<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 05 May 2026 23:52:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 05 May 2026 23:52:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی وزیرِ جنگ کا ایران کے 'خودکش ڈولفنز' کے دعوؤں پر ردِعمل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504775/us-rejects-iran-kamikaze-dolphins-claims-hegseth-briefing</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران سے منسوب خودکش ڈولفنز کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی تصدیق موجود نہیں۔ یہ معاملہ ایک میڈیا رپورٹ کے بعد زیرِ بحث آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمۂ دفاع کی منگل کے روز ہونے والی بریفنگ میں صحافیوں نے ایران سے منسوب ’خودکش ڈولفنز‘ کے غیر معمولی دعوے پر سوال کیا۔ اس پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کہ کسی کے پاس ایسے ڈولفنز موجود ہیں یا نہیں، تاہم ان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ ایران کے پاس ایسے ڈولفنز نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.foxnews.com/politics/hegseth-shoots-down-iran-kamikaze-dolphins-leaves-us-question-open"&gt;فاکس نیوز&lt;/a&gt;‘ کے مطاق یہ بحث اس وقت سامنے آئی جب گذشتہ دنوں امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ تہران ماضی کے ایک پروگرام پر غور کر سکتا ہے جس کے تحت تربیت یافتہ ڈولفنز کو سمندری آپریشنز یا بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CGTNEurope/status/2051708749367427351'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CGTNEurope/status/2051708749367427351"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایران کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس نے مبینہ طور پر 2000 میں سابق سوویت یونین کے ایک پروگرام سے ڈولفنز حاصل کیے تھے، تاہم اس بات کی کوئی تصدیق موجود نہیں کہ یہ صلاحیتیں یا پروگرام اس وقت فعال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ کے بعد یہ معاملہ امریکی میڈیا میں بھی زیرِ بحث رہا، جہاں ’سی این این‘ اور ’فاکس نیوز‘ سمیت مختلف اداروں نے اس پر گفتگو کی۔ تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو عجیب قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے بریفنگ کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ امریکی بحریہ کا ایک ’میرین میمل پروگرام‘ موجود ہے، جس کے تحت ڈولفنز کو بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور سمندری مشنز میں مدد کے لیے تربیت دی جاتی ہے، تاہم انہیں بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران سے منسوب خودکش ڈولفنز کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی تصدیق موجود نہیں۔ یہ معاملہ ایک میڈیا رپورٹ کے بعد زیرِ بحث آیا۔</strong></p>
<p>امریکی محکمۂ دفاع کی منگل کے روز ہونے والی بریفنگ میں صحافیوں نے ایران سے منسوب ’خودکش ڈولفنز‘ کے غیر معمولی دعوے پر سوال کیا۔ اس پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کہ کسی کے پاس ایسے ڈولفنز موجود ہیں یا نہیں، تاہم ان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ ایران کے پاس ایسے ڈولفنز نہیں ہیں۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.foxnews.com/politics/hegseth-shoots-down-iran-kamikaze-dolphins-leaves-us-question-open">فاکس نیوز</a>‘ کے مطاق یہ بحث اس وقت سامنے آئی جب گذشتہ دنوں امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ تہران ماضی کے ایک پروگرام پر غور کر سکتا ہے جس کے تحت تربیت یافتہ ڈولفنز کو سمندری آپریشنز یا بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CGTNEurope/status/2051708749367427351'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CGTNEurope/status/2051708749367427351"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق ایران کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس نے مبینہ طور پر 2000 میں سابق سوویت یونین کے ایک پروگرام سے ڈولفنز حاصل کیے تھے، تاہم اس بات کی کوئی تصدیق موجود نہیں کہ یہ صلاحیتیں یا پروگرام اس وقت فعال ہیں۔</p>
<p>اس رپورٹ کے بعد یہ معاملہ امریکی میڈیا میں بھی زیرِ بحث رہا، جہاں ’سی این این‘ اور ’فاکس نیوز‘ سمیت مختلف اداروں نے اس پر گفتگو کی۔ تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو عجیب قرار دیا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام نے بریفنگ کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ امریکی بحریہ کا ایک ’میرین میمل پروگرام‘ موجود ہے، جس کے تحت ڈولفنز کو بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور سمندری مشنز میں مدد کے لیے تربیت دی جاتی ہے، تاہم انہیں بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504775</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 23:43:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/05233823f03015c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/05233823f03015c.webp"/>
        <media:title>اے آئی جنریٹیڈ تصویر</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
