<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 13:11:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 13:11:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کے دور افتادہ جزیرے پر ہنٹا وائرس: برطانوی پیراٹروپرز جہاز سے کودنے پر مجبور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505188/british-paratroopers-lead-airdrop-onto-tristan-da-cunha-for-suspected-hantavirus-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی فوج نے دنیا کے انتہائی دور دراز جزیرے  ٹرسٹن ڈی کونہا پر مشتبہ ہنٹا وائرس کیس کے بعد ایک غیرمعمولی امدادی کارروائی انجام دی ہے۔ برطانوی پیراٹروپرز، طبی ماہرین اور طبی سامان کو فضائی راستے سے جزیرے پر اتارا گیا تاکہ متاثرہ مریض کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برنانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/british-paratroopers-lead-airdrop-onto-tristan-da-cunha-suspected-hantavirus-2026-05-10/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کی رپورٹ میں برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی اہلکار 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے رائل ایئر فورس کے اے 400 ایم طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے جزیرے پر چھلانگ لگائی۔ یہ طیارہ برطانیہ کے آکسفورڈ شائر میں واقع آر اے ایف برائز نارٹن ایئربیس سے روانہ ہوا تھا۔ پہلے یہ اسینشن آئی لینڈ پہنچا اور پھر وہاں سے تقریباً 3 ہزار کلومیٹر جنوب کی طرف پرواز کرتے ہوئے ٹرسٹن ڈی کونہا تک گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فوجی اہلکاروں کے ساتھ آکسیجن سلنڈر اور دیگر طبی سامان بھی جزیرے پر پہنچایا گیا۔ دورانِ پرواز اے 400 ایم طیارے کو ایک آر اے ایف وویجر طیارے کے ذریعے فضا میں ہی ایندھن فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی فوج نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پیراشوٹ کے ذریعے طبی عملہ تعینات کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ طبی سامان بنیادی طور پر ایک برطانوی شہری کے لیے بھیجا گیا تھا، جو ایک کروز شپ کا مسافر تھا۔ اس بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور یہ جہاز 13 سے 15 اپریل کے درمیان ٹرسٹن ڈی کونہا پہنچا تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مذکورہ شخص میں 28 اپریل کو ہنٹا وائرس جیسی علامات ظاہر ہوئیں، تاہم اس کی حالت مستحکم ہے اور اسے آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ جزیرے پر آکسیجن کی شدید کمی ہو چکی تھی، اس لیے مریض تک بروقت طبی امداد پہنچانے کے لیے فضائی امدادی کارروائی ہی واحد ممکنہ راستہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرسٹن ڈی کونہا جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں تقریباً 200 افراد رہتے ہیں۔ اسے دنیا کا سب سے دور آباد جزیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا قریب ترین آباد پڑوسی جزیرہ سینٹ ہیلینا ہے، جو وہاں سے تقریباً 2400 کلومیٹر دور ہے اور کشتی کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً چھ دن لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505091'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جزیرے پر کوئی ہوائی پٹی موجود نہیں، اس لیے عام طور پر یہاں صرف کشتی کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ طبی سہولیات بھی محدود ہیں اور جزیرے پر عام حالات میں صرف دو افراد پر مشتمل طبی ٹیم موجود رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 7 مئی کو فوجی طیارے کے ذریعے پی ای آر ٹیسٹ بھی اسینشن آئی لینڈ پہنچائے گئے تھے، جہاں اسی کروز شپ سے تعلق رکھنے والے ایک اور برطانوی شہری کو اتارا گیا تھا۔ بعد میں اسے طبی امداد کے لیے ساؤتھ افریقہ منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;16 ایئر اسالٹ بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ایڈ کارٹ رائٹ نے کہا کہ آسمان سے پیراٹروپرز، طبی عملے اور طبی سامان کی آمد سے جزیرے کے لوگوں کو یقیناً حوصلہ ملا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی فوج نے دنیا کے انتہائی دور دراز جزیرے  ٹرسٹن ڈی کونہا پر مشتبہ ہنٹا وائرس کیس کے بعد ایک غیرمعمولی امدادی کارروائی انجام دی ہے۔ برطانوی پیراٹروپرز، طبی ماہرین اور طبی سامان کو فضائی راستے سے جزیرے پر اتارا گیا تاکہ متاثرہ مریض کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔</strong></p>
<p>برنانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/british-paratroopers-lead-airdrop-onto-tristan-da-cunha-suspected-hantavirus-2026-05-10/">رائٹرز</a> کی رپورٹ میں برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی اہلکار 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے رائل ایئر فورس کے اے 400 ایم طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے جزیرے پر چھلانگ لگائی۔ یہ طیارہ برطانیہ کے آکسفورڈ شائر میں واقع آر اے ایف برائز نارٹن ایئربیس سے روانہ ہوا تھا۔ پہلے یہ اسینشن آئی لینڈ پہنچا اور پھر وہاں سے تقریباً 3 ہزار کلومیٹر جنوب کی طرف پرواز کرتے ہوئے ٹرسٹن ڈی کونہا تک گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505055'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فوجی اہلکاروں کے ساتھ آکسیجن سلنڈر اور دیگر طبی سامان بھی جزیرے پر پہنچایا گیا۔ دورانِ پرواز اے 400 ایم طیارے کو ایک آر اے ایف وویجر طیارے کے ذریعے فضا میں ہی ایندھن فراہم کیا گیا۔</p>
<p>برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی فوج نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پیراشوٹ کے ذریعے طبی عملہ تعینات کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512e876bc3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ طبی سامان بنیادی طور پر ایک برطانوی شہری کے لیے بھیجا گیا تھا، جو ایک کروز شپ کا مسافر تھا۔ اس بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور یہ جہاز 13 سے 15 اپریل کے درمیان ٹرسٹن ڈی کونہا پہنچا تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مذکورہ شخص میں 28 اپریل کو ہنٹا وائرس جیسی علامات ظاہر ہوئیں، تاہم اس کی حالت مستحکم ہے اور اسے آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505136/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505136"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ جزیرے پر آکسیجن کی شدید کمی ہو چکی تھی، اس لیے مریض تک بروقت طبی امداد پہنچانے کے لیے فضائی امدادی کارروائی ہی واحد ممکنہ راستہ تھا۔</p>
<p>ٹرسٹن ڈی کونہا جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں تقریباً 200 افراد رہتے ہیں۔ اسے دنیا کا سب سے دور آباد جزیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا قریب ترین آباد پڑوسی جزیرہ سینٹ ہیلینا ہے، جو وہاں سے تقریباً 2400 کلومیٹر دور ہے اور کشتی کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً چھ دن لگتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505091'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جزیرے پر کوئی ہوائی پٹی موجود نہیں، اس لیے عام طور پر یہاں صرف کشتی کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ طبی سہولیات بھی محدود ہیں اور جزیرے پر عام حالات میں صرف دو افراد پر مشتمل طبی ٹیم موجود رہتی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل 7 مئی کو فوجی طیارے کے ذریعے پی ای آر ٹیسٹ بھی اسینشن آئی لینڈ پہنچائے گئے تھے، جہاں اسی کروز شپ سے تعلق رکھنے والے ایک اور برطانوی شہری کو اتارا گیا تھا۔ بعد میں اسے طبی امداد کے لیے ساؤتھ افریقہ منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>16 ایئر اسالٹ بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ایڈ کارٹ رائٹ نے کہا کہ آسمان سے پیراٹروپرز، طبی عملے اور طبی سامان کی آمد سے جزیرے کے لوگوں کو یقیناً حوصلہ ملا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505188</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:59:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/11105512006e1fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/11105512006e1fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
