<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 11:48:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 11:48:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپ کا گھر کروڑوں سال پہلے کہاں تھا؟ نئے ٹول سے دلچسپ منظر دیکھیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504671/earth-newmap-320millionyearsago-utrecht-university</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنسدانوں نے ایک ایسا دلچسپ ڈیجیٹل ٹول متعارف کرایا ہے جو زمین کے براعظموں کی کروڑوں سال پرانی حرکت کو دکھاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ آج کے شہر، ماضی میں کہاں واقع تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیدرلینڈز کی اوتریخت یونیورسٹی کے ماہرین کی قیادت میں تیار کیا گیا یہ نیا نظام عام لوگوں اور محققین دونوں کے لیے زمین کی قدیم تاریخ کو سمجھنے کا ایک نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0346817"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; کی قیادت پروفیسر ڈووے فان ہنسبرگن نے کی، جن کی ٹیم نے ایک ایسا&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://paleolatitude.org/"&gt; آن لائن ٹول&lt;/a&gt; تیار کیا ہے جو کسی بھی مقام کی 32 کروڑ سال پرانی پوزیشن کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زمین ایک ہی عظیم برِاعظم، پینجیا، کی صورت میں موجود تھی۔ سائنسدانوں کے مطابق زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے براعظم وقت کے ساتھ اپنی جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث کئی خطے ماضی میں مختلف موسمی علاقوں کا حصہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504028'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504028"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ محض جغرافیہ کی کہانی نہیں بلکہ تغیر کی ایک گہری علامت بھی ہے۔ جو زمین آج ہمیں مستقل اور ساکت محسوس ہوتی ہے، وہ درحقیقت مسلسل حرکت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر سائنسدانوں نے بتایا کہ تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے نیدرلینڈز کا علاقہ ایک گرم، مرطوب خطہ تھا، جو آج کے خلیج فارس سے مشابہت رکھتا تھا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وقت نہ صرف زمین کو بلکہ اس کے موسموں اور ماحول کو بھی یکسر بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوتریخت یونیورسٹی کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.uu.nl/en/news/where-was-your-back-yard-millions-of-years-ago"&gt;پریس ریلیز&lt;/a&gt; کے مطابق یہ منصوبہ اوتریخت پیلیوجیوگرافی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں قدیم براعظموں اور پہاڑی سلسلوں کی تفصیلی تشکیل نو کی گئی ہے۔ سائنسدانوں نے اس ماڈل کو تیار کرنے کے لیے قدیم چٹانوں میں محفوظ مقناطیسی اشاروں کا مطالعہ کیا۔ یہ اشارے ایک طرح کے قدرتی کمپاس کی طرح کام کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ چٹانیں زمین کے مقناطیسی قطبوں کے حوالے سے کہاں بنی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504668/us-air-force-us-israeli-attack-iran-israel-war-president-donald-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504668"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف معلوماتی دلچسپی تک محدود نہیں بلکہ اس کے عملی فوائد بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوتریخت یونیورسٹی کی ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر ایمیلیا یاروخوفسکا کے مطابق یہ ٹول سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ماضی میں موسمی تبدیلیوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی معدومیت کے دوران جانداروں نے کس طرح ردِعمل ظاہر کیا۔ فوسلز کے درست مقامات معلوم ہونے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شدید گرمی یا سردی کے ادوار میں کون سے علاقے جانداروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کو امید ہے کہ یہ نیا ٹول عام لوگوں کو بھی زمین کی گہری تاریخ سے جوڑنے میں مدد دے گا۔ اب اگر کوئی شخص سفر کرے تو وہ یہ بھی جان سکتا ہے کہ اس کی منزل کروڑوں سال پہلے زمین کے کس حصے میں تھی اور اس نے وقت کے ساتھ کیسا حیران کن سفر طے کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنسدانوں نے ایک ایسا دلچسپ ڈیجیٹل ٹول متعارف کرایا ہے جو زمین کے براعظموں کی کروڑوں سال پرانی حرکت کو دکھاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ آج کے شہر، ماضی میں کہاں واقع تھے۔</strong></p>
<p>نیدرلینڈز کی اوتریخت یونیورسٹی کے ماہرین کی قیادت میں تیار کیا گیا یہ نیا نظام عام لوگوں اور محققین دونوں کے لیے زمین کی قدیم تاریخ کو سمجھنے کا ایک نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔</p>
<p>اس <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0346817">تحقیق</a> کی قیادت پروفیسر ڈووے فان ہنسبرگن نے کی، جن کی ٹیم نے ایک ایسا<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://paleolatitude.org/"> آن لائن ٹول</a> تیار کیا ہے جو کسی بھی مقام کی 32 کروڑ سال پرانی پوزیشن کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زمین ایک ہی عظیم برِاعظم، پینجیا، کی صورت میں موجود تھی۔ سائنسدانوں کے مطابق زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے براعظم وقت کے ساتھ اپنی جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث کئی خطے ماضی میں مختلف موسمی علاقوں کا حصہ رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504028'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504028"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ محض جغرافیہ کی کہانی نہیں بلکہ تغیر کی ایک گہری علامت بھی ہے۔ جو زمین آج ہمیں مستقل اور ساکت محسوس ہوتی ہے، وہ درحقیقت مسلسل حرکت میں ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر سائنسدانوں نے بتایا کہ تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے نیدرلینڈز کا علاقہ ایک گرم، مرطوب خطہ تھا، جو آج کے خلیج فارس سے مشابہت رکھتا تھا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وقت نہ صرف زمین کو بلکہ اس کے موسموں اور ماحول کو بھی یکسر بدل دیتا ہے۔</p>
<p>اوتریخت یونیورسٹی کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.uu.nl/en/news/where-was-your-back-yard-millions-of-years-ago">پریس ریلیز</a> کے مطابق یہ منصوبہ اوتریخت پیلیوجیوگرافی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں قدیم براعظموں اور پہاڑی سلسلوں کی تفصیلی تشکیل نو کی گئی ہے۔ سائنسدانوں نے اس ماڈل کو تیار کرنے کے لیے قدیم چٹانوں میں محفوظ مقناطیسی اشاروں کا مطالعہ کیا۔ یہ اشارے ایک طرح کے قدرتی کمپاس کی طرح کام کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ چٹانیں زمین کے مقناطیسی قطبوں کے حوالے سے کہاں بنی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504668/us-air-force-us-israeli-attack-iran-israel-war-president-donald-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504668"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق صرف معلوماتی دلچسپی تک محدود نہیں بلکہ اس کے عملی فوائد بھی ہیں۔</p>
<p>اوتریخت یونیورسٹی کی ماہرِ حیاتیات ڈاکٹر ایمیلیا یاروخوفسکا کے مطابق یہ ٹول سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ماضی میں موسمی تبدیلیوں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی معدومیت کے دوران جانداروں نے کس طرح ردِعمل ظاہر کیا۔ فوسلز کے درست مقامات معلوم ہونے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شدید گرمی یا سردی کے ادوار میں کون سے علاقے جانداروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوئے۔</p>
<p>محققین کو امید ہے کہ یہ نیا ٹول عام لوگوں کو بھی زمین کی گہری تاریخ سے جوڑنے میں مدد دے گا۔ اب اگر کوئی شخص سفر کرے تو وہ یہ بھی جان سکتا ہے کہ اس کی منزل کروڑوں سال پہلے زمین کے کس حصے میں تھی اور اس نے وقت کے ساتھ کیسا حیران کن سفر طے کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504671</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 09:43:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/050924260994eb7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/050924260994eb7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
