<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 15:15:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 15:15:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا 'ہنٹا وائرس' کووِڈ-19 کی طرح پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505055/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ برسوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ نے پوری دنیا میں صحت کے حوالے سے ایک تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب بھی کسی نئے وائرس کا نام سامنے آتا ہے، تو ذہن میں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا یہ کووڈ-19 کی طرح خطرناک ثابت ہوگا؟ ہنٹا وائرس بھی ایک ایسا ہی نام ہے جس کے بارے میں لوگ الجھن کا شکار ہورہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح پھیل سکتا ہے؟ آئیے اس وائرس کی حقیقت، اس کے پھیلاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر پوری دنیا میں پائی جارہی ہے اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مرکز برائے انسدادِ امراض (سی ڈی سی) کے مطابق، ہنٹا وائرس بنیادی طور پر ایک زونیوٹک بیماری ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، نہ کہ عام حالات میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں یعنی ہنٹا وائرس، کووڈ-19 کی طرح انسانوں میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر ماریہ وان کرخوو نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ یہ کووڈ جیسی کسی نئی وبا کی شروعات نہیں ہے۔ ادارہ صحت کے مطابق عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وائرس کا پھیلاؤ انسانی رابطے پر منحصر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں، گلہریوں اور جنگلی چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب ان جانوروں کا فضلہ، پیشاب یا تھوک ماحول میں موجود ہو، تو یہ وائرس متحرک رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ جب چوہوں کا خشک فضلہ ہوا میں اڑتا ہے اور انسان اس آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں، تو وائرس پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کووڈ-19 انتہائی متعدی ہے اور کھانسنے یا چھینکنے سے نکلنے والے قطروں یا بخارات  کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس کے برعکس، ہنٹا وائرس کا ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونا انتہائی نایاب ہے۔ صرف جنوبی امریکہ میں پائے جانے والے ”اینڈیز وائرس“ میں چند ایسے کیسز دیکھے گئے ہیں جہاں قریبی جسمانی تعلق سے یہ پھیلا ہو، ورنہ یہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505036'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، لیکن اس کی شدت بہت زیادہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہنٹا وائرس کی شرحِ اموات  تقریباً 38 فیصد سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو کہ کووڈ-19 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ شامل ہیں، جو بعد ازاں سانس کی شدید تکلیف میں بدل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ وائرس چوہوں سے وابستہ ہے، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے۔ درج ذیل تدابیر پر عمل کر کے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گھروں، گوداموں اور اسٹور رومز میں چوہوں کی موجودگی کو ختم کریں اور کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ برتنوں میں رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی جگہیں جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، وہاں خشک جھاڑو دینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے آلودہ ذرات ہوا میں اڑ سکتے ہیں۔ صفائی سے پہلے ان جگہوں کو جراثیم کش لوشن سے اسپرے کرنا چاہیے تاکہ دھول مٹی نہ اُڑے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504934'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی بند جگہوں یا پرانے گوداموں کی صفائی کرتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی کریں۔ کسی بھی بند جگہ کو استعمال کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح ہوا دار بنائیں تاکہ اگر ہوا میں کوئی وائرس موجود ہو تو وہ نکل جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنٹا وائرس کوئی نیا وائرس نہیں ہے، بلکہ یہ دہائیوں سے موجود ہے۔ اگرچہ اس کی شرحِ اموات بلند ہے، لیکن اس کے پھیلنے کا محدود طریقہ کار اسے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا بننے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اس پر مسلسل نظر رکھتا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور چوہوں جیسے موذی جانوروں سے دوری اختیار کریں، تو اس وائرس سے بچنا بالکل ممکن ہے۔ یاد رکھیں، کسی بھی بیماری کے خلاف ہمارا پہلا دفاع آگاہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ برسوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ نے پوری دنیا میں صحت کے حوالے سے ایک تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب بھی کسی نئے وائرس کا نام سامنے آتا ہے، تو ذہن میں پہلا سوال یہی ابھرتا ہے کہ کیا یہ کووڈ-19 کی طرح خطرناک ثابت ہوگا؟ ہنٹا وائرس بھی ایک ایسا ہی نام ہے جس کے بارے میں لوگ الجھن کا شکار ہورہے ہیں۔</strong></p>
<p>کیا ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح پھیل سکتا ہے؟ آئیے اس وائرس کی حقیقت، اس کے پھیلاؤ کے طریقے اور احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیتے ہیں۔</p>
<p>بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر پوری دنیا میں پائی جارہی ہے اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مرکز برائے انسدادِ امراض (سی ڈی سی) کے مطابق، ہنٹا وائرس بنیادی طور پر ایک زونیوٹک بیماری ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، نہ کہ عام حالات میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں یعنی ہنٹا وائرس، کووڈ-19 کی طرح انسانوں میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ڈائریکٹر ماریہ وان کرخوو نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ یہ کووڈ جیسی کسی نئی وبا کی شروعات نہیں ہے۔ ادارہ صحت کے مطابق عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وائرس کا پھیلاؤ انسانی رابطے پر منحصر نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2052482350152310975?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں، گلہریوں اور جنگلی چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب ان جانوروں کا فضلہ، پیشاب یا تھوک ماحول میں موجود ہو، تو یہ وائرس متحرک رہتا ہے۔</p>
<p>اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ جب چوہوں کا خشک فضلہ ہوا میں اڑتا ہے اور انسان اس آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں، تو وائرس پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>کووڈ-19 انتہائی متعدی ہے اور کھانسنے یا چھینکنے سے نکلنے والے قطروں یا بخارات  کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اس کے برعکس، ہنٹا وائرس کا ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونا انتہائی نایاب ہے۔ صرف جنوبی امریکہ میں پائے جانے والے ”اینڈیز وائرس“ میں چند ایسے کیسز دیکھے گئے ہیں جہاں قریبی جسمانی تعلق سے یہ پھیلا ہو، ورنہ یہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505036'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، لیکن اس کی شدت بہت زیادہ ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہنٹا وائرس کی شرحِ اموات  تقریباً 38 فیصد سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو کہ کووڈ-19 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ شامل ہیں، جو بعد ازاں سانس کی شدید تکلیف میں بدل سکتی ہیں۔</p>
<p>چونکہ یہ وائرس چوہوں سے وابستہ ہے، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہترین علاج ہے۔ درج ذیل تدابیر پر عمل کر کے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گھروں، گوداموں اور اسٹور رومز میں چوہوں کی موجودگی کو ختم کریں اور کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ برتنوں میں رکھیں۔</p>
<p>ایسی جگہیں جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، وہاں خشک جھاڑو دینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے آلودہ ذرات ہوا میں اڑ سکتے ہیں۔ صفائی سے پہلے ان جگہوں کو جراثیم کش لوشن سے اسپرے کرنا چاہیے تاکہ دھول مٹی نہ اُڑے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504934'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے ساتھ ہی بند جگہوں یا پرانے گوداموں کی صفائی کرتے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی کریں۔ کسی بھی بند جگہ کو استعمال کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح ہوا دار بنائیں تاکہ اگر ہوا میں کوئی وائرس موجود ہو تو وہ نکل جائے۔</p>
<p>ہنٹا وائرس کوئی نیا وائرس نہیں ہے، بلکہ یہ دہائیوں سے موجود ہے۔ اگرچہ اس کی شرحِ اموات بلند ہے، لیکن اس کے پھیلنے کا محدود طریقہ کار اسے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا بننے سے روکتا ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اس پر مسلسل نظر رکھتا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں اور چوہوں جیسے موذی جانوروں سے دوری اختیار کریں، تو اس وائرس سے بچنا بالکل ممکن ہے۔ یاد رکھیں، کسی بھی بیماری کے خلاف ہمارا پہلا دفاع آگاہی ہے۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505055</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:17:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/08122242d0f1ed7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/08122242d0f1ed7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
