<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:20:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:20:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ کا اپنا جنگی بحری جہاز ’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ مشرقِ وسطٰی بھیجنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505151/uk-warship-deployment-middle-east-hormuz-mission-preparation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے جنگی بحری جہاز ’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے ممکنہ بین الاقوامی مشن کی تیاری بتایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/uk/uk-deploys-warship-middle-east-with-eye-potential-hormuz-mission-2026-05-09/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس منصوبہ بندی کا حصہ ہے جو خطے میں کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایچ ایم ایس ڈریگن ایک ایئر ڈیفنس ڈسٹرائر ہے، جسے پہلے مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کیا گیا تھا اور اب اسے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ممکنہ مشترکہ بحری آپریشن کے لیے تیار رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/092021555380a42.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/092021555380a42.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ پیشگی تعیناتی محتاط منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برطانیہ کسی بھی بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق فرانس بھی اسی نوعیت کی تیاری کر رہا ہے اور دونوں ممالک مل کر ایک ایسے سیکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد عالمی تجارتی راستوں میں اعتماد بحال کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SkyNews/status/2053085383051694405'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SkyNews/status/2053085383051694405"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس منصوبے میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کا انحصار خطے کی مجموعی صورتِ حال اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں ممکنہ کمی پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/09200820cf45751.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/09200820cf45751.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے یورپ اور دیگر خطوں میں امریکی فوج کی موجودگی میں کمی، نیٹو اتحادیوں پر تنقید اور یک طرفہ فیصلوں نے واشنگٹن کے روایتی شراکت داروں میں تشویش بڑھا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے پہلے ہی عالمی سطح پر توانائی اور سلامتی کے نظام کو متاثر کیا ہے، جب کہ یورپی ممالک کو اس کے معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے نیٹو اتحاد پر دباؤ بڑھا ہے اور بعض یورپی ممالک اب دفاعی معاملات میں زیادہ خود انحصاری کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ امریکا پر انحصار کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کے بعض اتحادی، خصوصاً یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ واشنگٹن مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران میں غیر متوقع یا غیر مستقل مؤقف اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے جنگی بحری جہاز ’ایچ ایم ایس ڈریگن‘ کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے ممکنہ بین الاقوامی مشن کی تیاری بتایا گیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/uk/uk-deploys-warship-middle-east-with-eye-potential-hormuz-mission-2026-05-09/">رائٹرز</a>‘ کے مطابق برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس منصوبہ بندی کا حصہ ہے جو خطے میں کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایچ ایم ایس ڈریگن ایک ایئر ڈیفنس ڈسٹرائر ہے، جسے پہلے مشرقی بحیرہ روم میں تعینات کیا گیا تھا اور اب اسے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ممکنہ مشترکہ بحری آپریشن کے لیے تیار رکھا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/092021555380a42.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/092021555380a42.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ پیشگی تعیناتی محتاط منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ برطانیہ کسی بھی بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق فرانس بھی اسی نوعیت کی تیاری کر رہا ہے اور دونوں ممالک مل کر ایک ایسے سیکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد عالمی تجارتی راستوں میں اعتماد بحال کرنا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SkyNews/status/2053085383051694405'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SkyNews/status/2053085383051694405"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اس منصوبے میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کا انحصار خطے کی مجموعی صورتِ حال اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں ممکنہ کمی پر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/09200820cf45751.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/09200820cf45751.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے یورپ اور دیگر خطوں میں امریکی فوج کی موجودگی میں کمی، نیٹو اتحادیوں پر تنقید اور یک طرفہ فیصلوں نے واشنگٹن کے روایتی شراکت داروں میں تشویش بڑھا دی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے پہلے ہی عالمی سطح پر توانائی اور سلامتی کے نظام کو متاثر کیا ہے، جب کہ یورپی ممالک کو اس کے معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے نیٹو اتحاد پر دباؤ بڑھا ہے اور بعض یورپی ممالک اب دفاعی معاملات میں زیادہ خود انحصاری کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ امریکا پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کے بعض اتحادی، خصوصاً یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ واشنگٹن مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران میں غیر متوقع یا غیر مستقل مؤقف اختیار کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505151</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:39:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/0920185208a9e5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/0920185208a9e5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
