افیصلہ جاری کردیا ہے جب کہ عدالت نے مقررہ  مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف  ورزی قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی آئینی عدالت  کے جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں، مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504034/federal-court-restores-passport-control-list-power'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504034"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رولز باقاعدہ قانون کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھگتنا ہوتے ہیں۔</p>
<p>فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بینچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ رولز پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے۔</p>
<p>عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی مقدمے میں فیصلہ قبل از وقت لیک ہو جائے تو بینچ کا سربراہ ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے جب کہ ایسی سماعت وہی یا کوئی دوسرا بینچ بھی کر سکتا ہے۔ ہائی کورٹس میں ایسے معاملات چیف جسٹس کو جب کہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھجوائے جائیں گے۔ زیر التواء مقدمات کے بوجھ کے باوجود بروقت انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔</p>
<p>وفاقی آئینی عدالت  کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سائلین کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500136/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے 10 ماہ بعد سنائے گئے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ آبزرویشنز کو حذف کردیا۔ یہ کیس پاکستان شپنگ کارپوریشن کی جانب سے پنشن ادائیگی کے معاملے پر دائر اپیل سے متعلق تھا۔</p>
<p>عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے اسے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کو بھجوایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504650</guid>
      <pubDate>Mon, 04 May 2026 20:55:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/04204922e0fcc93.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/04204922e0fcc93.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
