<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 14:37:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 14:37:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی کوریا: مارشل لا کا راستہ روکنے سے متعلق آئینی ترمیم پر ووٹنگ مؤخر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505066/south-korea-parliament-drops-constitutional-amendment</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے مارشل لا سے متعلق آئینی ترمیم کے بل پر ووٹنگ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ اپوزیشن جماعت پیپلز پاور پارٹی کی جانب سے فلِبسٹر اور اجلاس کے بائیکاٹ کو قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ کے اسپیکر وو وون شِک کے مطابق مجوزہ ترمیم کو مکمل اجلاس (پلی نری سیشن) میں ووٹ کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا، کیونکہ سیاسی اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بل چھ سیاسی جماعتوں، بشمول حکمران ڈیموکریٹک پارٹی، نے پیش کیا تھا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت صدر کو مارشل لا نافذ کرنے سے قبل پارلیمنٹ کی منظوری لینا لازمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ 48 گھنٹوں کے اندر مارشل لا کی منظوری نہ دے تو اسے خود بخود غیر مؤثر قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب 2024 کے آخر میں سابق صدر یون سوک یول کے مختصر مارشل لا کے نفاذ کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی ترمیم میں ایک اور اہم شق یہ بھی شامل تھی کہ جنوبی کوریا کی جمہوری تاریخ کے اہم واقعے، گوانگجو بغاوت، کو آئین کے دیباچے میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505066/south-korea-parliament-drops-constitutional-amendment'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے لیے کم از کم 191 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، تاہم اسپیکر کے مطابق مطلوبہ اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں جمعرات کو ہونے والا ووٹ بھی ناکام رہا تھا، جب اپوزیشن جماعت نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور کورم پورا نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدراتی دفتر نے ترمیمی بل کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ وہ آئینی اصلاحات پر بات چیت جاری رکھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے مارشل لا سے متعلق آئینی ترمیم کے بل پر ووٹنگ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ اپوزیشن جماعت پیپلز پاور پارٹی کی جانب سے فلِبسٹر اور اجلاس کے بائیکاٹ کو قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پارلیمنٹ کے اسپیکر وو وون شِک کے مطابق مجوزہ ترمیم کو مکمل اجلاس (پلی نری سیشن) میں ووٹ کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا، کیونکہ سیاسی اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>یہ بل چھ سیاسی جماعتوں، بشمول حکمران ڈیموکریٹک پارٹی، نے پیش کیا تھا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت صدر کو مارشل لا نافذ کرنے سے قبل پارلیمنٹ کی منظوری لینا لازمی ہوگا۔</p>
<p>بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ 48 گھنٹوں کے اندر مارشل لا کی منظوری نہ دے تو اسے خود بخود غیر مؤثر قرار دیا جائے۔</p>
<p>یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب 2024 کے آخر میں سابق صدر یون سوک یول کے مختصر مارشل لا کے نفاذ کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا۔</p>
<p>آئینی ترمیم میں ایک اور اہم شق یہ بھی شامل تھی کہ جنوبی کوریا کی جمہوری تاریخ کے اہم واقعے، گوانگجو بغاوت، کو آئین کے دیباچے میں شامل کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505066/south-korea-parliament-drops-constitutional-amendment'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے لیے کم از کم 191 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، تاہم اسپیکر کے مطابق مطلوبہ اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>پہلے مرحلے میں جمعرات کو ہونے والا ووٹ بھی ناکام رہا تھا، جب اپوزیشن جماعت نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور کورم پورا نہ ہو سکا۔</p>
<p>صدراتی دفتر نے ترمیمی بل کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ وہ آئینی اصلاحات پر بات چیت جاری رکھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505066</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:29:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/08121223a691f81.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/08121223a691f81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
