<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 17:37:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 17:37:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا متحدہ عرب امارات کے کچھ ساحلی علاقوں کو قبضے میں لینے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504731/iran-claims-control-uae-coastline-maritime-map</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے متحدہ عرب امارات کے کچھ ساحلی علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایک نیا بحری نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں توسیع شدہ حدود دکھائی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کے مطابق ایران نے ایک نئے بحری نقشے کے ذریعے اپنی کنٹرول شدہ سمندری حدود میں توسیع کا دعویٰ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں کے کچھ حصے بھی شامل دکھائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی مؤقف کے مطابق یہ نئی حدود آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی خلیجِ عمان تک پھیلتی ہیں، جہاں یو اے ای کے اہم ساحلی شہر فجیرہ اور خورفکان واقع ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اب اس کے زیرِ کنٹرول بحری دائرہ کار میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کے مطابق فجیرہ اور خورفکان دونوں بندرگاہیں یو اے ای کے لیے اس وقت خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہ خلیجِ عمان پر واقع ہیں اور حالیہ کشیدگی کے دوران یو اے ای نے انہی بندرگاہوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل جاری رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصاً فجیرہ کی بندرگاہ کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ابو ظہبی کروڈ آئل پائپ لائن کے اختتامی مقام پر واقع ہے، جو اندرونِ ملک آئل فیلڈز سے خام تیل یہاں منتقل کرتی ہے۔ اسی نظام کے ذریعے یو اے ای جنگی حالات کے باوجود عالمی منڈیوں کو تیل فراہم کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504730/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی مؤقف کے مطابق اگر ان بندرگاہوں تک رسائی پر مؤثر کنٹرول قائم کر لیا جائے تو اس سے یو اے ای پر بحری دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے پر کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے پیر کے روز آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا، جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری نقشے میں ایک لکیر ایران میں کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے جنوب میں کھینچی گئی جب کہ دوسری لکیر ایران میں قشم جزیرہ اور متحدہ عرب امارات میں ام القوین کے درمیان کھینچی گئی ہے۔ پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان لکیروں کے درمیان کے علاقے پر ایرانی افواج کا کنٹرول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور امریکی بحریہ کو اس کے قریب بھی نہیں آنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا تھا ایران اپنی خود مختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کا سخت جواب دے گا، ابراہیم عزیزی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے اہم بحری راستے ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ان راستوں کی بندش یا کنٹرول کے دعوے عالمی تیل کی سپلائی اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے متحدہ عرب امارات کے کچھ ساحلی علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایک نیا بحری نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں توسیع شدہ حدود دکھائی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>ایرانی حکام کے مطابق ایران نے ایک نئے بحری نقشے کے ذریعے اپنی کنٹرول شدہ سمندری حدود میں توسیع کا دعویٰ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں کے کچھ حصے بھی شامل دکھائے گئے ہیں۔</p>
<p>ایرانی مؤقف کے مطابق یہ نئی حدود آبنائے ہرمز سے آگے بڑھتی ہوئی خلیجِ عمان تک پھیلتی ہیں، جہاں یو اے ای کے اہم ساحلی شہر فجیرہ اور خورفکان واقع ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ علاقے اب اس کے زیرِ کنٹرول بحری دائرہ کار میں شامل ہیں۔</p>
<p>ایرانی حکام کے مطابق فجیرہ اور خورفکان دونوں بندرگاہیں یو اے ای کے لیے اس وقت خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہ خلیجِ عمان پر واقع ہیں اور حالیہ کشیدگی کے دوران یو اے ای نے انہی بندرگاہوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل جاری رکھی۔</p>
<p>خصوصاً فجیرہ کی بندرگاہ کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ابو ظہبی کروڈ آئل پائپ لائن کے اختتامی مقام پر واقع ہے، جو اندرونِ ملک آئل فیلڈز سے خام تیل یہاں منتقل کرتی ہے۔ اسی نظام کے ذریعے یو اے ای جنگی حالات کے باوجود عالمی منڈیوں کو تیل فراہم کرتا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504730/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی مؤقف کے مطابق اگر ان بندرگاہوں تک رسائی پر مؤثر کنٹرول قائم کر لیا جائے تو اس سے یو اے ای پر بحری دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے پر کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے پیر کے روز آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا، جس میں ان علاقوں کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری نقشے میں ایک لکیر ایران میں کوہ مبارک اور متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے جنوب میں کھینچی گئی جب کہ دوسری لکیر ایران میں قشم جزیرہ اور متحدہ عرب امارات میں ام القوین کے درمیان کھینچی گئی ہے۔ پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان لکیروں کے درمیان کے علاقے پر ایرانی افواج کا کنٹرول ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور امریکی بحریہ کو اس کے قریب بھی نہیں آنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا تھا ایران اپنی خود مختاری کے خلاف کسی بھی خطرے کا سخت جواب دے گا، ابراہیم عزیزی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے اہم بحری راستے ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ان راستوں کی بندش یا کنٹرول کے دعوے عالمی تیل کی سپلائی اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504731</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 17:35:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/051722215b62aae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/051722215b62aae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
