<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 14:45:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 14:45:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پسندیدہ کھانا آہستہ آہستہ کھانا ڈائٹنگ سے بہتر قرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505232/eating-your-favorite-food-slowly-found-better-than-dieting</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم زیادہ کھانا اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ ہمیں کھانے کا ذائقہ بہت پسند ہوتا ہے یا ہم خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ لیکن ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق نے اس خیال کو چیلنج کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق اصل مسئلہ کھانے کا بہت زیادہ شوق نہیں بلکہ کھانے سے حقیقی لطف نہ اٹھانا اور لاپرواہی میں کھانا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر ہم آہستہ کھائیں اور کھانے کا بھرپور مزہ لیں تو یہ ڈائٹنگ کے مقابلے میں موٹاپے کو روکنے کے لیے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/"&gt;جسٹن جے سنگ اور ڈانا ایم سمال &lt;/a&gt;کی 2025 کی ایک حالیہ تحقیق، جس کا عنوان ہے ”لذت کے دفاع میں“ بالکل یہی دلیل دیتی ہے۔&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/"&gt; &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/186755'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/186755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے مطابق موٹاپے اور زیادہ کھانے کی اصل وجہ لذت نہیں بلکہ ہمارے دماغ اور معدے کے درمیان رابطے کا کمزور پڑ جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ہم بہت زیادہ پروسیس شدہ اور مصنوعی خوراک کھاتے ہیں تو ہمارا جسم یہ پہچاننا چھوڑ دیتا ہے کہ ہمارا پیٹ کب بھر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ کھانا دراصل کھانے سے بہت زیادہ محبت کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کے اندرونی اشاروں کی وہ کمزوری ہے جو ہمیں پیٹ بھرنے کا احساس دلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین بھوک کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جسمانی بھوک ہے جب جسم کو واقعی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دوسری وہ بھوک ہے جسے ’ہیڈونک ہنگر‘ یا لذت کی بھوک کہا جاتا ہے۔ یہ بھوک کھانے کی خوشبو، اشتہارات یا دوسروں کو کھاتے دیکھ کر لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا، اشتہارات اور اسٹریس انسان کو بار بار کھانے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ہم ہمیشہ بھوکے نہیں ہوتے، کبھی کبھی ہم صرف اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ کھانا ہمیں اچھا محسوس کرواتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471680'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق جب انسان جلدی میں کھاتا ہے یا ٹی وی اور موبائل کے ساتھ کھاتا ہے تو وہ زیادہ کھا لیتا ہے کیونکہ دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل پہنچنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بہت زیادہ پراسیسڈ خوراک وقت کے ساتھ جسم کے قدرتی اشاروں کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے انسان کو زیادہ ذائقہ دار اور میٹھی یا چکنائی والی غذائیں زیادہ پسند آنے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے کو بوجھ یا گناہ سمجھنے کے بجائے اس سے بھرپور لطف اٹھایا جائے۔ اگر ہم کھانے کے ذائقے اور اس کی بناوٹ پر توجہ دیں تو ہم تھوڑی مقدار میں بھی خود کو مطمئن محسوس کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے ضروری ہے کہ کھانا کھاتے وقت موبائل فون سے دور رہا جائے، نوالہ اچھی طرح چبا کر کھایا جائے اور کھانے کی خوشبو و ذائقے کو محسوس کیا جائے۔ جب انسان سکون سے کھانا شروع کرتا ہے تو اسے بہت زیادہ کھانے کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم زیادہ کھانا اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ ہمیں کھانے کا ذائقہ بہت پسند ہوتا ہے یا ہم خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ لیکن ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق نے اس خیال کو چیلنج کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>تحقیق کے مطابق اصل مسئلہ کھانے کا بہت زیادہ شوق نہیں بلکہ کھانے سے حقیقی لطف نہ اٹھانا اور لاپرواہی میں کھانا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر ہم آہستہ کھائیں اور کھانے کا بھرپور مزہ لیں تو یہ ڈائٹنگ کے مقابلے میں موٹاپے کو روکنے کے لیے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>محققین <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/">جسٹن جے سنگ اور ڈانا ایم سمال </a>کی 2025 کی ایک حالیہ تحقیق، جس کا عنوان ہے ”لذت کے دفاع میں“ بالکل یہی دلیل دیتی ہے۔<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC12614546/"> </a></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/186755'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/186755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تحقیق کے مطابق موٹاپے اور زیادہ کھانے کی اصل وجہ لذت نہیں بلکہ ہمارے دماغ اور معدے کے درمیان رابطے کا کمزور پڑ جانا ہے۔</p>
<p>جب ہم بہت زیادہ پروسیس شدہ اور مصنوعی خوراک کھاتے ہیں تو ہمارا جسم یہ پہچاننا چھوڑ دیتا ہے کہ ہمارا پیٹ کب بھر چکا ہے۔</p>
<p>ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ کھانا دراصل کھانے سے بہت زیادہ محبت کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کے اندرونی اشاروں کی وہ کمزوری ہے جو ہمیں پیٹ بھرنے کا احساس دلاتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین بھوک کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جسمانی بھوک ہے جب جسم کو واقعی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دوسری وہ بھوک ہے جسے ’ہیڈونک ہنگر‘ یا لذت کی بھوک کہا جاتا ہے۔ یہ بھوک کھانے کی خوشبو، اشتہارات یا دوسروں کو کھاتے دیکھ کر لگتی ہے۔</p>
<p>غذائی ماہرین کہتے ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا، اشتہارات اور اسٹریس انسان کو بار بار کھانے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، ہم ہمیشہ بھوکے نہیں ہوتے، کبھی کبھی ہم صرف اس لیے کھاتے ہیں کیونکہ کھانا ہمیں اچھا محسوس کرواتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30471680'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30471680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق جب انسان جلدی میں کھاتا ہے یا ٹی وی اور موبائل کے ساتھ کھاتا ہے تو وہ زیادہ کھا لیتا ہے کیونکہ دماغ کو پیٹ بھرنے کا سگنل پہنچنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ بہت زیادہ پراسیسڈ خوراک وقت کے ساتھ جسم کے قدرتی اشاروں کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے انسان کو زیادہ ذائقہ دار اور میٹھی یا چکنائی والی غذائیں زیادہ پسند آنے لگتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے کو بوجھ یا گناہ سمجھنے کے بجائے اس سے بھرپور لطف اٹھایا جائے۔ اگر ہم کھانے کے ذائقے اور اس کی بناوٹ پر توجہ دیں تو ہم تھوڑی مقدار میں بھی خود کو مطمئن محسوس کریں گے۔</p>
<p>اس لیے ضروری ہے کہ کھانا کھاتے وقت موبائل فون سے دور رہا جائے، نوالہ اچھی طرح چبا کر کھایا جائے اور کھانے کی خوشبو و ذائقے کو محسوس کیا جائے۔ جب انسان سکون سے کھانا شروع کرتا ہے تو اسے بہت زیادہ کھانے کی ضرورت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505232</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:17:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/12120403e5f6828.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/12120403e5f6828.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
