<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:18:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:18:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلم ’’میرا لیاری‘‘ کراچی کے قدیم علاقے کی اصل تصویر دکھانے میں کتنی کامیاب رہی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505144/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی سینما میں اکثر دو طرح کی فلمیں بنتی رہی ہیں۔ ایک وہ جن میں کراچی صرف گولی، گینگ اور گرد کے بادلوں میں لپٹا نظر آتا ہے، اور دوسری وہ جن میں حقیقت سے زیادہ خواب بیچے جاتے ہیں۔ لیکن ’’میرا لیاری‘‘ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کھڑی ایک ایسی فلم محسوس ہوتی ہے جو کم از کم یہ دعویٰ ضرور کرتی ہے کہ لیاری کو اس کے اصل چہرے کے ساتھ دیکھا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض ایک اسپورٹس ڈرامہ فلم  نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو برسوں سے لیاری پر چسپاں ’’خوف‘‘ کے پوسٹر اتار کر وہاں کے میدان، خواب، لڑکیاں، فٹبال اور زندگی دکھانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم کے ٹریلر سے لے کر ریلیز تک سوشل میڈیا پر اس کے گرد ایک غیر معمولی بحث دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائشہ عمر نے صرف اداکاری ہی نہیں بلکہ بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی اس منصوبے میں حصہ لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے 2024 میں ’’ٹکسالی گیٹ‘‘ سے بطور پروڈیوسر سفر شروع کیا تھا، اور اب ’’میرا لیاری‘‘ میں وہ زیادہ سنجیدہ اور سماجی موضوع کے ساتھ سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنانیر مبین کے لیے یہ فلم خاص اہمیت رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا شہرت کے بعد بڑے پردے پر انہیں اکثر ہلکے پھلکے انداز میں دیکھا گیا، مگر’’میرا لیاری‘‘ میں وہ ایک ایسے کردار میں نظر آتی ہیں جو صرف معصوم نہیں بلکہ مزاحمت بھی کرتا ہے۔ شاید اسی لیے اداکارہ مایا علی نے بھی ان کے لُک اور کردار کی تعریف کرتے ہوئے فلم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کا سب سے دلچسپ پہلو اس کے گرد بننے والا ’’بیانیاتی تنازع‘‘ ہے۔ بھارتی فلم ’’دھریندر‘‘ میں لیاری کی منفی تصویر دکھائے جانے کے بعد ’’میرا لیاری‘‘ کو کئی لوگوں نے اس کا جواب قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی کہانی ایک معذور فٹبال کوچ کے گرد گھومتی ہے، جسے عائشہ عمر نے ادا کیا ہے۔ وہ برسوں بعد لیاری واپس آتی ہیں تاکہ لڑکیوں کی فٹبال ٹیم تیار کرسکیں۔ یہاں افسانہ (دنانیر مبین) اور کشمالہ جیسے کردار سامنے آتے ہیں جو اپنے گھریلو دباؤ، سماجی رکاوٹوں اور خوف کے باوجود فٹبال کو اپنی آزادی اور شناخت کا راستہ بناتے ہیں۔ یہ وہی لیاری ہے جسے میڈیا نے اکثر بندوق کے شور میں دکھایا، مگر فلم اسے فٹبال کے شور میں پیش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدایتکار ابو علیحہ کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ انہوں نے لیاری کو ’’لوکیشن‘‘ نہیں بلکہ ’’کردار‘‘ کے طور پر استعمال کیا۔ فلم کی شوٹنگ حقیقی لیاری میں کی گئی، 80 فیصد کاسٹ مقامی افراد پر مشتمل ہے، اور یہی چیز فلم کو مصنوعی ہونے سے بچاتی ہے۔ بعض مناظر میں کیمرہ کسی فلم سے زیادہ دستاویزی فوٹیج محسوس ہوتا ہے، اور یہی اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ طاقت اس لیے کہ حقیقت نظر آتی ہے، کمزوری اس لیے کہ کہیں کہیں کہانی سست پڑ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کی کاسٹ میں عائشہ عمر، دنانیر مبین، سمیعہ ممتاز، نایئر اعجاز، پارس مسرور، عدنان شاہ ٹیپو اور شعیب حسن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ عائشہ عمر نے واضح کہا کہ ’’میرا لیاری کسی پروپیگنڈے کا جواب نہیں بلکہ حقیقت ہے‘‘، مگر سوشل میڈیا پر اسے ایک ’’ثقافتی ردعمل‘‘ کے طور پر ضرور دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496772'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496772"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے لکھا ’’حقیقی لیاری وہ نہیں جو بھارتی فلم ’دھرندر‘ میں دکھایا گیا، بلکہ اصل چہرہ ’’میرا لیاری‘‘ میں نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا  ’’یہ صرف فلم نہیں، لیاری کی روح، اس کی مزاحمت اور خوابوں کی کہانی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جذباتی جملے شاید کسی فلمی مہم کا حصہ ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ “میرا لیاری” نے کم از کم لوگوں کو لیاری کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور ضرور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر فلم کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ کسی نے اسے ’’امید کی کہانی‘‘ کہا، کسی نے ’’خواتین کی آزادی کا استعارہ‘‘  قرار دیا، جبکہ کئی لوگوں نے اس کی حقیقت پسندی کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف علی سجاد شاہ نے تو یہاں تک لکھا ’’آپ بیٹی کے باپ ہیں تو یہ فلم دیکھنا آپ پر لازم ہے اور اگر آپ بیٹی ہیں تو یہ فلم آپ کے لیے بنائی گئی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ہر ردعمل تعریف پر مشتمل نہیں تھا۔ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی لیاری کی لڑکیوں کو اسی انداز میں دکھایا جاتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک خاتون صارف نے اعتراض کیا ’’جب کسی خاص علاقے پر فلم بنتی ہے تو وہاں کے لباس اور ماحول کی نمائندگی بھی حقیقت کے قریب ہونی چاہیے، کیا لیاری کی لڑکیاں واقعی ایسے گھومتی ہیں؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعتراض چھوٹا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر حقیقت پسند فلم کے سامنے آتا ہے ’’حقیقت‘‘ آخر کس کی؟ فلم ساز کی، علاقے کے لوگوں کی یا ناظرین کی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’میرا لیاری‘‘ اسی بحث کے درمیان کھڑی نظر آتی ہے۔ ایک طرف یہ لیاری کے نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں، کو خواب دیکھنے کا حق دیتی ہے، دوسری طرف بعض جگہوں پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ فلم اپنے پیغام کو اتنا نمایاں کرنا چاہتی ہے کہ کہانی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505143/actress-nora-fatehi-to-perform-at-the-fifa-world-cup-2026-opening-ceremony'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505143"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستانی سینما کو ایسی فلموں کی ضرورت ہے۔ ایسی فلمیں جو صرف کامیڈی، رومانوی فارمولا یا بندوقوں کے شور پر انحصار نہ کریں بلکہ شہروں اور لوگوں کی نئی تصویریں سامنے لائیں۔ ’’میرا لیاری‘‘ شاید مکمل فلم نہ ہو، مگر ایک ضروری فلم ضرور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ لندن کے معروف  بی ایف آئی ساوتھ بینک میں منعقدہ 28ویں یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش پاکستانی سینما کے لیے ایک اہم لمحہ سمجھی جا رہی ہے۔ ’’گھوسٹ اسکولز‘‘ کے ساتھ اس کا عالمی پریمیئر اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی فلمیں اب صرف مقامی نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید “میرا لیاری” کی سب سے بڑی کامیابی بھی یہی ہے کہ اس نے لیاری کو خبر نہیں، کہانی بنا دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی سینما میں اکثر دو طرح کی فلمیں بنتی رہی ہیں۔ ایک وہ جن میں کراچی صرف گولی، گینگ اور گرد کے بادلوں میں لپٹا نظر آتا ہے، اور دوسری وہ جن میں حقیقت سے زیادہ خواب بیچے جاتے ہیں۔ لیکن ’’میرا لیاری‘‘ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کھڑی ایک ایسی فلم محسوس ہوتی ہے جو کم از کم یہ دعویٰ ضرور کرتی ہے کہ لیاری کو اس کے اصل چہرے کے ساتھ دیکھا جائے۔</strong></p>
<p>یہ محض ایک اسپورٹس ڈرامہ فلم  نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو برسوں سے لیاری پر چسپاں ’’خوف‘‘ کے پوسٹر اتار کر وہاں کے میدان، خواب، لڑکیاں، فٹبال اور زندگی دکھانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم کے ٹریلر سے لے کر ریلیز تک سوشل میڈیا پر اس کے گرد ایک غیر معمولی بحث دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>عائشہ عمر نے صرف اداکاری ہی نہیں بلکہ بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی اس منصوبے میں حصہ لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے 2024 میں ’’ٹکسالی گیٹ‘‘ سے بطور پروڈیوسر سفر شروع کیا تھا، اور اب ’’میرا لیاری‘‘ میں وہ زیادہ سنجیدہ اور سماجی موضوع کے ساتھ سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>دنانیر مبین کے لیے یہ فلم خاص اہمیت رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا شہرت کے بعد بڑے پردے پر انہیں اکثر ہلکے پھلکے انداز میں دیکھا گیا، مگر’’میرا لیاری‘‘ میں وہ ایک ایسے کردار میں نظر آتی ہیں جو صرف معصوم نہیں بلکہ مزاحمت بھی کرتا ہے۔ شاید اسی لیے اداکارہ مایا علی نے بھی ان کے لُک اور کردار کی تعریف کرتے ہوئے فلم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔</p>
<p>فلم کا سب سے دلچسپ پہلو اس کے گرد بننے والا ’’بیانیاتی تنازع‘‘ ہے۔ بھارتی فلم ’’دھریندر‘‘ میں لیاری کی منفی تصویر دکھائے جانے کے بعد ’’میرا لیاری‘‘ کو کئی لوگوں نے اس کا جواب قرار دیا ہے۔</p>
<p>فلم کی کہانی ایک معذور فٹبال کوچ کے گرد گھومتی ہے، جسے عائشہ عمر نے ادا کیا ہے۔ وہ برسوں بعد لیاری واپس آتی ہیں تاکہ لڑکیوں کی فٹبال ٹیم تیار کرسکیں۔ یہاں افسانہ (دنانیر مبین) اور کشمالہ جیسے کردار سامنے آتے ہیں جو اپنے گھریلو دباؤ، سماجی رکاوٹوں اور خوف کے باوجود فٹبال کو اپنی آزادی اور شناخت کا راستہ بناتے ہیں۔ یہ وہی لیاری ہے جسے میڈیا نے اکثر بندوق کے شور میں دکھایا، مگر فلم اسے فٹبال کے شور میں پیش کرتی ہے۔</p>
<p>ہدایتکار ابو علیحہ کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ انہوں نے لیاری کو ’’لوکیشن‘‘ نہیں بلکہ ’’کردار‘‘ کے طور پر استعمال کیا۔ فلم کی شوٹنگ حقیقی لیاری میں کی گئی، 80 فیصد کاسٹ مقامی افراد پر مشتمل ہے، اور یہی چیز فلم کو مصنوعی ہونے سے بچاتی ہے۔ بعض مناظر میں کیمرہ کسی فلم سے زیادہ دستاویزی فوٹیج محسوس ہوتا ہے، اور یہی اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ طاقت اس لیے کہ حقیقت نظر آتی ہے، کمزوری اس لیے کہ کہیں کہیں کہانی سست پڑ جاتی ہے۔</p>
<p>فلم کی کاسٹ میں عائشہ عمر، دنانیر مبین، سمیعہ ممتاز، نایئر اعجاز، پارس مسرور، عدنان شاہ ٹیپو اور شعیب حسن شامل ہیں۔</p>
<p>اگرچہ عائشہ عمر نے واضح کہا کہ ’’میرا لیاری کسی پروپیگنڈے کا جواب نہیں بلکہ حقیقت ہے‘‘، مگر سوشل میڈیا پر اسے ایک ’’ثقافتی ردعمل‘‘ کے طور پر ضرور دیکھا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496772'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496772"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک صارف نے لکھا ’’حقیقی لیاری وہ نہیں جو بھارتی فلم ’دھرندر‘ میں دکھایا گیا، بلکہ اصل چہرہ ’’میرا لیاری‘‘ میں نظر آتا ہے۔</p>
<p>جبکہ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا  ’’یہ صرف فلم نہیں، لیاری کی روح، اس کی مزاحمت اور خوابوں کی کہانی ہے۔‘‘</p>
<p>یہ جذباتی جملے شاید کسی فلمی مہم کا حصہ ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ “میرا لیاری” نے کم از کم لوگوں کو لیاری کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور ضرور کیا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر فلم کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ کسی نے اسے ’’امید کی کہانی‘‘ کہا، کسی نے ’’خواتین کی آزادی کا استعارہ‘‘  قرار دیا، جبکہ کئی لوگوں نے اس کی حقیقت پسندی کو سراہا۔</p>
<p>ایک صارف علی سجاد شاہ نے تو یہاں تک لکھا ’’آپ بیٹی کے باپ ہیں تو یہ فلم دیکھنا آپ پر لازم ہے اور اگر آپ بیٹی ہیں تو یہ فلم آپ کے لیے بنائی گئی ہے۔‘‘</p>
<p>تاہم ہر ردعمل تعریف پر مشتمل نہیں تھا۔ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی لیاری کی لڑکیوں کو اسی انداز میں دکھایا جاتا ہے؟</p>
<p>ایک خاتون صارف نے اعتراض کیا ’’جب کسی خاص علاقے پر فلم بنتی ہے تو وہاں کے لباس اور ماحول کی نمائندگی بھی حقیقت کے قریب ہونی چاہیے، کیا لیاری کی لڑکیاں واقعی ایسے گھومتی ہیں؟‘‘</p>
<p>یہ اعتراض چھوٹا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر حقیقت پسند فلم کے سامنے آتا ہے ’’حقیقت‘‘ آخر کس کی؟ فلم ساز کی، علاقے کے لوگوں کی یا ناظرین کی؟</p>
<p>’’میرا لیاری‘‘ اسی بحث کے درمیان کھڑی نظر آتی ہے۔ ایک طرف یہ لیاری کے نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں، کو خواب دیکھنے کا حق دیتی ہے، دوسری طرف بعض جگہوں پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ فلم اپنے پیغام کو اتنا نمایاں کرنا چاہتی ہے کہ کہانی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505143/actress-nora-fatehi-to-perform-at-the-fifa-world-cup-2026-opening-ceremony'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505143"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستانی سینما کو ایسی فلموں کی ضرورت ہے۔ ایسی فلمیں جو صرف کامیڈی، رومانوی فارمولا یا بندوقوں کے شور پر انحصار نہ کریں بلکہ شہروں اور لوگوں کی نئی تصویریں سامنے لائیں۔ ’’میرا لیاری‘‘ شاید مکمل فلم نہ ہو، مگر ایک ضروری فلم ضرور ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ لندن کے معروف  بی ایف آئی ساوتھ بینک میں منعقدہ 28ویں یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش پاکستانی سینما کے لیے ایک اہم لمحہ سمجھی جا رہی ہے۔ ’’گھوسٹ اسکولز‘‘ کے ساتھ اس کا عالمی پریمیئر اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی فلمیں اب صرف مقامی نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔</p>
<p>اور شاید “میرا لیاری” کی سب سے بڑی کامیابی بھی یہی ہے کہ اس نے لیاری کو خبر نہیں، کہانی بنا دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505144</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:10:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ماجد علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/09152911c91caa8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/09152911c91caa8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
