<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 06 May 2026 00:44:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 06 May 2026 00:44:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ایکس‘ نے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے اکاؤنٹ سے بلیو چیک ہٹا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504765/iran-x-blue-check-removed-ismail-baghaei-reaction</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’ایکس‘ کی جانب سے اپنے اکاؤنٹ سے بلیو چیک ہٹائے جانے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اسے جانبدارانہ اقدام قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئیٹر) پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے ان کے اکاؤنٹ سے بلیو چیک ہٹا دیا ہے، حالانکہ اس کے لیے مکمل پریمیم پلس ادائیگی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ اور وزیر کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے بھی بلیو چیک ختم کیے جا چکے ہیں، اور اب ترجمان کے اکاؤنٹ کو بھی ڈی ویریفائی کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2051686651991073162'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2051686651991073162"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل بقائی کے مطابق یہ اقدام من مانا ہے اور یہ ایکس کے جانبدارانہ طرز عمل اور مخصوص سنسرشپ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کا مقصد امریکا کی ایران کے خلاف جنگ سے متعلق حقائق کو دبانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایکس کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایکس پر بلیو چیک یا تصدیقی نشان عام طور پر کسی اکاؤنٹ کی شناخت کی تصدیق کے لیے دیا جاتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی پالیسی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے بعد یہ سروس بامعاوضہ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’ایکس‘ کی جانب سے اپنے اکاؤنٹ سے بلیو چیک ہٹائے جانے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اسے جانبدارانہ اقدام قرار دیا۔</strong></p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئیٹر) پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے ان کے اکاؤنٹ سے بلیو چیک ہٹا دیا ہے، حالانکہ اس کے لیے مکمل پریمیم پلس ادائیگی کی گئی تھی۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ اور وزیر کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے بھی بلیو چیک ختم کیے جا چکے ہیں، اور اب ترجمان کے اکاؤنٹ کو بھی ڈی ویریفائی کر دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2051686651991073162'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2051686651991073162"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسماعیل بقائی کے مطابق یہ اقدام من مانا ہے اور یہ ایکس کے جانبدارانہ طرز عمل اور مخصوص سنسرشپ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کا مقصد امریکا کی ایران کے خلاف جنگ سے متعلق حقائق کو دبانا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایکس کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایکس پر بلیو چیک یا تصدیقی نشان عام طور پر کسی اکاؤنٹ کی شناخت کی تصدیق کے لیے دیا جاتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی پالیسی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کے بعد یہ سروس بامعاوضہ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504765</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 22:51:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/052248107d6f802.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/052248107d6f802.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
