<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:05:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:05:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زمین نے خزانہ اگل دیا : میانمار میں 11 ہزار قیراط کا دیوہیکل یاقوت دریافت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505164/earth-yields-treasure-massive-11000-carat-ruby-discovered-in-myanmar</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میانمار میں کان کنوں نے ایک انتہائی نایاب اور بڑا یاقوت دریافت کیا ہے جسے ملک کی تاریخ کا دوسرا بڑا یاقوت قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://abcnews.com/International/wireStory/massive-11000-carat-ruby-unearthed-myanmars-war-scarred-132779009?cid=social_twitter_abcn"&gt;اے بی سی نیوز&lt;/a&gt; کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ دریافت اپریل کے وسط میں روایتی نئے سال کے تہوار کے فوراً بعد منڈالے کے شمالی علاقے موگوک میں ہوئی جو قیمتی پتھروں کی صنعت کا گڑھ مانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس یاقوت کا وزن 11 ہزار قیراط یعنی تقریباً 2.2 کلوگرام ہے اور اسے اپنی رنگت اور معیار کی وجہ سے انتہائی قیمتی سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504031/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504031"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پتھر 1996 میں ملنے والے 21,450 قیراط کے یاقوت سے وزن میں آدھا ہے، لیکن اپنی خاص رنگت کی وجہ سے اس کی قدر زیادہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا رنگ اور معیار اسے زیادہ قیمتی بناتے ہیں۔ اس یاقوت کی خصوصیات بتاتے ہوئے ماہرین نے اسے جامنی مائل سرخ رنگ کا قرار دیا ہے جس میں زرد رنگ کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ اس کی سطح انتہائی چمکدار ہے اور رنگ کا معیار بھی بہت بلند درجے کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میانمار دنیا کے تقریباً 90 فیصد یاقوت پیدا کرتا ہے اور یہاں قیمتی پتھروں کی تجارت آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جیسے گلوبل وٹنس مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ میانمار سے قیمتی پتھر نہ خریدے جائیں کیونکہ یہ صنعت طویل عرصے سے ملک کی فوجی حکومتوں کو مالی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503803/a-girl-who-showered-while-wearing-contact-lenses-lost-her-eyesight'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریاستی میڈیا کے مطابق، اس سال میانمار میں انتخابات کے بعد ایک نیا شہری طرز حکومت قائم ہوا، جس کے تحت 2021 کی فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہلائنگ صدر منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرمن آنگ ہلینگ نے حال ہی میں کابینہ اراکین کے ساتھ اپنے دفتر میں اس عظیم الشان یاقوت کا معائنہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر بتایا گیا کہ اگرچہ موگوک کا علاقہ خانہ جنگی کی وجہ سے شدید لڑائی کا مرکز رہا ہے اور مختلف مسلح گروپوں کے زیر اثر بھی رہا، لیکن اب یہ علاقہ دوبارہ انتظامی کنٹرول میں ہے جہاں سے یہ نایاب پتھر برآمد ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قیمتی پتھر اب بھی میانمار میں قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح سے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میانمار میں کان کنوں نے ایک انتہائی نایاب اور بڑا یاقوت دریافت کیا ہے جسے ملک کی تاریخ کا دوسرا بڑا یاقوت قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://abcnews.com/International/wireStory/massive-11000-carat-ruby-unearthed-myanmars-war-scarred-132779009?cid=social_twitter_abcn">اے بی سی نیوز</a> کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ دریافت اپریل کے وسط میں روایتی نئے سال کے تہوار کے فوراً بعد منڈالے کے شمالی علاقے موگوک میں ہوئی جو قیمتی پتھروں کی صنعت کا گڑھ مانا جاتا ہے۔</p>
<p>اس یاقوت کا وزن 11 ہزار قیراط یعنی تقریباً 2.2 کلوگرام ہے اور اسے اپنی رنگت اور معیار کی وجہ سے انتہائی قیمتی سمجھا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504031/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504031"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پتھر 1996 میں ملنے والے 21,450 قیراط کے یاقوت سے وزن میں آدھا ہے، لیکن اپنی خاص رنگت کی وجہ سے اس کی قدر زیادہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس کا رنگ اور معیار اسے زیادہ قیمتی بناتے ہیں۔ اس یاقوت کی خصوصیات بتاتے ہوئے ماہرین نے اسے جامنی مائل سرخ رنگ کا قرار دیا ہے جس میں زرد رنگ کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ اس کے علاوہ اس کی سطح انتہائی چمکدار ہے اور رنگ کا معیار بھی بہت بلند درجے کا ہے۔</p>
<p>میانمار دنیا کے تقریباً 90 فیصد یاقوت پیدا کرتا ہے اور یہاں قیمتی پتھروں کی تجارت آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جیسے گلوبل وٹنس مسلسل یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ میانمار سے قیمتی پتھر نہ خریدے جائیں کیونکہ یہ صنعت طویل عرصے سے ملک کی فوجی حکومتوں کو مالی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503803/a-girl-who-showered-while-wearing-contact-lenses-lost-her-eyesight'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریاستی میڈیا کے مطابق، اس سال میانمار میں انتخابات کے بعد ایک نیا شہری طرز حکومت قائم ہوا، جس کے تحت 2021 کی فوجی حکومت کے سربراہ من آنگ ہلائنگ صدر منتخب ہوئے۔</p>
<p>صدرمن آنگ ہلینگ نے حال ہی میں کابینہ اراکین کے ساتھ اپنے دفتر میں اس عظیم الشان یاقوت کا معائنہ کیا۔</p>
<p>اس موقع پر بتایا گیا کہ اگرچہ موگوک کا علاقہ خانہ جنگی کی وجہ سے شدید لڑائی کا مرکز رہا ہے اور مختلف مسلح گروپوں کے زیر اثر بھی رہا، لیکن اب یہ علاقہ دوبارہ انتظامی کنٹرول میں ہے جہاں سے یہ نایاب پتھر برآمد ہوا ہے۔</p>
<p>یہ قیمتی پتھر اب بھی میانمار میں قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح سے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505164</guid>
      <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:52:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/10122348c9cd47e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/10122348c9cd47e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
