<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 13:10:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 13:10:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوشل میڈیا پر طبی مشوروں کی بھرمار: مستند اور جھوٹے دعوؤں میں فرق کیسے کریں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505266/flood-of-medical-advice-on-social-media-how-to-differentiate-between-authentic-and-fake-claims</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص صحت اور تندرستی کا ماہر بنا نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ مشورے واقعی آپ کے لیے فائدہ مند ہیں؟ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر مشورہ درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ فٹنس، ذہنی صحت اور بیماریوں سے متعلق معلومات سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس سے حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی خبر رساں ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-instagram-fitness-mental-wellness-influencer-coach-4f3b44e71d3c656efd63060f0e42c86d"&gt; اے پی &lt;/a&gt;کے مطابق امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ  ثابت کرتی ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا یا پوڈ کاسٹ سے حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق بتاتی ہے کہ لاکھوں فالوورز رکھنے والے ان انفلوئنسرز میں سے صرف چند افراد ہی طبی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ باقی افراد محض اپنے تجربے یا کاروباری مقاصد کی بنیاد پر مشورے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے۔ معروف فٹنس ٹرینر کورٹنی بابیلیا نے کہا، ’کئی لوگ صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو ماہر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ صرف ایک تجربہ کسی کو مکمل کوچ نہیں بنا دیتا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ایسی معلومات سے بچنا چاہیے جو خوف، حیرت یا جذبات کو بھڑکانے کے لیے پیش کی جائیں۔ ان کے مطابق بعض انفلوئنسرز ویڈیوز کے آغاز میں سنسنی خیز دعوے صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ویڈیو آپ کو خوفزدہ کرے یا بہت زیادہ حیران کن دعوے کرے تو رک کر سوچیں۔ نیویارک کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر فاطمہ داؤد یلماز نے بھی خبردار کیا کہ صحت، طب یا سائنس کے معاملے میں تمام آراء برابر نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689/who-should-avoid-drinking-lassi-in-the-summer-as-it-can-be-harmful'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ پیسے کمانے کے لیے بیٹھے ہیں اور ان کا مالی فائدہ انہیں مخصوص معلومات پھیلانے پر اکسا سکتا ہے، اس لیے ہر بات کو حتمی نہ سمجھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی طبی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے ضرور رابطہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفسیاتی معالج نیدرا گلوور تواب نے کہا کہ ذمہ دار ماہرین ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص کے مسئلے کو ایک جیسا قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر اپنی بیماری کی علامات نظر آئیں تو اسے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے اس کے ذرائع چیک کریں اور یہ دیکھیں کہ کیا وہ سائنسی بنیادوں پر درست ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ صحت سے متعلق مواد جان بوجھ کر تلاش نہیں کرتے بلکہ اسکرولنگ کے دوران ان کے سامنے آ جاتا ہے۔یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محقق ایش ملٹن کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا نظام آپ کو صرف چیزیں دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے، اسے کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو خود کوشش کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے اس ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو آپ کی طبی تاریخ سے واقف ہو۔ ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق طبی ماہرین اپنے مشوروں کے لیے قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر موجود افراد پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیشہ اس ڈاکٹر سے بات کریں جو آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص صحت اور تندرستی کا ماہر بنا نظر آتا ہے، لیکن کیا یہ مشورے واقعی آپ کے لیے فائدہ مند ہیں؟ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر مشورہ درست یا محفوظ نہیں ہوتا۔</strong></p>
<p>نئی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ فٹنس، ذہنی صحت اور بیماریوں سے متعلق معلومات سوشل میڈیا اور پوڈکاسٹس سے حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث غلط معلومات پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی خبر رساں ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/tiktok-instagram-fitness-mental-wellness-influencer-coach-4f3b44e71d3c656efd63060f0e42c86d"> اے پی </a>کے مطابق امریکی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ  ثابت کرتی ہے کہ امریکہ میں ہر 10 میں سے 4 بالغ افراد صحت سے متعلق معلومات سوشل میڈیا یا پوڈ کاسٹ سے حاصل کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505227/is-your-weight-gaining-back-just-take-a-few-steps-to-keep-it-in-check'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق بتاتی ہے کہ لاکھوں فالوورز رکھنے والے ان انفلوئنسرز میں سے صرف چند افراد ہی طبی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ باقی افراد محض اپنے تجربے یا کاروباری مقاصد کی بنیاد پر مشورے دیتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے۔ معروف فٹنس ٹرینر کورٹنی بابیلیا نے کہا، ’کئی لوگ صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو ماہر ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ صرف ایک تجربہ کسی کو مکمل کوچ نہیں بنا دیتا۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو ایسی معلومات سے بچنا چاہیے جو خوف، حیرت یا جذبات کو بھڑکانے کے لیے پیش کی جائیں۔ ان کے مطابق بعض انفلوئنسرز ویڈیوز کے آغاز میں سنسنی خیز دعوے صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔</p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق اگر کوئی ویڈیو آپ کو خوفزدہ کرے یا بہت زیادہ حیران کن دعوے کرے تو رک کر سوچیں۔ نیویارک کی ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر فاطمہ داؤد یلماز نے بھی خبردار کیا کہ صحت، طب یا سائنس کے معاملے میں تمام آراء برابر نہیں ہوتیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504689/who-should-avoid-drinking-lassi-in-the-summer-as-it-can-be-harmful'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504689"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ پیسے کمانے کے لیے بیٹھے ہیں اور ان کا مالی فائدہ انہیں مخصوص معلومات پھیلانے پر اکسا سکتا ہے، اس لیے ہر بات کو حتمی نہ سمجھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی طبی معلومات پر عمل کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر صحت سے ضرور رابطہ کیا جائے۔</p>
<p>نفسیاتی معالج نیدرا گلوور تواب نے کہا کہ ذمہ دار ماہرین ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص کے مسئلے کو ایک جیسا قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص کو سوشل میڈیا پر اپنی بیماری کی علامات نظر آئیں تو اسے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔</p>
<p>ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی مشورے پر عمل کرنے سے پہلے اس کے ذرائع چیک کریں اور یہ دیکھیں کہ کیا وہ سائنسی بنیادوں پر درست ہے یا نہیں۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگ صحت سے متعلق مواد جان بوجھ کر تلاش نہیں کرتے بلکہ اسکرولنگ کے دوران ان کے سامنے آ جاتا ہے۔یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محقق ایش ملٹن کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا نظام آپ کو صرف چیزیں دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے، اسے کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو خود کوشش کرنی ہوگی۔</p>
<p>ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے اس ڈاکٹر سے مشورہ کریں جو آپ کی طبی تاریخ سے واقف ہو۔ ڈاکٹر فاطمہ کے مطابق طبی ماہرین اپنے مشوروں کے لیے قانونی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ پر موجود افراد پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیشہ اس ڈاکٹر سے بات کریں جو آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505266</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 10:37:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13103639101cac5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13103639101cac5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
